کرکٹ عالمی کپ: انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان زبردست مقابلے کی امید

کرکٹ تاریخ کی دو روایتی حریف ٹیمیں میزبان انگلینڈ اور آسٹریلیا منگل کو لارڈس میدان پر آئی سی سی ورلڈ کپ کے اہم میچ میں آمنے سامنے ہوں گی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

لندن: انگلینڈ کو اپنے گزشتہ مقابلے میں کمزور مانی جا رہی سری لنکا کی ٹیم سے 20 رنز سے الٹ پھیر کا شکار ہونا پڑا تھا اور اس کے لیے اس میچ کو جیت کر اپنی پوزیشن ٹیبل میں بہتر بنانا بے حد ضروری ہوگا تاکہ ہندستان اور نیوزی لینڈ جیسی دو مضبوط ٹیموں کے خلاف میچ سے پہلے وہ اپنی تال قائم رکھ سکے۔وہیں آسٹریلوی ٹیم گزشتہ 6 میچوں میں 10 پوائنٹس لے کر ٹیبل میں نیوزی لینڈ (11 پوائنٹس) کے بعد دوسرے نمبر پر ہے اور اس کی نگاہیں اب اگلے میچ میں ہر حال میں دو پوائنٹس حاصل کرتے ہوئے سیمی فائنل میں جگہ پکی کرنے پر لگی ہیں ۔

آسٹریلیا نے گزشتہ میچ میں بنگلہ دیش کو 48 رنز سے شکست دی تھی اور اس کا پلڑا میزبان ٹیم پر بھاری رہے گا۔ اگرچہ گزشتہ چمپئن ٹیم کو اس میچ میں 381 رن کا بڑا اسکور بنانے کے باوجود بڑے فرق سے کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور اس کے بولر بھی کافی مہنگے رہے۔ ایسے میں باوقار ایشیز سریز کی اپنی حریف انگلینڈ کے خلاف اسے غلطیاں سدھارني ہوں گی۔انگلینڈ نے اب تک عالمی کپ میں جارحانہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن ہدف کا تعاقب کرنے کے معاملے میں وہ کمزور ثابت ہوئی ہے جس سے اسے اپنے دو میچ گنوانے پڑے ہیں۔ عالمی کپ سے پہلے ویسٹ انڈیز میں ہوئی ون ڈے سیریز میں بھی اس کی یہی کمزوری سامنے آئی تھی۔ پاکستان کے خلاف عالمی کپ میچ میں 349 رنز کے ہدف کے سامنے وہ 14 رنز سے اور سری لنکا کے خلاف 233 رنز کے چھوٹے ہدف کا تعاقب کرنے میں بھی اسے 20 رنز سے شکست کھانی پڑی ہے۔

انگلش ٹیم کے پاس بہترین بلے بازی آرڈر ہے، لیکن ہدف کا تعاقب کرنے میں ناکام رہنا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جیسن رائے کی غیر موجودگی ٹیم کیلئے بڑا دھچکا ہے۔ اگرچہ ان کے پاس کئی میچ فاتح ہیں جن میں جانی بیرسٹو جیمز ونس، جو روٹ، بین اسٹوکس، جوس بٹلر اور کپتان مورگن خاص ہیں۔

سری لنکا کے خلاف گزشتہ میچ میں اسٹوکس ناٹ آؤٹ 82 رنز کی اننگز کھیل کر ڈٹے رہے تھے لیکن دوسرے سرے سے ان کی مدد نہیں مل سکی وہیں نچلے آرڈر نے بھی کافی مایوس کیا۔ معین علی نچلے آرڈر کے اچھے رنز اسکورر ہیں لیکن ان کی کارکردگی میں تسلسل کا فقدان ہے۔امید ہے کہ ٹیم آسٹریلیا کے خلاف بھی بغیر کسی تبدیلی کے اتر سکتی ہے۔ ٹیم کو اپنے دو اسپنروں معین اور عادل راشد پر کافی انحصار ہے جو حریف ٹیموں کو بڑے اسکور سے روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ سری لنکا کے خلاف کامیاب رہے جوفرا آرچر اور مارک ووڈ سے بھی آسٹریلیا کے سرکردہ بلے بازوں کو روکنے کی ذمہ داری رہے گی۔ گزشتہ میچ میں دونوں نے 3-3 وکٹ لے کر سری لنکا کو 232 کے چھوٹے اسکور پر روکا تھا۔

وہیں چیمپین آسٹریلیا فی الحال کھیل کے ہر شعبہ میں مضبوط نظر آرہی ہے اور اس کی نگاہیں سیمی فائنل میں اپنی جگہ پکی کرنے پر لگی ہیں۔ ون ڈے فارمیٹ میں گزشتہ کچھ وقت میں ہی اس نے اپنے کھیل میں وسیع سدھار کیا ہے اور ان کے کپتان آرون فنچ بھی کمال کی فارم میں ہیں۔ گھریلو سیزن میں فنچ کی کارکردگی مایوس کن رہی تھی لیکن ہندستان کے خلاف سیریز میں انہوں نے جو تال پکڑی وہ عالمی کپ میں قائم ہے۔

ٹیم کے پاس ڈیوڈ وارنر اور اسٹیون اسمتھ کے طور پر اچھی بیٹنگ جوڑی ہے۔ وارنر کمال کی بلے بازی کر رہے ہیں، گزشتہ میچ میں 106 رنز کی اننگز کھیل کروہ مین آف دی میچ رہے تھے۔ اس کے علاوہ عثمان خواجہ، گلین میکسویل اس کے دوسرے اہم بلے باز ہیں جبکہ گیند بازوں میں مشیل اسٹارک، ناتھن كولٹر نائل، مارکس ا سٹوئنس، پیٹ کمنز اہم ہیں۔اگرچہ ٹیم کئی بار اسٹارک اور کمنز پر زیادہ انحصار نظر آتی ہے۔ نائل کافی اوسط گیند بازی کر رہے ہیں ایسے میں انگلینڈ کے خلاف جیسن بهرینڈرف کو موقع دیا جا سکتا ہے جو ٹیم میں تیسرےفاسٹ بولر کا اچھا انتخاب ہو سکتے ہیں۔

Published: 25 Jun 2019, 1:10 PM