آئر لینڈ 38 رن پر ڈھیر، واحد ٹیسٹ میں انگلینڈ 143 رن سے فتحیاب

پہلی اننگ میں مایوس کن کارکاردگی کا مظاہرہ کرنے والی عالمی چیمپین ٹیم انگلینڈ نے تیسرے دن واپسی کی اور آئرلینڈ کو 38 رن پر ڈھیر کر دیا، جوکہ ٹیسٹ تاریخ کا ساتواں سب سے کم اسکور ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لندن: کرس ووکس (17 رن پر 6 وکٹ) اور اسٹورٹ براڈ (19 رن پر 4 وکٹ) کی قہر برپا کرتی گیندوں سے انگلینڈ نے آئرلینڈ کو دوسری اننگز میں جمعہ کو 15.4 اوور میں محض 38 رن پر آؤٹ کرکے واحد ٹیسٹ تیسرے ہی دن صبح کے سیشن میں 143 رنز سے جیت لیا۔

ون ڈے کرکٹ میں حال ہی میں عالمی چمپئن بنی انگلینڈ کی ٹیم پہلی اننگز میں پہلے دن لنچ سے پہلے صرف 85 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔ انگلینڈ کی یہ کارکردگی افسوسناک تھی لیکن عالمی چمپئن ٹیم نے تیسرے دن زبردست واپسی کرتے ہوئے آئرلینڈ کو دن میں تارے دکھا دیئے۔ آئر لینڈ کے 38 رنز ٹیسٹ تاریخ کا ساتواں سب سے کم اسکور ہے۔

انگلینڈ نے صبح کل کے نو وکٹ پر 303 رن سے آگے کھیلنا شروع کیا اور اس کی دوسری اننگز اسی اسکور پر ختم ہوئی۔ آئر لینڈ کو پہلی اننگز میں 122 رنز کی برتری ملی تھی اور اسے یہ میچ جیتنے کے لیے 182 رن کا ہدف ملا۔ بارش کی وجہ سے آئر لینڈ کی دوسری اننگز کا آغاز میں تاخیر ہوئی لیکن کھیل شروع ہوتے ہی آئر لینڈ کے وکٹ بارش کے قطروں کی طرح گرے۔

فاسٹ بولر کرس ووکس اور اسٹورٹ براڈ نے ایسا قہر برپاکيا کہ آئر لینڈ کی بلے بازی مکمل طور پر پست ہو گئی۔ ووکس نے 7.4 اوور میں 17 رن دے کر چھ وکٹ لے کر اپنے کیریئر کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا جبکہ براڈ نے آٹھ اوور میں 19 رن دے کر چار وکٹ لئے۔ آئر لینڈ کی پوری اننگز 15.4 اوور میں سمٹ گئی۔ انگلینڈ کی دوسری اننگز میں 92 رن بنانے والے اوپنر جیک ليچ کو پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ ملا۔

اوپنر جیمز میک کولم 11 رنز بنا کر دھائی کے ہندسے تک پہنچنے والے واحد بلے باز رہے۔ آئر لینڈ کا پہلا وکٹ 11 کے اسکور پر گرا اور اس کے بعد اس کے بلے بازوں میں جیسے پویلین لوٹنے کی دوڑ لگ گئی اور اگلے 27 رنز کے وقفے میں اس کے تمام وکٹ گر گئے۔

آئر لینڈ نے پہلی اننگز میں جو مظاہرہ کیا تھا اس کے بلے باز دوسری اننگز میں اسے نہیں دہرا سکے اور صبح 90 منٹ کے کھیل میں اس کے بلے بازوں نے اپنے ہتھیار ڈال دیئے۔ آئر لینڈ کے پاس اپنی پہلی ٹیسٹ فتح حاصل کرنے کا اچھا موقع تھا لیکن اس کے بلے باز مایوس کر گئے۔

میک کولم کے بعد ٹیم کا دوسرا بڑا اسکور مارک ایڈئير کا آٹھ رن تھا۔ ایڈئير نے آئر لینڈ کی اننگز کا واحد چھکا بھی مارا۔ کیون اوبرائن جیسے تجربہ کار بلے باز چار رنز اور کپتان ولیم پورٹرفيلڈ دو رن ہی بنا سکے۔ ٹیسٹ تاریخ میں یہ چوتھا موقع ہے جب کوئی ٹیم سب سے کم گیندیں کھیل کر آؤٹ ہوئی ہے۔

ٹیسٹ تاریخ میں یہ پانچواں موقع ہے جب کسی ٹیم نے پہلی اننگز میں پانچوا ں کم اسکور بنایا ہو اور اس کے بعد ٹیسٹ میچ جیت لیا ہو۔ انگلینڈ کے پہلی اننگز میں 85 رنز کا 112 برسوں میں پہلی اننگز میں سب سے کم اسکور تھا۔ انگلینڈ نے اس سے پہلے 1907 میں لیڈز میں جنوبی افریقہ کے خلاف پہلی اننگز میں 76 رنز بنانے کے بعد ٹیسٹ میچ جیتا تھا۔

Published: 26 Jul 2019, 8:10 PM
next