انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کو مشترکہ فَاتح قرار دیا جانا چاہیے تھا: سابق کرکٹرس

نیوزی لینڈ نے اپنی اننگز میں 16 باؤنڈری لگائیں جبکہ انگلینڈ نے 24 باؤنڈری لگائی تھیں۔ انگلینڈ اس بنیاد پر فاتح بن گیا ہے۔ انگلینڈ کے سابق کپتان اسٹیفن فلیمنگ نے صرف ایک لفظ میں اپنی رائے دی، ’سفاکانہ‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: عالمی کپ فائنل میں سپر اوور بھی ٹائی ہو جانے کے بعد سب سے زیادہ باؤنڈری کی بنیاد پر انگلینڈ کو فاتح قرار دینے پر سابق کرکٹرز نے آئی سی سی کے اس ضابطے کو کافی سفاکانہ بتایا اور کئی کھلاڑیوں نے کہا کہ دونوں ٹیموں کو مشترکہ طور پر فاتح قرار دیا جانا چاہیے تھا۔

عالمی کپ کی تاریخ کے سب سے دلچسپ مقابلے میں انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو شکست دے کر پہلی بار فاتح بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ دونوں ٹیموں کے 50 اوور کے بعد 241 رن کا اسکور رہا تھا۔ اس کے بعد پہلی بار عالمی کپ میں سپر اوور کا سہارا لیا گیا جس میں دونوں ٹیموں نے 15-15 رن بنائے۔ آئی سی سی قوانین کے مطابق سپر اوور ٹائی رہنے پر وہی ٹیم فاتح بنتی ہے جس نے مقررہ 50 اوور کے دوران زیادہ باؤنڈری ماری ہوں۔

نیوزی لینڈ نے اپنی اننگز میں 16 باؤنڈری لگائی تھیں جبکہ انگلینڈ نے 24 باؤنڈری لگائی تھیں۔ انگلینڈ اس بنیاد پر فاتح بن گیا ہے۔ انگلینڈ کے سابق کپتان اسٹیفن فلیمنگ نے اس پر صرف ایک لفظ میں اپنی رائے دی، "سفاکانہ"

ہندستانی ٹیسٹ بلے باز چتیشور پجارا نے بھی کہا کہ نیوزی لینڈ کے لیے یہ ہار بدقسمتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اس مقابلے میں کوئی بھی ٹیم نہیں ہاری۔ دونوں کو فاتح ٹرافی دی جانی چاہیے تھی۔ آئی سی سی کو اپنے اس ضابطے کے بارے میں دوبارہ سوچنا چاہیے۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا اس لئے کوئی اس بارے میں سوچ نہیں پایا۔

فائنل میں مین آف دی میچ بنے بین اسٹوکس کے والد جیرارڈ اسٹوکس کا بھی خیال ہے کہ فاتح ٹرافی کو دونوں ٹیموں میں تقسیم کیا جانا چاہیے تھا۔ جیرارڈ نیوزی لینڈ کے سابق رگبی انٹرنیشنل کھلاڑی ہیں اور انہوں نے فائنل میں اپنے بیٹے کی کارکردگی پر خوشی کا اظہار کیا۔ بین اسٹوکس کی پیدائش کرائسٹ چرچ میں ہوئی تھی اور وہ 12 سال کی عمر تک نیوزی لینڈ میں رہے تھے جس کے بعد ان کا خاندان انگلینڈ چلا گیا تھا جہاں جیرارڈ کو رگبی کی کوچنگ کام ملا تھا۔

سابق ہندستانی کرکٹر گوتم گمبھیر نے بھی اس ضابطے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اتنے بڑے ٹورنامنٹ کے فائنل کا فیصلہ اس بنیاد پر ہو سکتا ہے کہ کس نے زیادہ باؤنڈری لگائیں۔ مضحکہ خیز ضابطہ۔ ٹائی مان کر دونوں کو فاتح قرار دینا چاہیے تھا۔ میں دونوں ٹیموں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جنہوں نے اتنا زبردست فائنل کھیلا۔ میرے لئے دونوں فاتح ہیں کرکٹ آئیکن سچن تندولکر نے کہا کہ زبردست مقابلہ۔ پہلی سے لے کر 612 ویں گیند تک۔ مجھے نیوزی لینڈ کے لیے دکھ ہو رہا ہے جس نے جیتنے کے لئے انگلینڈ کی طرح سب کچھ کیا لیکن آخر میں چوک گئے۔

سابق ہندستانی کرکٹر وریندر سہواگ نے کہا کہ نیوزی لینڈ نے زبردست مقابلہ کیا لیکن اوور تھرو پر اسٹوکس کے بلے کا ڈفلیکشن اور انگلینڈ کو باؤنڈری ملنا میچ کا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ نیوزی لینڈ کے لیے المناک جو قریب پہنچ کر بھی وہ خطاب سے دور رہے۔ لیکن انہیں خود پر فخر ہونا چاہیے۔

نیوزی لینڈ کے سابق کرکٹر اسکاٹ اسٹائرس نے اس ضابطے کو ایک مذاق بتایا۔ انگلینڈ کے سابق کرکٹر مائیکل وان نے فائنل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ٹیم ہارنا نہیں چاہتی تھی۔

Published: 15 Jul 2019, 8:10 PM