ہندوستانی ٹیسٹ ٹیم میں عدم شمولیت سے مایوس سرفراز خان نے سنچری لگا کر سلیکٹرس کو دیا جواب

رنجی ٹرافی کے ایک میچ میں سرفراز خان نے 125 رنوں کی اننگ کھیلی، فرسٹ کلاس میچز میں سرفراز کی یہ 13ویں سنچری ہے، گزشتہ سات پاریوں میں انھوں نے تیسری بار سنچری بنائی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سرفراز خان، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

سرفراز خان، تصویر آئی اے این ایس

user

قومی آوازبیورو

گزشتہ کچھ دنوں سے کرکٹر سرفراز خان سرخیوں میں ہیں۔ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے ہندوستانی ٹیم کا انتخاب ہو چکا ہے، لیکن اس میں سرفراز خان کا نام موجود نہیں ہے جو کہ گھریلو کرکٹ میں لگاتار رنوں کا انبار لگا رہے ہیں۔ ٹیسٹ ٹیم میں سوریہ کمار یادو کا نام دیکھ کر کئی سابق ہندوستانی کرکٹرس اور ماہرین نے بھی حیرانی کا اظہار کیا اور کہا کہ سرفراز خان کے فارم کو دیکھتے ہوئے انھیں موقع ملنا چاہیے تھا۔ مایوسی کا اظہار سرفراز خان نے بھی اشاروں اشاروں میں سوشل میڈیا کے ذریعہ کیا، لیکن اب انھوں نے ہندوستانی سلیکٹرس کو رنجی ٹرافی کے ایک میچ میں سنچری لگا کر سخت جواب دیا ہے۔

آج رنجی ٹرافی کے ایک میچ میں انھوں نے 125 رنوں کی اننگ کھیلی۔ فرسٹ کلاس میچز میں یہ سرفراز کی 13ویں سنچری ہے۔ گزشتہ سات پاریوں میں انھوں نے تیسری بار سنچری اسکور بنایا ہے۔ رنجی کے اس سیزن میں آٹھ پاریوں میں سرفراز 500 سے زیادہ رن بنا چکے ہیں۔ سرفراز نے جب اپنی سنچری مکمل کی تو ممبئی کے کوچ امول مجومدار نے اپنی ٹوپی اتار کر ان کا استقبال کیا۔ قابل ذکر ہے کہ امول مجومدار نے رنجی کے 171 میچوں میں 11167 رن بنائے ہیں اور انھیں کبھی ہندوستانی ٹیم کے لیے کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔ وہ وسیم جعفر کے بعد رنجی تاریخ میں سب سے زیادہ رن بنانے والے بلے باز ہیں۔ سرفراز کے ہندوستانی ٹیسٹ ٹیم میں نہ چنے جانے کے درد کو امول مجومدار سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے۔ غالباً اسی لیے انھوں نے سرفراز کی سنچری پر اپنی ٹوپی اتار کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔ امول مجومدار کا یہ انداز لوگوں کو بہت پسند آ رہا ہے اور یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔


واضح رہے کہ سرفراز خان نے رنجی ٹرافی 22-2021 میں 6 میچوں میں 122.75 کی اوسط سے 982 رن بنائے تھے۔ تب انھوں نے دو سنچری اور چار نصف سنچری اسکور کیا تھا۔ 20-2019 میں 6 میچوں میں انھوں نے 154.66 کی اوسط سے 928 رن بنائے تھے۔ سرفراز کے بلے سے اس وقت بھی دو سنچری اور تین نصف سنچری نکلی تھی۔ سرفراز کو بنگلہ دیش کے خلاف گزشتہ سال دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے بھی نہیں منتخب کیا گیا تھا، لیکن ان کی بہترین کارکردگی کو دیکھتے ہوئے لوگ امید کر رہے تھے کہ آسٹریلیا کے خلاف موقع مل جائے گا۔ لیکن سوریہ کمار یادو کو سرفراز خان پر ترجیح دی گئی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔