کرکٹ: اجیت اگرکر نے وہ کارنامہ کر دکھایا جو تندولکر اور پونٹنگ بھی نہیں کر سکے

سال 2000 میں زمبابوے کی ٹیم انڈیا آئی تھی، میزبان ٹیم کے ساتھ اسے 5 ایک روزہ میچوں کی سریز کھیلنی تھی، آخری میچ میں اگرکر نے ایک ایسا ریکارڈ بنایا جسے ٹیم انڈیا کا کوئی بھی کھلاڑی نہیں توڑ پایا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: جب بھی کوئی نوجوان کرکٹر اپنے کریئر کی شروعات کرتا ہے تو اس کا سب سے بڑا خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک کے لئے ایسا کارنامہ انجام دے جسے طویل عرصے تک یاد رکھا جاسکے۔ کرکٹ کی دنیا میں بھی جب کوئی کھلاڑی خواہ وہ گیند باز کی حیثیت سے میدان میں اترے یا پھر بلے بازی کا جوہر دکھانے کے لئے اپنی ٹیم کی جانب سے کھیلے، اس کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ وکٹ حاصل کرے ۔ اگر ایک گیند باز بلے بازی میں بھی مہارت رکھتا ہے تو اس کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ وہ ٹسٹ میچ میں سنچری بنائے۔ لیکن اگر یہ سنچری کسی خاص میدان پر بنے، تو اس کی خوشی دوبالا ہو جاتی ہے۔

ایسا ہی ایک نام ہے ہندستانی تیز گیند باز اجیت اگر کر کا، جنہوں نے بطور گیند باز ہندستانی ٹیم میں شمولیت حاصل کی۔ اجیت اگر کا پورا نام اجیت بھا ل چندر اگر ہے۔ ان کی پیدائش 4 دسمبر 1977 کو ممبئی میں ہوئی تھی۔ وہ دائیں ہاتھ کے تیز گیند باز ہونے کے علاوہ بلے بازی میں بھی جوہر دکھاتے تھے۔ اجیت اگر نے اپریل 1998 میں آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے میچ سے اپنے کرکٹ کریئر کا آغاز کیا۔

ان کا بچپن ممبئی میں ہی گزرا۔ انہوں نے ممبئی میں ماٹونگا کے ایک کالج سے تعلیم مکمل کی اور اس کے ساتھ ہی رماکانت اچریكر سے کوچنگ بھی لیتے رہے۔ اس دوران انہیں 1996 میں فرسٹ کلاس اور اے زمرے کے میچوں میں کھیلنے کا موقع ملا۔ انہیں ممبئی کی جانب سے بھی کھیلنے کا موقع ملا۔

ٹیم انڈیا ے ٹسٹ و ونڈے فارمیٹ میں ویسے تو کئی عظیم کھلاڑی رہے ہیں ، لیکن ایک روزہ میچوں میں ٹیم انڈیا کے ایک کھلاڑی نے ایسا کارنامہ انجام دیا تھا جسے آج تک کوئی نہیں توڑ پایا۔ یہ وہ کھلاڑی ہے جس نے ٹیم انڈیا میں بطور میڈیم فاسٹ گیند باز کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی تھی۔ خیال رہے ، سال 2000 کے دسمبر میں زمبابوے کی ٹیم انڈیا آئی تھی، میزبان ٹیم کے ساتھ زمبابوے کو پانچ ایک روزہ میچوں کی سریز کھیلنی تھی۔ اس سیریز کے آخری میچ میں ٹیم انڈیا کے کھلاڑی اگرکر نے ایک ایسا ریکارڈ بنایا تھا جسے ٹیم انڈیا کا کوئی بھی کھلاڑی نہیں توڑ پایا۔ ایک روزہ میچوں میں سب سے کم گیندوں پر نصف سنچری بنانے والے ہندوستانی بلے باز اجیت اگر کر جنہوں نے زمبابوے کے خلاف 21 گیندوں پر یہ ریکارڈ قائم کیا ۔اسی کے ساتھ وہ سب سے کم ون ڈے میچوں میں 50 وکٹ لینے والے ہندستانی گیند باز بھی ہیں۔

ونڈے کے لحاظ سے بات کریں تو اجیت کا ریکارڈ انتہائی شاندار کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے 191 ونڈے میں 288 وکٹ حاصل کئے۔ 10 بار انہوں نے میچ میں چار اور دو بار پانچ وکٹ حاصل کئے۔ ون ڈے میں 42 رن دے کر چھ وکٹ ان کی بہترین کارکردگی رہی۔ ٹسٹ کرکٹ میں اجیت اگرکر نے 26 میچوں میں 58 وکٹ حاصل کئے۔

بلے بازی میں بھی اجیت نے اپنے بلے بازی کے جوہر دکھائے۔ لارڈز کے میدان پر سنچری بنانے کاکارنامہ ان کے نام پردرج ہے۔ انہوں نے انگلینڈ کے خلاف ناقابل شکست 109 رنوں کی اننگز کھیلی تھی۔ ونڈے میں تین نصف سنچریاں ان کے نام پر ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو اس بات پر شاید یقین نہیں ہوگا کہ ونڈے میں ہندستان کی جانب سے سب سے تیز (21 گیندوں ) میں نصف سنچری لگانے کا ریکارڈ اجیت اگرکر نے اپنے نام کیا۔ انہوں نے سال 2000 میں زمبابوے کے خلاف راج کوٹ میں ناٹ آوٹ 67 رن کی طوفانی اننگز کھیلی تھی۔ اس اننگز میں اجیت نے چار چھکے اور سات چوکے لگائے تھے۔

اجیت اگرکر 135 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے بولنگ کرتے تھے۔ ان کی گیند بازی کا ایکشن مختلف تھا۔ اس کی وجہ سے وہ اپنی گیندوں کی رفتار سے بلے بازوں کو چونکانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اگرکرکی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ وہ نئی اور پرانی دونوں گیند سے وکٹ لینے میں ماہر تھے۔

2003 میں جب ہندوستان نے 20 سال بعد آسٹریلیا میں ٹسٹ میچ جیتا، تو اس جیت میں اگرکر کا بہت بڑا کارنامہ رہا۔ پہلی اننگز میں 556 رنز کا پہاڑ جیسا اسکور بنانے والی کنگا رو ٹیم کو دوسری اننگز میں اگرکر کی خطرناک گندہ بازی نے محض 196 رنز پر ڈھیر کر دیا تھا۔ اگرکر نے محض 41 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں، اور ہندوستان میچ جیت گیا۔ اس طوفانی رفتار سے بڑھ رہے کریئر نے کئی ریکارڈ منہدم کئے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے آسٹریلیا کے ڈینس للی کے سب سے تیز 50 وکٹ لینے کا عالمی ریکارڈ بھی توڑ دیا۔ اگرکر نے یہ ریکارڈ صرف 23 میچوں میں بنایا۔ 1998 میں بنائے گئے اس ریکارڈ کو 2009 میں سری لنکا کے اجنتا مینڈس نے توڑا۔ٹیم انڈیا کے سابق ب آل راؤنڈر اجیت اگرکر بہت سے میچوں میں ہندستان کے لئے یادگار کارکردگی کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔