کرکٹ: یوم جمہوریہ پر فتح کے ارادے سے اترے گی ٹیم انڈیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

آکلینڈ: ہندوستانی ٹیم نے نیوزی لینڈ کے دورے میں کامیاب آغاز سے اپنا حوصلہ مضبوط کر لیا ہے اور ٹیم انڈیا اتوار کو یوم جمہوریہ کے دن دوسرے ٹی -20 میچ میں فتح حاصل کرنے اور پانچ میچوں کی سیریز میں اپنی برتری دو صفر کرنے کے ارادے سے اترے گی۔

ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے ٹیم انڈیا کے مصروف شیڈول پر فکر ظاہر کی تھی لیکن پہلا ٹی -20 مقابلہ جیتنے کے بعد انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا زیاد ہ اہم ہے کہ ٹیم نے نیوزی لینڈ میں پہنچنے کے 48 گھنٹے بعد ہی کامیابی حاصل کی۔ ہندوستان کی آسٹریلیا کے خلاف تین میچوں کی ون ڈے سیریز 19 جنوری کو ختم ہوئی تھی اور اب اسے نیوزی لینڈ کے خلاف پانچ مسلسل ٹی -20 میچ کھیلنے ہیں۔

ہندوستان نے آکلینڈ کے اسی میدان میں پہلے مقابلے میں ہر لحاظ سے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اپنے ٹی -20 تاریخ میں ریکارڈ چوتھی بار 200 سے زیادہ ہدف کا کامیابی سے تعاقب کر کامیابی حاصل کی۔ نیوزی لینڈ نے اگرچہ 203 رن کا مضبوط اسکور بنایا لیکن ہندوستان نے 19 اوور میں ہی میچ ختم کر دیا۔

اس جیت میں ٹیم انڈیا کے لئے سب سے زیادہ مثبت بات یہی رہی کہ اس نے 230 کے اسکور کی طرف بڑھ رہی کیوی ٹیم کو 203 تک محدود کر دیا اور ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے اس نے میچ کو آخری اوور تک نہیں جانے دیا۔ ہندوستان نے چھ گیند پہلے ہی میچ ختم کر دیا۔

ایئر نے پہلی بار بیرون ملک زمین پر کوئی ٹی -20 مقابلہ کھیلا، وہ جب کریز پر اترے تو ان کے کپتان وراٹ آؤٹ ہو چکے تھے. یہ حالت کسی بھی کھلاڑی کو دباؤ میں لا سکتی تھی لیکن ایئر نے تحمل اور حملے کا بہترین تال میل پیش کیا اور میزبان ٹیم کو غلبہ حاصل کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا. ایئر کی یہ اننگز ہندوستانی ٹیم مینجمنٹ کو یقین دلا سکتی ہے، اس کے پاس ایسا بلے باز ہے جو سب سے اوپر اور نچلے آرڈر کے درمیان محور کا کام کر سکتا ہے اور ٹیم کو سنبھال سکتا ہے۔

ٹیم کے اوپنر لوکیش راہل وکٹ کیپر بلے باز کا مسئلہ بھی حل کرتے نظر آ رہے ہیں۔ راہل کی بہترین بلے بازی اور وکٹ کے پیچھے ان کا ٹھیک ٹھاک کارکردگی ٹیم کو ایک توازن دے رہا ہے جو رشبھ پنت کے رہتے نہیں مل پا رہا تھا، راہل کی یہ افادیت نے پنت کو فی الحال الیون سے باہر کر دیا ہے۔

پہلے میچ کی جیت میں ہندوستان کی اگر کوئی فکر رہی تو وہ بولنگ ہو سکتی ہے جس نے میچ میں 200 سے زیادہ رن دے دیئے لیکن نیوزی لینڈ کے میدان چھوٹے ہیں جہاں بڑے اسکور کی توقع کی جا سکتی ہے، ہندوستانی گیند بازوں نے ڈیتھ اووروں میں اگرچہ اچھی بولنگ کی اور میزبان ٹیم کو 220-230 کے اسکور پر جانے سے روک دیا. وراٹ نے بھی پہلے میچ کے بعد گیند بازوں کی تعریف کی کہ انہوں نے کیوی ٹیم کو 230 تک نہیں جانے دیا۔

دوسرا میچ بھی اسی میدان پر ہے اور ہندوستانی ٹیم فتح کے رتھ کو دوسرے مقابلے میں بھی دوڑانے کی کوشش کرے گی جبکہ میزبان ٹیم کی کوشش واپسی کر کے سیریز میں برابری حاصل کرنے کا ہوگا، نیوزی لینڈ کے لئے اس ہار میں بھی اچھی بات یہی رہی کہ اس کے کپتان کین ولیم فارم میں واپس آ چکے ہیں اور کین سمیت اس کے تین بلے بازوں نے نصف سنچری بنائی۔ لیکن میزبان کو اپنی بولنگ کو درست کرنا پڑے گا تاکہ وہ ہندوستانی بلے بازوں پر روک لگا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بلے بازوں کو ڈیتھ اوورز میں ہندستانی گیند باز جسپريت بمراه کی گیند بازی سے بھی نمٹنا ہوگا۔

یہ طے ہے کہ اس سیریز میں بڑے اسکور والے میچ ہوں گے اور ٹیموں کو اس کے لئے تیار رہنا ہوگا۔
ٹیمیں:
ہندوستان - وراٹ کوہلی (کپتان)، روہت شرما، لوکیش راہل، سنجو سیمسن، شريس ایر، منیش پانڈے، رشبھ پنت، شوم دوبے، رویندر جڈیجہ، واشنگٹن سندر، شاردل ٹھاکر، محمد سمیع، يجویندر چہل، جسپريت بمراه، نوديپ سینی اور کلدیپ یادو۔

نيوزی لینڈ: کین ولیمسن (کپتان)، هیمش بینٹ، مارٹن گپٹل، سکاٹ كگلیجن، ڈیرل مچل، کولن منرو، راس ٹیلر، بلیئر ٹکر، مشیل سےٹنر، ٹم سفرٹ، ایش سوڈھی، ٹم ساؤتھی، کولن ڈی گریڈهوم اور ٹام بروس۔