سری لنکا کے خلاف بمراه کی واپسی، عالمی کپ سے پہلے نوجوانوں پر نظر

ٹیم انڈیا اپنے نئے سال کی مہم کا آغاز سری لنکا کے خلاف کرنے جا رہی ہے، گوہاٹی میں سیریز کے پہلے میچ کے دوران اس کی کی نگاہیں آئندہ ورلڈ کپ سے پہلے یوتھ بریگیڈ کی کارکردگی پر لگی ہوں گی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

گوہاٹی: ہندوستانی کرکٹ ٹیم اپنے نئے سال کی مہم کا آغاز سری لنکا کے خلاف کرنے جا رہی ہے اور اتوار کو گوہاٹی میں سیریز کے پہلے ٹوئنٹی 20 بین الاقوامی میچ میں اترے گی جہاں اس کی نگاہیں آئندہ ورلڈ کپ سے پہلے یوتھ بریگیڈ کی کارکردگی پر لگی ہوں گی۔ وراٹ کوہلی کی زیر قیادت ہندوستانی کرکٹ ٹیم کو اس سال آسٹریلیا میں ہونے والے آئی سی سی ٹوئنٹی 20 کپ میں خطاب کا مضبوط دعویدار مانا جارہا ہے، لیکن اس سے پہلے ٹیم کے لیے اپنے بہترین کمبی نیشن کو تلاش کرنا بڑا چیلنج ہے۔ ہندستان نے حال ہی میں اپنے میدان پر بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز سے ٹوئنٹی 20 سیریز میں کافی چیلنجز کا سامنا کیا اور دونوں ہی سیریز میں وہ 2-1 کے فرق سے جیتنے میں کامیاب ہوا۔

اگرچہ ہندستانی ٹیم کو ان دونوں ہی سیریز میں فیلڈنگ، بولنگ اور بیٹنگ تمام شعبوں میں سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جو اس کے واسطے بڑا سبق ثابت ہوئے ہیں۔ اب دیکھنا ہوگا کہ سری کے خلاف ٹیم انڈیا کے کھلاڑی کن شعبوں میں کتنی بہتری کے ساتھ اترتے ہیں۔ موجودہ سیریز میں ا سٹار اوپنر روہت شرما کو آرام دیا گیا ہے لیکن ٹیم کے فاسٹ بولر جسپريت بمراه کی واپسی اہم مانی جا رہی ہے۔وزڈن کی دہائی کی بہترین ٹوئنٹی 20 بین الاقوامی ٹیم میں وراٹ کے ساتھ دیگر ہندوستانی کے طور پر مقام بنانے والے بمراه فی الحال ہندستانی ٹیم کے بہترین تیز گیندبازوں میں شمار کئے جاتے ہیں جن کو ڈیتھ اووروں میں سب سے زیادہ کامیاب تصور کیا جاتا ہے۔ 26 سالہ بمراه اکتوبر 2019 میں جنوبی افریقہ کے خلاف سریز کی شروع میں ہی ٹیم سے باہر ہیں۔ انہوں نے گزشتہ کافی عرصے سے ٹوئنٹی 20 کرکٹ نہیں کھیلا ہے لیکن سری لنکا کے خلاف سریز سے پہلے نیٹ پر جم کر مشق کیا ہے اور ان کی کارکردگی پر سب کی نگاہ رہے گی۔

بمراه کی واپسی جہاں ٹیم کے لئے خوشگوار ہے وہیں بھونیشور کمار اور دیپک چاهر مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہیں اور ان کی واپسی کی میعاد طے نہیں ہے، ایسے میں نوديپ سینی اور شاردل ٹھاکر کے پاس خود کو ثابت کرنے کے لئے ٹیم کے ساتھ زیادہ وقت رہے گا ۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف کٹک میں سینی نے ون ڈے سیریز کے فیصلہ کن میچ میں فلیٹ پچ پر بھی اچھی گیند بازی کی تھی جبکہ ٹھاکر کا مظاہرہ تسلی بخش تھا۔تیز گیند بازوں کے علاوہ ٹیم کے پاس لیفٹ آرم اسپنر رویندر جڈیجہ تجربہ کار کھلاڑی رہے گا اور چائنامین بولر کلدیپ یادو اور يجویندر چہل جیسے اچھے اسپن بالرز کی موجودگی سے ہندستان کا بولنگ شعبہ کسی بھی حریف کے لیے مشکل تر ہو جائے گا۔

روہت کی غیر موجودگی میں ہندستان کے پاس فٹ ہوکر واپس آ رہے سلامی بلے باز شکھر دھون، اچھی فارم میں کھیل رہے لوکیش راہل، خود کپتان وراٹ کوہلی کی مضبوط اوپننگ آرڈر کی تکڑی ہے۔ اوپنگ جوڑی کے طور پر راہل اور دھون کی اچھی مفاہمت ہے اور دونوں بطور جوڑی دار سہولت کے ساتھ کھیلنے میں ماہر ہیں ۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف محدود اوور سیریز میں راہل نے 62، 11، 91، 6، 102 اور 77 کے اسکور بنائے تھے۔راہل اوپننگ میں آسانی سے کھیلتے ہیں اور ٹیم کے لیے بڑے اسکورر ثابت ہوئے ہیں لیکن روہت کی موجودگی کے سبب ورلڈ کپ میں ان کا آرڈر تبدیل ہونا تقریبا طے ہے، ایسے میں راہل کو ہر نمبر پر خود کو ثابت کرنا ضروری ہے اور دیکھنا ہوگا کہ موجودہ سریز میں وراٹ اپنے آرڈر میں کس طرح کی تبدیلیاں کرتے ہیں۔

اوپننگ کے دیگر بلے باز دھون بھی چوٹ کے بعد واپسی کر رہے ہیں اور ان پر بھی جلد ہی فارم میں واپسی کرنے کا دباؤ ہوگا۔ سال 2018 میں وہ 17 اننگز میں 40.52 کی اوسط سے 689 رنز بنا کر ٹاپ اسکورر رہے تھے لیکن پھر چوٹ کی وجہ سے گزشتہ سال ان کی فارم متاثر ہوئی تھی۔ آئی پی ایل کے گزشتہ سیزن میں وہ دہلی كیپٹلس کے ٹاپ اسکورر رہے تھے اور 16 اننگز میں انہوں نے 521 رن بنائے تھے، جس فارم کی ان سے اب توقع بین الاقوامی ٹی -20 میں بھی ہے۔کپتان وراٹ اپنے تیسرے نمبر پر بلے باز مانے جاتے ہیں اور انہیں وزڈن نے بھی اس آرڈر کا ماہر بلے باز مانتے ہوئے اپنی بہترین دہائی کی ٹیم میں بھی اسی آرڈر پر جگہ دی ہے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف آخری ٹی -20 سیریز میں وراٹ نے ممبئی میں ناٹ آؤٹ 70 رن، تھرو اننت پورم میں 19 رنز اور حیدرآباد میں ناٹ آؤٹ 94 رنز کی اننگز کھیلی تھیں۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی -20 سیریز میں کپتان وراٹ کو اپنی ٹیم کی فیلڈنگ نے سب سے زیادہ پریشان کیا تھا اور انہوں نے مسلسل یہ بات دہرائی تھی کہ اگر ٹیم اس طرح کیچ ڈراپ کرتی رہے گی تو وہ میچ نہیں جیت سکتی ہے۔ ایسے میں ٹیم کو فیلڈنگ کے سیکشن میں بھی بڑے پیمانے پر سدھار کرنے ہوں گے۔دوسری طرف سری لنکا کی ٹیم نے اپنی 16 رکنی ٹیم میں سابق کپتان انجیلو میتھیوز کو واپس بلایا ہے جو 16 ماہ کے بعد واپسی کر رہے ہیں۔ میتھیوز نے جنوبی افریقہ کے خلاف اگست 2018 میں آخری ٹی -20 کھیلا تھا جس میں سری لنکا کی ٹیم نے تین وکٹ سے جیت درج کی تھی۔

پاکستان میں بھی سری لنکا کی ٹیم نے 3-0 سے جیت درج کی تھی۔ تاہم آسٹریلیا سے اس 0-3 سے ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا اور عالمی کپ سے پہلے اسے بھی اس کمبی نیشن پر توجہ دینی ہو گی اور تیاری کے لحاظ سے ہندستان کا دورہ اس کے لیے سب سے اہم ہو جائے گا۔ ٹیم کے پاس بھانوكا راجاپكشا، اوشکا فرنانڈو کے طور پر اچھے نوجوان کھلاڑی ہیں۔ سری لنکا کے کپتان لست ملنگا کی ٹیم میں اوشكا اور دانشكا گناتلكا اوپننگ کے مضبوط کھلاڑی ہیں جبکہ تجربہ کار میتھیوز کی واپسی سے بھی ہندستان کو محتاط رہنا ہوگا۔سری لنکا نے ہندوستان میں اپنے آخری پانچ ٹوئنٹی 20 میچ گنوائے ہیں لیکن پاکستان میں جس طرح سے اس کے نوجوان کھلاڑیوں نے متاثر کیا ہے، اس کے بعد مہمان ٹیم ہندستانی کھلاڑیوں کیلئے 'سرپرائز پیکج' ثابت ہو سکتی ہے۔

next