بابر اعظم کا وراٹ کوہلی سے موازنہ غیر منصفانہ : یونس خان

یونس خان نے کہا کہ وراٹ کوہلی نے صرف 30 سال کی عمر میں ہر کنڈیشنز کا سامنا کیا ہے جس میں ان کی بہت زیادہ محنت شامل ہے تاہم بابر اعظم کا ابھی سے وراٹ کوہلی سے موازنہ نہیں کیا جانا چاہیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

لاہور: پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی سے موازنہ غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہارت اور صلاحیت کے اعتبار سے بابر آعظم کو ابھی ایک لمبا سفر طے کرنا ہے۔

ایک کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق پاکستان کے 42 سالہ سابق کپتان یونس خان نے کہا کہ وراٹ کوہلی کو انٹر نیشنل کرکٹ کھیلتے ہوئے 12 سال ہو چکے ہیں، اس دوران وہ 70 انٹر نیشنل سنچریاں بھی اسکور کرچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وراٹ کوہلی نے صرف 30 سال کی عمر میں ہر کنڈیشنز کا سامنا کیا جس میں ان کی بہت زیادہ محنت شامل ہے تاہم بابر اعظم کا ابھی سے وراٹ کوہلی سے موازنہ نہیں کیا جانا چاہیے۔

دونوں کا اس وقت موزانہ کیا جائے جب بابر اعظم بھی اتنے ہی عرصے تک کرکٹ کھیلیں اور اسی عمر میں ہوں جس میں وراٹ کوہلی ابھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابر اعظم کو انٹرنیشنل کرکٹ میں قدم رکھے ہوئے صرف 5 سال ہوئے ہیں اور ان کا کیریئر تعمیر کے مراحلے میں ہے۔ ٹیسٹ اور ون ڈے میں ان کی اوسط قابل رشک ہے، وہ 16 سنچریاں اسکور کر چکے ہیں تاہم اس مقام پر نہیں پہنچے جس پر وراٹ کوہلی موجود ہیں۔

5سالہ کیریئر میں بابر اعظم میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جن کی جھلک وراٹ کوہلی میں دیکھنے کو مل رہی ہیں تاہم اس وقت دونوں کے موازنے سے فائدے کی جگہ نقصان ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بابر اعظم نے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ٹیسٹ کرکٹ میں بھی وہ بہتری کی جانب گامزن ہیں لیکن وراٹ کوہلی تک پہنچنے کے لئے انہیں ابھی وقت درکار ہے۔

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے 31 سالہ کپتان وراٹ کوہلی 70 بین الاقوامی سنچریوں کے علاوہ تینوں فارمیٹس میں اوسطاً 50 سے زیادہ کے حامل ہیں۔ ہندوستان کے کپتان نے 20000 سے زیادہ رنز بنائے ہیں جبکہ 25 سالہ بابر نے 6680 رنز بنائے ہیں حالانکہ پاکستان کے محدود اوورز کے کپتان نے کم میچوں میں نمائندگی کی ہے۔

Published: 18 May 2020, 8:11 PM