عالمی کپ سے باہر ہوئی پاکستانی ٹیم پہنچی گھر، ائیرپورٹ کا نظارہ دیکھ سبھی حیران

پاکستانی کھلاڑیوں کے آنے پر کسی طرح کی کوئی انہونی نہ ہو اور کوئی احتجاجی مظاہرہ نہ ہونے پائے، اس تعلق سے سیکورٹی کے انتظام بہت سخت تھے۔ لیکن ائیرپورٹ پر ماحول بہت خوشگوار دیکھنے کو ملا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

آئی سی سی کرکٹ عالمی کپ 2019 سے باہر ہونے کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم اتوار کو اپنے ملک واپس لوٹی۔ کپتان سرفراز احمد کی قیادت میں ٹیم کراچی ائیر پورٹ پہنچی تو وہاں کا نظارہ حیران کرنے والا تھا۔ دراصل پاکستانی کرکٹ شیدائیوں نے ہندوستان سے ملی شکست اور عالمی کپ سے باہر ہونے پر ٹیم کو سوشل میڈیا پر خوب تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ایسا اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ اگر یہ ٹیم وطن واپس لوٹے گی تو کھلاڑیوں کے ساتھ کچھ بھی انہونی ہو سکتی ہے۔ لیکن ایسا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں ملا۔

پاکستانی کھلاڑیوں کی آمد پر کسی طرح کی کوئی انہونی نہ ہو اور کوئی احتجاجی مظاہرہ بھی نہ ہونے پائے اسے لے کر سیکورٹی انتظام کافی چاق و چوبند تھے۔ لیکن پاکستانی کھلاڑیوں کو لے کر ائیر پورٹ پر نظارہ بالکل الگ تھا۔ ایک جانب ان کے لیے سیکورٹی کے سخت انتظام کیے گئے تھے تو دوسری طرف شیدائی ان کا گرم جوشی سے استقبال کرنے کے لیے کئی گھنٹوں سے کھڑے رہے۔ پھر بھی کھلاڑیوں کو پوری سیکورٹی کے ساتھ ان کے گھر تک پہنچایا گیا۔

بہر حال، پاکستان پہنچنے کے بعد پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے پریس کانفرنس کی اور صحافیوں کے سوالوں کے جواب دئیے۔ انھوں نے کہا کہ ٹیم نے پہلے میچ کی شکست کے بعد رَن ریٹ کے مسئلے کو سمجھا۔ بعد میں اسے سدھارنے کی کوشش بھی کی لیکن پچوں سے مدد نہیں ملی۔

پریس کانفرنس کے دوران سرفراز نے ایک صحافی کو پھٹکار بھی لگائی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے بنگلہ دیش کے لیے بنگالی لفظ کا استعمال کیا تھا۔ دراصل ایک ٹی وی رپورٹر نے سرفراز سے پوچھا تھا کہ بنگالیوں کے خلاف ٹیم مینجمنٹ نے شعیب ملک کو فیئرویل کا موقع کیوں نہیں دیا؟ اس پر سرفراز بولے ’’پلیز یہ لفظ استعمال مت کیجیے۔ یہ آپ کے لیے سوشل میڈیا پر پریشانی کھڑی کر سکتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ کو انھیں بنگلہ دیش کہنا چاہیے۔ آپ قابل اعتراض لفظ استعمال کر رہی ہیں۔‘‘

Published: 8 Jul 2019, 2:10 PM