نفرت کے ماحول میں سوربھ گنگولی کی صاحبزادی کامحبت کا پیغام

سوربھ گنگولی کی صاحبزادی ثنا گنگولی نے سوشل میڈیا کے ذریعہ فرقہ واریت اور مذہبی تعصب کے خلاف مشہور مصنف خوشونت سنگھ کی کتاب کا اقتباس نقل کرکے اشارہ و کنایہ میں اہم پیغام دینے کی کوشش کی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

کولکاتا: شہریت ترمیمی بل کے خلاف ملک بھر میں جاری احتجاج کے دوران بی سی سی آئی کے سربراہ اور ٹیم انڈیا کے سابق کپتان سوربھ گنگولی کی صاحبزادی ثنا گنگولی نے سوشل میڈیا کے ذریعہ فرقہ واریت اور مذہبی تعصب کے خلاف مشہور مصنف خوشونت سنگھ کی کتاب کا اقتباس نقل کرکے اشارہ و کنایہ میں اہم پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔

18سالہ ثنا گنگولی کے اس پوسٹ کی چوطرفہ سراہنا ہورہی ہے۔بڑے بڑے سیلبریٹی کی اولاد سے عموما اس طرح کی پوسٹ کی امیدنہیں کی جاتی ہے مگر ثناگنگولی نے سبھوں سے ہٹ کر اپنے لیے ایک الگ جگہ بنانے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے خوشونت سنگھ کی”دی ینڈ آف انڈیا“ جو 2003میں شایع ہوئی تھی کا ایک اقتباس اپنے انسٹا گرام پر پوسٹ کیا ہے۔

وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہندو ہیں یا عیسائی، بے وقوف زندگی گزار رہے ہیں۔ سنگھ پریوار پہلے ہی بائیں بازو کے مورخوں کو نشانہ بنا چکا ہے، آپ اس گروپ سے باہر نہیں ہوں گے۔ 'تھوڑی دیر کے بعد آپ ایسے لوگوں کو دیکھیں گے جو گوشت کھاتے ہیں، شراب پیتے ہیں، غیر ملکی فلمیں دیکھتے ہیں، تہوار کے موقع پر ہیکل میں نہیں جاتے ہیں، مسواک کے بجائے ٹوتھ پیسٹ کا استعمال کرتے ہیں، ان کو جئے شری رام کہنا مناسب نہیں ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے“۔

ایک ایسے وقت میں جب یہ قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ گنگولی بی جے پی میں شامل ہوسکتے ہیں ایسے میں ان کی صاحبزادی ثنا گنگولی کا یہ پوسٹ قیاس آرائیوں کی نفی کرتا ہے اور یہ تاثر دیتا ہے کہ گنگولی نے اپنی صاحبزادی کی تربیت اس طرح سے کی ہے جہاں عصبیت اور نفرت کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔