یوم القدس اورامام خمینیؒ کا پیغام

امام خمینیؒ نے برملا کہا کہ اگر تمام مسلمان ایک ایک بالٹی پانی اسرائیل پر انڈیل دیں تو اس کا خاتمہ ہو جائے۔

ایران میں اسلامی انقلاب برپا ہونے کے بعد بانی انقلاب حضرت امام خمینی نے جمعۃ الوداع کوعالمی یوم القدس قرار دیا اور اس روز کی اہمیت و ارزش بیان کرتے ہوئے اسے یوم الاسلام اور یوم اللہ و یوم رسول اللہؐ کہااور امت اسلامی کو اسے منانے کی بھی بھرپور تاکید فرمائی۔انہوں نے اسرائیل نامی ناجائز ریاست کو سرطانی جرثومے سے تشبیہ دی اور اس کے خلاف تمام وسائل سے لیس ہو کر امت کو اس کے خلاف جہاد کاسبق پڑھایا ۔اسلام کے اس حقیقی درد آشنا نے ہر موقعہ پر اسرائیل کی نابودی اورامت کے اتحاد کی دعوت دی اور ان خطرات سے خبردار کیا جو مستقبل میں پیش آ سکتے تھے۔

آپ نے ایک موقعہ پر فرمایاکہ آج مسلمانوں کا قبلہ اول، اسرائیل مشرق وسطی میں اس سرطانی پھوڑے کے زیر قبضہ چلا گیا ہے۔ آج وہ پوری طاقت سے ہمارے عزیز فلسطینی اور لبنانی بھائیوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور خاک و خون میں تڑپا رہا ہے۔ آج اسرائیل تمام تر شیطانی وسائل کے ذریعے تفرقہ اندازی کررہا ہے۔ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اپنے آپ کو اسرائیل کے خلاف (ضروری وسائل سے)لیس کرے۔

امام خمینی ؒ نے انقلاب اسلامی سے بہت پہلے امت مسلمہ کے قلب میں اس خنجر( اسرائیل نامی صیہونی ریاست ) کی طرف متوجہ کیا اور ان خطرات سے مسلسل آگاہ و خبردار کیا جو مستقبل میں اس منحوس سازش کے عملی ہونے کے بعد مرتب ہو سکتے تھے۔آپؒ نے اس حوالے سے نہ صرف اپنی صدا بلند کی بلکہ اسلامی مملکتوں کے سربراہوں کو اس مسئلہ کا حل بھی بتاتے رہے،کبھی تو آپ کی آواز ان الفاظ میں خبردار کرتی’’اسلامی ممالک کے سربراہوں کو متوجہ ہونا چاہئے کہ فساد کا یہ جرثومہ (صہیونی ریاست)، جس کو اسلامی سرزمینوں کے قلب میں تعینات کیا گیا ہے صرف عرب اقوام ہی کو کچلنے کے لئے نہیں ہے بلکہ اس کا خطرہ اور ضرر پوری مشرق وسطی کو درپیش ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ دنیائے اسلام پر صہیونیت کا غلبہ ہو اور اسلامی ممالک کی زیادہ سے زیادہ زرخیز اراضی کو استعمار کا نشانہ بنایا جائے اور صرف اسلامی حکومتوں کی جانفشانی، استقامت اور اتحاد کے ذریعے ہی استعمار کے سیاہ خواب سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے اور اگر اسلام کو درپیش اس حیاتی مسئلے میں کسی بھی حکومت نے کوتاہی کی تو دوسری حکومتوں پر لازم ہے کہ اس حکومت کو سزا دیں، اس سے تعلقات توڑ دیں اور دباؤ ڈال کر اس کو اپنے ساتھ چلنے پر آمادہ کریں۔ تیل کی دولت سے مالامال اسلامی ممالک پر لازم ہے کہ تیل اور دوسرے وسائل سے اسرائیل کے خلاف حربے (اور ہتھیار)کے عنوان سے استفادہ کریں اور ان ممالک کو تیل بیچنے پر پابندی لگائیں جو اسرائیل کی مدد کررہے ہیں۔

انبیاء کی سرزمین فلسطین اور قبلۂ اول بیت المقدس پر صیہونیوں کے ناجائز قبضہ کوتقریبا70برس گذر چکے ہیں۔15مئی 1948ءکودنیا پر ناجائز وجود پانے والی ریاست کوامام راحل حضرت خمینی ؒ نے مسلمانوں کے قلب میں خنجر سے تعبیر کیا تھا اور امت کو اس کی آزادی کی راہ جہاد کی صورت دکھائی تھی مگر خائن عرب حکمرانوں نے اسرائیل کے ناپاک وجود کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے سامنے تسلیم ہونے کی ذلت کو گوارا کیانتیجتاً ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسلمان اسی طرح دربدر ہیں۔اگر مسلمان حکمران ایران کا ساتھ دیتے تو اسرائیل کا وجود یقینادنیا سے مٹ چکا ہوتا مگر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ 70برس عالم اسلام کی اجتماعی بے حسی اور مظلوم فلسطینیوں سے مسلم حکمرانوں کے منافقانہ رویوں کی طویل اور دردناک داستانوں سے بھرا ہوا ہے تو دوسری طرف یہ70برس ظلم و بربریت وحشت و درندگی کی قدیم و جدید تاریخ سے بھرپور اور سفاکیت کے انمٹ مظاہروں کی پردردو خوفناک کہانیوں کے عکاس ہیں۔

ان 70 برسوں میں ارضِ مقدس فلسطین میں ہردن قیامت بن کر آئی ہے ،ہر صبح ظلم و ستم کی نئی داستان لے کر طلوع ہوئی ،ہر لمحہ بے گناہوں کے خون سے ،گھر بار ،سڑکیں،بازار ،مساجد و عبادت گاہیں ،اسکول و مدارس کو رنگین کرنے کا پیامبر بن کر آیاہے۔اسرائیل کے حکمرانوں نے ان برسوں میں خون آشامیوں کی جو تاریخ رقم کی ہے اس کی مثال تاریخ کے صفحات بیان کرنے سے قاصر ہیں۔کون سا ظلم ہے ،جو بے گناہ ،معصوم اور مظلوم قرار دیئے گئے ارض مقدس فلسطین کے عوام پر روا نہیں رکھا گیا۔آج دختران فلسطین کی عزتوں کی پامالی کا حساب نہیں،کتابیں اور بیگ اٹھائے اسکول جاتے معصوم بچوں پر بموں کی یلغار اور گولیوں کی بوچھار کے واقعات سے کئی دفتر مرتب ہوچکے ہیں ،سنہرے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے تعلیمی اداروں میں جانے والے ،والدین کی امید ،نوجوانوں کی خون میں اٹی لاشیں اور نوحہ و ماتم کرتی ماؤں اور بہنوں کی چیخ و پکار اور نالہ وفریاد کے مناظر دنیا کے باضمیر انسانوں کو ہرروز جھنجھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آج غزہ کے یہ دلدوزمناظر ،خون آشام داستانیں،روح فرسا کہانیاں ،گولیوں سے چھلنی لاشیں، بہتے لہو کی دھاریں،یہ اجڑتے سہاگ ،یتیمی کا لباس پہنے معصوم بچے ،ضعیفی و ناتوانی کے چھینے گئے سہارے،یہ تاراج بستیاں،برباد کھیت و کھلیان،ٹوٹی سڑکیں،اداس یونیورسٹیاں اور خوف ،وحشت اور ڈر کا چہار سو راج۔یہ ایک دن،ایک مہینہ اور ایک برس کا قصہ و کہانی نہیں بلکہ ظلم کی بنیاد پر وجود میں آنے والی صیہونی ریاست کے قیام میں آنے کے بعد سے ایک ہی منظر روز دوہرایا جاتا ہے۔ہر آنے والا دن ان مظالم میں اضافہ لاتاہے ۔ظلم و زیادتی اورتشدد کی نئی داستان رقم کی جاتی ہے۔اس قتل و غارت ،سفاکیت و بربادی کے پیچھے دراصل ایک فلسفہ و فکر کار فرما ہے۔اسی فلسفہ و فکر کے حامل صیہونی یہودیوں نے بیسویں صدی کے اوائل میں فلسطین کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر اسے اپنے قبضہ میں کرنے کا پروگرام ترتیب دیا۔ پہلی جنگ عظیم میں برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ کر لیا اور اپنی بالادستی قائم کر لی۔ جنگ ختم ہوئی تو برطانیہ نے وہ اعلان کیا جسے’’اعلان بالفور‘‘کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ اعلان 2نومبر 1917ءکو سامنے آیا اور اس میں سرزمین فلسطین یہودیوں کو بطور قومی و طن عطا کرنے کا وعدہ کیا گیا۔

ظلم و ستم کی چکی میں پسنے والے اور اپنے وطن ،گھر اور آبائی سرزمین کے حصول کی خواہش رکھنے والے فلسطینیوں نے استعماری سازشوں کا مقابلہ اور اسرائیلی مفادات کو نقصان پہنچانے کیلئے کارروائیاں جاری رکھیں ۔دوسری طرف اسرائیل کو عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ نے بہت زیادہ مالی و فوجی امداددی اور ہر قسم کا تعاون کیا حتیٰ کہ اقوام متحدہ میں پیش ہونے والی اسرائیل مخالف قراردادوں کو ویٹو کرنا بھی امریکہ نے اپنا وطیرہ بنا لیا جبکہ امریکہ، اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کی پاس کردہ قراردادوں پر عمل درآمد بھی نہیں ہونے دیتا۔اس کشمکش میں اسرائیل نے لبنان پر بھی حملے کئے اور لبنان کے کئی علاقوں پر بھی قابض ہوگیا۔ یوں تحریک آزادی فلسطین کے بعد مزاحمت اسلامی لبنان نے بھی جنم لیا اور اسرائیل کی توسیع پسندی و تشدد پسندی کے خلاف قربانیوں کی داستانیں رقم کی جانے لگیں۔

لبنان میں اسرائیل کو 2006 کی جنگ میں بری طرح شکست فاش سے دوچار کر کے اس کے غرور اور ناقابل تسخیر ہونے کے پروپیگنڈے کو زائل کر دیا۔اس سے پہلے بھی لبنان میں امریکی ،فرانسیسی اور صیہونی فوجیوں کے خلاف خود کش دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا تو یہ لوگ دُم دبا کر بھاگ کھڑے ہوئے اور فلسطین میں جہادی تحریکوں نے رفتہ رفتہ زور پکڑا اور آپس کے اختلافات کو پس پشت ڈال کر غاصب یہودیوں کے خلاف کارروائیوں کو تیز کیا۔ اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف نہتے فلسطینیوں کی پتھر سے شروع ہونے والی تحریک غلیل سے ہوتی ہوئی کلاشنکوف اور راکٹ لانچر کے بعد میزائلوں تک پہنچ چکی ہے۔ 70برس میں فلسطینیوں نے اب یہ سیکھ لیا ہے کہ گولیوں کی بوچھار میں ،بارود کی بارش میں ،تاراجی اور بربادی میں ،منافق اور بزدل لیڈروں ،استعماری سازشوں ، خوراک کی قلت، محاصرے ،گھروں سے نکالے جانے اور مہاجر بنا دیئے جانے میں کیسے زندہ رہنا ہے ، اپنی مظلومیت کو اپنی طاقت میں کیسے بدلنا ہے۔ استعمار کے مسلط کردہ حکمرانوں سے کیسے نمٹنا ہے اور استعمار کو کیسے ناکوں چنے چبانے پر مجبور کرناہے۔شہادتوں کو کیسے اپنی قوت اور طاقت میں تبدیل کرنا ہے۔درد کو کیسے دوا بنانا ہے۔

امام خمینیؒ جیسے عظیم رہنما کی بات پر عمل کرتے ہوئے امت مسلمہ اتحاد و وحدت کا مظاہرہ کرتی تو اسرائیل کا ناپاک وجود آج کہیں نظر نہ آتا۔ انہوں نے بار ہا ان خطرات سے متوجہ کیااور برملا کہا کہ اگر تمام مسلمان ایک ایک بالٹی پانی اسرائیل پر انڈیل دیں تو اس کا خاتمہ ہو جائے۔آج فلسطین کی غیور ملت نے مزاحمت اور جہاد و شہادت کے جوہر عظیم کی شناخت کرکے عزت و سعادت کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ ارض فلسطین کی آزادی کیلئے70برسوں میں ہزاروں لوگ اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں ۔ان میں عام لوگ بھی ہیں اور تحریک آزادی کے قائدین اور مجاہدین بھی۔ حالیہ دنوں میں زخمی فلسطینی مظاہرین کو طبی امداد فراہم کرنے والی 21 سالہ فلسطینی نرس راضان نجر ،عہدتمیمی ،اس کے 21سالہ رشتہ دار ازدان تمیمی اور حماس و جہاد اسلامی کے قائدین کی عظیم قربانیوں نے شجاعت کی جو داستانیں رقم کی ہیں وہ مشعل راہ کا درجہ رکھتی ہیں۔

سب سے زیادہ مقبول