عالمی حکمرانوں کو نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم سے سبق لینے کی ضرورت ہے...سید خرم رضا

جیسنڈا چاہے مسلمان نہ ہوں مگر جس کردار کا انہوں نے مظاہرہ کیا وہ ہر باعمل مسلمان حکمراں کا ہونا چاہیے، دنیا کے حکمرانوں کو آج یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ انہیں کس طرح کی حکمرانی کرنی چاہیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سید خرم رضا

میں کیوں نہ کہوں... سید خرم رضا

گزشتہ چھ ماہ کے اندر دو واقعات رونما ہوئے اور دونوں واقعات دنیا کی سیاست پر اپنا اثر ضرور ڈالیں گے۔ ایک واقعہ گزشتہ سال 2 اکتوبر کو رونما ہوا جب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے 60 سالہ سعودی کالم نگار جمال خاشقجی کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا۔ شروع میں سعودی عرب نے اس معاملے میں کسی سعودی رہنما کے ملوث ہونے سے انکار کیا، لیکن بعد میں رفتہ رفتہ حالات ایسے پیدا ہوئے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر ہی قتل کی سازش کا الزام لگنے لگا۔ اس سے جڑی خبریں جو منظر عام پر آئیں تو اس نے پورے قتل کے معاملہ کی جو تصویر پیش کی اس سے ہر ذی شعور شخص شرمندہ ہو نے لگا۔ قتل کی پرتیں جب اترنی شروع ہوئیں تو سامنے آیا کہ کس بے رحمی کے ساتھ صحافی خاشقجی کا قتل کیا گیا اور پھر اس سارے معاملہ پر پردہ ڈالنے کے لئے ہر غلط کام کیے گئے۔

سعودی عرب نے بعد میں نہ صرف اس قتل معاملہ کی انکوائری شروع کر دی بلکہ حکومت کے دو ذمہ داران کو بلی کا بکرا بنا کر برطرف بھی کر دیا، یعنی اعتراف بھی کرلیا کہ اس قتل میں سعودی عرب کے شاہی خاندان کا کہیں نہ کہیں کوئی ہاتھ ضرور ہے۔ مغربی میڈیا نے اس سارے معاملہ میں جم کر سعودی عرب کی تنقید کی، جس کی وجہ سے مسلمان اور اسلامی حکومت کی خوب فضیحت بھی ہوئی۔

خاشقجی قتل کا معاملہ گزشتہ سال 2 اکتوبر2018 کا ہے اور پھر ایک دوسرا واقعہ 15 مارچ 2019 کو اس سال نیوزی لینڈ میں پیش آیا، جس میں ایک سفید فام دہشت گرد نے 50 نمازیوں کو اپنی نفرت کا شکار بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گردی کے اس واقعہ کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کا جو رد عمل سامنے آیا، آج کے دور میں اس کا تصور کرنا بہت مشکل ہے۔ آج کل تو قوم پرستی اور شدت پسندی کے نام پر صرف اور صرف نفرت بکتی ہے۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کے رد عمل نے پوری دنیا میں ان کی مقبولیت میں چار چاند لگا دیئے ۔ جیسنڈا نے اس واقعہ کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دینے میں ذرا بھی تاخیر نہیں کی اور اپنی تقاریر میں کہا کہ نیوزی لینڈ میں بسنے والے مسلمان اس ملک کا حصہ ہیں اور ہر صورت میں ان کا تحفظ کیا جائے گا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک بے مثال انداز میں متاثرہ خاندانوں اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لوگوں سے ملاقات کی بلکہ ملاقات کے دوران اسلامی تہذیب کا خیال رکھتے ہوئے سر پر دوپٹہ اوڑھ کر رکھا۔ وہ یہیں نہیں رکیں انہوں نے اعلان کیا کہ جمعہ کی نماز کے لئے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر اذان نشر کی جائے گی۔ اس واقعہ کے بعد ہونے والے پارلیمانی اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک کے ذریعہ ہوا اور اپنے خطاب میں جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ وہ اس دہشت گرد کا نام اپنی زبان پر بھی نہیں لائیں گی کیونکہ وہ اس کو ہمیشہ کے لئے گمنام رکھنا چاہتی ہیں۔

گزشتہ 6 ماہ میں دو واقعات سامنے آئے ایک واقعہ نے اسلامی ریاست کے شاہی خاندان کے کردار پر روشنی ڈالی اور دوسرے واقعہ نے ایک ایسے سفید فام اکثریتی ملک کی تصویر پیش کی جہاں مسلمانوں کی آبادی محض ایک فیصد سے تھوڑی زیادہ ہے۔ جہاں خاشقجی قتل معاملہ نے اسلامی ریاست کے شاہی خاندان کے رہنماؤں کے کردار پر سے پردہ اٹھایا وہیں دوسری جانب نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی تصویر سامنے آئی، جس کی وجہ سے پوری دنیا میں تو وہ مقبول ہوئیں، ساتھ میں انہوں نے پوری دنیا کے مسلمانوں کا دل جیت کر عالمی قیادت کے سامنے ایک مثال پیش کی۔ اب پوری دنیا کی قیادت کو ان سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔

جیسنڈا نے جو کچھ کیا وہ انسانیت کے ناطے اور اپنے ملک میں امن قائم رکھنے کے لئے کیا اور انہوں نے اپنے عمل کے ذریعہ اس دہشت گردی پر ہونے والے رد عمل کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا۔ دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جو کچھ کیا وہ انسانیت اور اسلام کے خلاف ہے اور انہوں نے اپنی حکومت کے لئے اپنے مخالفین کے ساتھ جو سلوک کیا اس نے اسلامی ریاست کے متعدد دشمن پیدا کر دیئے اور یہ دشمن اپنی خاموشی کی قیمت بھی ان سے وصول رہے ہیں۔

ان دو واقعات کو دیکھتے ہوئے ’میں یہ کیوں نہ کہوں‘ کہ ریاست کا اسلامی ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا معنی یہ رکھتا ہے کہ حکومت کے سربراہ کا عمل کتنا انسانی ہے اور کتنا اسلامی اصولوں کے قریب ہے۔ جیسنڈا چاہے مسلمان نہ ہوں مگر جس کردار کا انہوں نے مظاہرہ کیا وہ ہر باعمل مسلمان حکمراں کا ہونا چاہیے۔ دنیا کے حکمرانوں کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس طرح کی حکومت کرنا پسند کرتے ہیں، نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی طرح یا پھر محمد بن سلمان کی طرح جو مستقل سوالوں کے گھیرے میں ہیں۔