جب انصاف کی راہ میں زبان ہی رکاوٹ بن جائے تو مظلوم کہاں جائے؟
انصاف کی پیچیدہ اور اجنبی زبان آج بھی مظلوم کے لیے بڑی رکاوٹ ہے۔ اناؤ کیس کی متاثرہ کی بات نے ثابت کیا کہ جب عدالتی کارروائی قابلِ فہم نہ ہو تو انصاف تک رسائی محض ایک خواب بن جاتی ہے

اتر پردیش کے اناؤ کے 8 سال پرانے زیرِ بحث عصمت دری کے مقدمے میں 20 دسمبر 2019 کو دہلی کی تیس ہزاری عدالت کے ضلع و سیشن جج (مغربی) نے بااثر مجرم کلدیپ سنگھ سینگر کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ حال ہی میں دہلی ہائی کورٹ نے اس سزا کو معطل کرتے ہوئے اسے ضمانت دے دی، جسے اب سپریم کورٹ نے روک دیا ہے۔ اس فیصلے کے آتے ہی، جیسا کہ فطری تھا، سماج میں شدید بے چینی اور اضطراب پیدا ہوا۔
یہ اضطراب اس لیے بھی تھا کہ ناقابلِ برداشت اور مسلسل دباؤ میں رکھی گئی اس متاثرہ کو طویل جدوجہد کے بعد اس وقت انصاف ملا تھا، جب مقدمے کی سماعت اتر پردیش سے باہر دہلی کی عدالت میں منتقل کی گئی۔ لیکن ضمانت کے خلاف اٹھنے والی آوازوں اور سوالات کے درمیان ایک نہایت اہم پہلو پوری طرح نظرانداز ہو گیا اور وہ تھا انصاف کی زبان۔
یہ سوال اس لیے سنگین ہے کہ خود متاثرہ نے مختلف میڈیا اداروں سے گفتگو میں بار بار واضح طور پر کہا کہ اپنی جدوجہد کے دوران جہاں اسے کئی دوسری رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، وہیں عدالت کی ایسی زبان بھی ایک بڑی مشکل بنی جسے وہ سمجھ نہیں پاتی تھی۔
متاثرہ کے اپنے الفاظ میں، ’’اگر عدالت کی کارروائی ہندی میں ہوتی تو میں اپنا مقدمہ خود لڑ کر دنیا کے سامنے پوری سچائی رکھ دیتی۔ دہلی ہائی کورٹ میں بھی اگر بحث ہندی میں ہوتی تو میں خود دلائل دیتی۔ لیکن کیا کروں، میری انگریزی کمزور ہے، کچھ باتیں ہی سمجھ پاتی ہوں۔‘‘
اگر اس معاملے کو وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا انصاف کی زبان کی یہ رکاوٹ صرف اسی ایک متاثرہ تک محدود ہے؟ اس کا سیدھا جواب ہے، نہیں۔ آج بھی بڑی تعداد میں لوگ متاثرین اپنی سمجھ کی زبان میں انصاف مانگنے سے محروم ہیں، حالانکہ ملک کو آزاد ہوئے 75 برس سے زیادہ ہو چکے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ قانون آج بھی ایک ایسی اجنبی اور رعب دار زبان میں بات کرتا ہے جو عام آدمی کو خوف زدہ کر دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ معمولی سے معمولی معاملے میں بھی مہنگے وکیلوں کے محتاج ہو جاتے ہیں اور جب عدالت میں ان کے مقدمے کی سماعت ہوتی ہے تو وہ پوری کارروائی کو سمجھے بغیر محض تماشائی بنے رہتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف انگریزی یا غیرملکی زبان تک محدود نہیں۔ کئی جگہوں پر جہاں مقامی یا علاقائی زبانوں میں سماعت ہوتی ہے، وہاں بھی قانون کی زبان جان بوجھ کر اتنی پیچیدہ رکھی جاتی ہے کہ وہ عام فہم نہیں رہتی۔ عدالتوں میں آج بھی لاطینی اور فرانسیسی اصطلاحات کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے، حتیٰ کہ اخبارات میں شائع ہونے والے قانونی نوٹس بھی ایسی ثقیل زبان میں ہوتے ہیں جنہیں سمجھنا عام آدمی کے بس سے باہر ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق قانونی زبان کو سادہ بنانے کا عمل شاید دانستہ طور پر سست رکھا گیا ہے، کیونکہ اس سے وہ طبقات فائدہ اٹھاتے ہیں جو پیچیدگی کے سائے میں طاقتور بنے رہتے ہیں۔ اس کا سب سے زیادہ خمیازہ دلتوں، محروم اور حاشیے پر موجود طبقات کو بھگتنا پڑتا ہے۔
یہاں سوال اٹھتا ہے کہ جب انصاف کی زبان ہی عام آدمی کے لیے ناقابلِ فہم ہو، تو سماجی انصاف کیسے ممکن ہے؟ وزیراعظم نریندر مودی بارہا کہہ چکے ہیں کہ عدالتی فیصلوں اور کارروائی کی زبان ایسی ہونی چاہیے جسے عام شہری بھی سمجھ سکے، مگر عملی سطح پر اس سمت میں سنجیدہ پیش رفت نظر نہیں آتی۔
گزشتہ برس سپریم کورٹ میں قانونی امداد کے نظام پر منعقد ایک قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا تھا کہ جب تک انصاف کی زبان قابلِ فہم نہیں ہوگی، سماجی انصاف ممکن نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ محض بیانات سے یہ مقصد کیسے حاصل ہوگا؟
اصل مسئلہ یہ سمجھنے کا ہے کہ عدالتوں میں انصاف کی زبان کا مطلب صرف ترجمہ نہیں، بلکہ ایسی زبان ہے جس میں قانونی اصطلاحات سادہ، واضح اور عام فہم ہوں۔ جب تک قانون کی زبان عام انسان کے شعور سے جڑی نہیں ہوگی، لوگ انصاف کے عمل میں اعتماد کے ساتھ شامل نہیں ہو سکیں گے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اگر قانون لوگوں کی سمجھ میں آ جائے تو قوانین کی خلاف ورزی کم ہوگی، عمل درآمد آسان ہوگا اور غیر ضروری مقدمہ بازی میں بھی کمی آئے گی۔ مگر فی الحال حکومت آئین کے آرٹیکل 348(1) کی آڑ لے کر بیٹھ گئی ہے، جس میں اعلیٰ عدالتوں میں انگریزی کو کارروائی کی زبان قرار دیا گیا ہے۔
حالانکہ آئین سازوں نے خود یہ راستہ کھلا چھوڑا تھا کہ پارلیمنٹ قانون بنا کر اس میں تبدیلی کر سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ضرورت واضح ہے تو حکومت اس سمت میں قدم کیوں نہیں اٹھاتی؟ نتیجہ یہ ہے کہ آج بھی انصاف کے ایوانوں میں ایسی زبان کا راج ہے جو انصاف کے بجائے خوف پیدا کرتی ہے۔ جب تک یہ زبان عوام کی زبان نہیں بنتی، انصاف کا خواب بھی ادھورا ہی رہے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔