کووڈ-19 اور رمضان: طلبہ و طالبات کیا کریں!... کامران غنی صباؔ

جس طرح فوج کے ایک سپاہی کو سخت ترین مشق سے گزارا جاتا ہے تاکہ وہ کسی بھی طرح کے حالات کا باآسانی مقابلہ کر سکے، ٹھیک اسی طرح رمضان میں مومنین کی تربیت کی جاتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

کامران غنی صبا

عبادت خواہ کوئی بھی ہو اس کے روحانی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ بعض سماجی، اخلاقی اور طبی پہلو بھی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر نماز کو ہی لیجیے۔ نماز ہمیں وقت کا پابند بناتی ہے۔ ہر نماز کے لیےکچھ خاص اوقات مقرر ہیں۔ ان اوقات سے پہلے یا بعد میں نماز ادا نہیں کی جا سکتی۔ اسی طرح نماز کی رکعات بھی متعین ہیں۔ ہم اپنی مرضی سے رکعات کی تعداد کم یا زیادہ نہیں کر سکتے۔ یعنی نماز ہمیں نظم و ضبط (discipline) سکھاتی ہے۔ زکوۃ میں سماجی پہلو پوشیدہ ہے ۔ یعنی اگر ہمیں خدا نے دولت و ثروت سے نوازا ہے تو ہم اپنے سماج کے کمزور طبقات کی مدد کریں۔ روزہ کا روحانی پہلو بہت واضح ہے۔ قرآن کے الفاظ میں روزہ کا روحانی پہلو بندہ کے اندر "تقویٰ"کی صفت پیدا کرنا ہے۔ قرآن ہی ہمیں بتاتا ہے کہ بندے کے اندر جب تقویٰ کی صفت پیدا ہو جاتی ہے تواس کی شخصیت روحانی اور سماجی دونوں اعتبار سے نمونہ ہو جاتی ہے۔ سورۃ البقرۃ میں متقیوں کی صفت بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ متقی وہ ہوتے ہیں جو (1) غیب پر ایمان لاتے ہیں، (2) نماز قائم کرتے ہیں، (3) اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے خرچ کرتے ہیں۔

آیت کے پہلے جز کا تعلق عقیدہ و ایمان سے ہے۔ یعنی متقی ہونے کی سب سے پہلی شرط اللہ پر ایمان کامل کا ہونا ہے۔ دوسرے جز کا تعلق جسمانی عبادات سے ہے۔یعنی متقین اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے عبادت اس کی عبادت کرتے ہیں اور آخری جز کا تعلق سماجیات سے ہے۔یعنی متقین کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے سماجی اور اخلاقی پہلو کو درست کریں۔

رمضان دراصل متقین کی تربیت کا مہینہ ہے۔ جس طرح فوج کے ایک سپاہی کو سخت ترین مشق سے گزارا جاتا ہے تاکہ وہ کسی بھی طرح کے حالات کا باآسانی مقابلہ کر سکے۔ ٹھیک اسی طرح رمضان میں مومنین کی تربیت کی جاتی ہے تاکہ باقی گیارہ مہینے وہ اپنی شخصیت کے روحانی، اخلاقی اور سماجی پہلوپر محنت کر سکے۔

طلبہ و طالبات رمضان کیسے گزاریں؟

اس بار رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی ملک بھر میں ایک بار پھر سے کووڈ 19 کی دہشت پھیلنے لگی ہے۔ اسکول، کالج سمیت سبھی تعلیمی ادارے فی الحال بند کر دئیے گئے ہیں اور آن لائن کلاسز کے ذریعہ تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں طلبہ و طالبات کے لیے یہ موقع بہت غنیمت ہے کہ وہ گھر میں رہتے ہوئے جہاں اپنی تعلیمی مشغولیات جاری رکھ سکتے ہیں وہیں سکون کے ساتھ نماز، تلاوت قرآن اور عبادات وغیرہ کے لیے بھی وقت نکال سکتے ہیں۔ سخت گرمی کے اس موسم میں لاک ڈاؤن جیسی صورت حال اس نقطہ نظر سے عافیت بخش ضرور ہے۔

رمضان المبارک میں عام دنوں کے مقابلہ معمولات زندگی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ تراویح اور تہجد کی نماز ادا کرنے والوں کو دیر رات تک جاگنا پڑتا ہے۔ سحری کے لیے وقت پر بیدار ہونے کی وجہ سے نیند کی کمی بھی ہو سکتی ہے۔ بعض افراد نیند کی کمی کو پورا کرنے کے لیے فجر کی نماز کے بعد بھی تھوڑی دیر آرام کرتے ہیں۔ طلبہ و طالبات رمضان المبارک میں اپنے تعلیمی اوقات کو ملحوظ رکھ کر روزمرہ کے معمولات کا تعین کر سکتے ہیں۔مثلا دن کے خالی اوقات میں اگر وہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو سمیٹنے کی کوشش کر لیں تو رات کے وقت وہ اطمینان کے ساتھ عبادات اور ذکر و اذکار کا وقت نکال سکتے ہیں۔

رمضان المبارک کی فضیلت کی سب سے بڑی وجہ قرآن سے اس کی نسبت ہے۔ چونکہ قرآن پاک کا نزول رمضان المبارک کے مہینے میں ہی ہوا اس وجہ سے رمضان المبارک کے مہینے کو دوسرے مہینوں پر فوقیت حاصل ہے۔ قرآن صرف اللہ کا کلام ہی نہیں بلکہ ایک رہنما کتاب ہے جس میں اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزرانے کا مکمل طریقہ موجود ہے۔قرآن ایک طرف جہاں ہمیں اپنے قلب کے تزکیے اور تصفیے کی دعوت دیتا ہے وہیں ہمیں جسمانی اور مالی عبادت کے لیے بھی راغب کرتا ہے۔قرآن میں معاشرتی اور قانونی مسائل پر بھی بہت ہی تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔ایک طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن پاک کامطالعہ اس کے معنی و مفہوم کو سمجھ کر کرے تاکہ قرانی ہدایات و احکامات سے وہ اچھی طرح واقف ہو سکے اور قرآنی اصول اس کی زندگی کا حصہ بن سکیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ طالب علم قرآن کو ترجمہ کے ساتھ پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ رمضان المبارک میں عام طور سے قرآن کے مطالعہ کا رجحان زیادہ ہوتا ہے اس لیے یہ کام اس مہینے میں زیادہ بہتر اندا زمیں کیا جاسکتا ہے۔ قرآن پاک کے تراجم اردو، ہندی انگریزی سمیت دنیا کی تقریبا سبھی زبانوں میں موجود ہیں۔یوٹیوب پر بہت سارے مفسرین کے لکچر اور دروس قرآن کی ویڈیوز بھی دستیاب ہیں جن سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

رمضان المبارک میں روزہ رکھ کر ہمیں بھوک پیاس کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔ذرہ تصور کیجیے کہ صبح سے شام تک بھوکے پیاسے رہنے کی نتیجے میں ہمارے کیا احساسات ہوتے ہیں؟ ہمارے آس پاس بے شمار لوگ عام دنوں میں بھی معاشی مسائل کی وجہ سے فاقہ کشی کا شکار ہوتے ہیں۔ رمضان میں روزہ رکھ کر ہم ایسے لوگوں کی تکلیف اور ذہنی کیفیت کا صحیح اندازہ لگا سکتے ہیں۔ طلبہ و طالبات بے شمار پیسے موبائل، اچھا کھانا کھانے، فلم دیکھنے اور دوستوں کے ساتھ مٹر گشتی کرنے میں خرچ کر دیتے ہیں۔ وہ اگر چاہیں تو کچھ پیسے بچا کر اپنے آس پاس کے فاقہ کشوں کی بھوک مٹا سکتے ہیں۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ رمضان المبارک کے روزہ کے طفیل حاصل ہونے والی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔

(مضمون نگار نتیشور کالج، مظفر پور میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔