مولانا ارشد مدنی کو آر ایس ایس سربراہ سے اچانک ملاقات کی ضرورت کیا تھی؟

مسلم قیادت اور عام مسلمان یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس ملاقات کی اچانک کیا ضرورت تھی اور مولانا ارشد مدنی ملاقات کرنے کے لئے خود کیشو کنج کیوں گئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آواز تجزیہ

سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی جب آر ایس ایس کی دعوت پر ناگپور واقع سنگھ کے ہیڈ کوارٹر گئے تھے تو پورے ملک میں زبر دست بحث چھڑ گئی تھی جبکہ وہ ایسی کوئی بڑی بات نہیں تھی، کیونکہ پرنب مکھرجی سابق صدر جمہوریہ تھے اور صدر بننے کے بعد ان کا تعلق کسی بھی سیاسی پارٹی سے نہیں رہا تھا۔ لیکن گزشتہ جمعہ کو کچھ ایسا ہوا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ گزشتہ جمعہ کو جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا ارشد مدنی خو د آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت سے ملنے کے لئے سنگھ کے دہلی واقع دفتر کیشو کنج گئے۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات کی کوششیں کئی مہینوں سے چل رہی تھیں اور دہرادون سے تعلق رکھنے والے سنگھ کے معتمد خاص اس ملاقات کو یقینی بنانے کے لئے کام کر رہے تھے۔

مسلم قیادت اور عام مسلمان یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس ملاقات کی اچانک کیا ضرورت تھی اور مولانا ارشد مدنی ملاقات کرنے کے لئے خود کیشو کنج کیوں گئے اور کیا اب بابری مسجد کو لے کر سنگھ پوری طرح متحرک ہو گیا ہے، اور یہ ملاقات اسی کی ایک کڑی ہے؟ مولانا ارشد کے قریبی لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ مولانا نے یہ ملاقات آسام میں این آر سی کی وجہ سے مسلمانوں کو ہو رہی پریشانی کی وجہ سے کی ہے۔ عوام یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ اسلام میں مشورہ کرنے کو اہمیت دی گئی ہے اور مولانا ہمیشہ اس کی تبلیغ بھی کرتے ہیں، تو پھر انہوں نے خود تنظیم کے لوگوں سے اور مسلمانوں سے مشورہ کیوں نہیں کیا، اور ملاقات سے پہلے یا بعد میں عوام کو ملاقات کے مقصد سے آگاہ کیوں نہیں کیا؟ انہی سوالوں کے بیچ کچھ ایسی تصویر سامنے آئی ہے کہ یہ ملاقات اچانک نہیں ہوئی بلکہ مہینوں سے پردہ کے پیچھے اس کے لئے کوششیں ہو رہی تھیں۔

اس ملاقات کے تعلق سے باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ ماہ سے بند کمروں میں کچھ باتیں ہو رہی تھیں۔مولانا ارشد نے کچھ آئی ٹی آئی دہرادون، ہریانہ، پنجاب اور دیوبند میں قائم کئے ہوئے ہیں اور اس میں زیادہ تر وہ بچے ہیں جو دسویں تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد الیکٹریشین، ایئر کنڈیشن وغیرہ کا ڈپلوما کرتے ہیں اور کام سیکھتے ہیں۔ ان اداروں میں غیر مسلم بچوں کی بھی ایک خاصی تعداد ہے۔ اسی طرح کچھ بی ایڈ کالج بھی قائم کئے ہوئے ہیں اور یہاں بھی غیر مسلم بچوں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔ سنجے پانڈے، جو دہرادون کے رہنے والے ہیں اور آر ایس ایس کے ’ششو مندر‘ وغیرہ چلانے اور ان کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔ وہ جمعیۃ کے اس قدم سے کافی متاثر ہوئے اور مولانا کے پاس آنے جانے لگے۔ملاقات کے دوران کئی مرتبہ مولانا نے سنجے پانڈے سے کہا کہ آپ کا تعلق آر ایس ایس سے ہے اور آر ایس ایس اتنی سخت گیر ہندو تنظیم ہے کہ وہ مسلمانوں کو دیکھنا نہیں چاہتی جس کی انہوں نے صفائی دی۔ سنجے پانڈے نے مولانا کی یہ بات موہن بھاگوت تک پہنچائی جس پر موہن بھاگوت نے جمعیۃ کے ذمہ داران سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ واضح رہے کہ یہ بات عام انتخابات سے پہلے کی ہے اور انتخابات کی وجہ سے مولانا نے اس وقت ملاقات کرنا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ اس وقت ایسی کسی بھی ملاقات کو سیاسی رنگ سے دیکھا جا سکتا تھا۔ اس کے بعد کئی واقعات موب لنچنگ کے سامنے آئے تو مولانا ارشد نے سنجے پانڈے سے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف اتنا سب کچھ ہو رہا ہے کہ مسلمان دہشت زدہ ہیں اور وہ سڑک پر چلتے ہوئے ڈررہے ہیں اور آپ کچھ نہیں کرتے ہیں۔ذرائع کے مطابق سنجے پانڈے نے یہ بات موہن بھاگوت سے کہی جس پر بھاگوت نے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔

اب انتخابات کے بعد جب دوبارہ بات چیت ہوئی تو پھر اس جمعہ کی ملاقات کا وقت طے ہوا۔ ملاقات کی جگہ کے تعلق سے مولانا ارشد نے خود کیشو کنج آنے کی پیش کش کی۔ذرائع کے مطابق مولانا ارشد اس تعلق سے پریس کانفرنس کرنے کے حق میں تھے۔ یہ ملاقات صبح 10.15بجے سے لے کر 11.45 تک چلی جبکہ اس ملاقات کے لئے طے وقت آدھے گھنٹے کا تھا لیکن یہ ڈیڑھ گھنٹے تک چلی۔

مولانا ارشد نے ملاقات میں موہن بھاگوت پر یہ واضح کر دیا کہ وہ ساورکر، گولوالکر اور آر ایس ایس کے نظریات کے پہلے بھی مخالف تھے اور آج بھی ہیں۔مولانا کی اس وضاحت پر موہن بھاگوت نے کہا کہ ان لوگوں کو چھوڑ دیجئے اور آگے بات کرنے کے لئے کوئی نقطہ طے ہو جانا چاہئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا ارشد نے بابری مسجد کے تعلق سے کوئی بات نہیں کی۔ انہوں نے موب لنچنگ، این آر سی اور قومی مسائل پر گفتگو کی۔ ذرائع کے مطابق گفتگو کے دوران مولانا نے کہا کہ ملک کی آج وہ پوزیشن ہے جو آزادی سے پہلے تھی، جب عوام کو مذہب کا نشہ پلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی اسی طرح مذہب کا نشہ پلایا جا رہا ہے اور اگر یہ جاری رہا تو صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ پورا ملک برباد ہو جائے گا۔ موہن بھاگوت نے اس بات سے اتفاق کیا اور مولانا کو ہندوتو کی تشریح سمجھاتے ہوئے کہا کہ ہندوتو کا مطلب صرف ’ہندو، ہندو‘ نہیں ہے بلکہ ہندوتو کا مطلب یہ ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں مل کر کام کریں اور ایک ساتھ رہیں۔ ذرائع کے مطابق مولانا نے کہا کہ وہ بھی یہی چاہتے ہیں لیکن یہ بات بند کمرے میں بیٹھ کر نہیں ہو سکتی۔ ذرائع کے مطابق مولانا نے کہا کہ جس طرح وہ (مولانا ارشد مدنی) اپنی کلاسوں اور بڑی بڑی جگہ پر یہ کہتے ہیں کہ مذہب سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی بنیاد پر ایک دوسرے کا کام کرنا چاہئے، ایسے ہی آپ کو بھی میدان میں آکر کہنا ہوگا۔

ذرائع کے مطابق مولانا چاہتے تھے کہ کچھ اعلان مشترکہ طور پر ہو جائیں لیکن اس کے لئے سنگھ نے کوئی جلد بازی نہیں دکھائی اور اس سلسلے میں سَنگھ لیڈر رام لال کو کو آرڈینیٹ کرنے کی ذمہ داری دے دی۔ یہاں یہ بھی پتہ لگا کہ گفتگو کے دوران رام لال موجود نہیں تھے اور ان کو بعد میں بلاکر کو آرڈینیٹ کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق مولانا نے گفتگو کے دوران اپنے اس موقف کو دہرایا کہ ان کے یہاں آنے کا مقصد ملک اور اس کے بھائی چارے کو بچانا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ نظریاتی اختلافات اپنی جگہ ہیں لیکن سب کو آگے آکر اس سمت میں کام کرنا ہوگا۔

اب آنے والا وقت ہی اس پر سے پردہ ہٹائے گا کہ اس ملاقات کا مقصد کیا تھا اور وہ کون سی وجوہات تھیں جنہوں نے مولانا کو اس ملاقات کے لئے مجبور کیا کیونکہ سنگھ کے تعلق سے مولانا کی ہمیشہ جو رائے رہی ہے وہ جگ ظاہر ہے۔ آزادی کے ستر سال بعد جمعیتہ کو آر ایس ایس کے ہندتوا کو سمجھنے کی کیوں ضرورت پڑی۔

Published: 2 Sep 2019, 8:10 PM