ووٹروں کی فہرست میں گڑبڑی، ٹیکنالوجی اور جواب دہی، سابق نائب الیکشن کمشنر نور محمد سے خصوصی گفتگو
سابق نائب الیکشن کمشنر نور محمد کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کے ذریعے ووٹروں کے اخراج، ڈیٹا میں ہیر پھیر اور شفافیت کی کمی پر الیکشن کمیشن کو جواب دہ ہونا چاہیے، ورنہ انتخابی اعتماد مجروح ہوتا رہے گا

تقریباً دو دہائیوں تک انتخابی عمل کے انتظام کا تجربہ رکھنے والے سابق نائب الیکشن کمشنر نور محمد کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن آف انڈیا واقعی ووٹر فہرست میں جاری نظرثانی کے عمل پر عوامی اعتماد قائم کرنے میں سنجیدہ ہوتا، تو وہ اس کے لیے کہیں زیادہ اقدامات کر سکتا تھا۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ آف انڈیا بھی چند بنیادی سوالات اٹھا کر بہتر کردار ادا کر سکتا تھا- مثال کے طور پر عدالت الیکشن کمیشن سے یہ پوچھ سکتی تھی کہ بہار میں کیے گئے ایس آئی آر (خصوصی گہری نظرثانی) سے حقیقتاً کیا حاصل ہوا ہے۔
نند لال شرما سے ہونے والی گفتگو کے مدیرانہ طور پر مرتب کیے گئے اقتباسات پیش ہیں:
سوال: کیا آپ جاری ایس آئی آر عمل کو ووٹر لسٹ سے نام خارج کرنے، یعنی شہریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنے والی کارروائی کے طور پر دیکھتے ہیں؟
نور محمد: قانون میں ’گہری نظرثانی‘ کے لیے ایک واضح طریقۂ کار موجود ہے۔ صرف ’خصوصی‘ کا لفظ جوڑ دینے سے الیکشن کمیشن کو یہ حق حاصل نہیں ہو جاتا کہ وہ قانون میں درج طریقۂ کار سے ہٹ کر کام کرے۔
الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ کوئی بھی اہل ووٹر فہرست سے باہر نہ رہ جائے۔ اگر ایس آئی آر کے تحت بڑی تعداد میں شہری صرف اس وجہ سے ووٹنگ کے حق سے محروم ہو جاتے ہیں کہ وہ مطلوبہ دستاویزات پیش نہیں کر پاتے، تو یہ الیکشن کمیشن کی ناکامی ہے، کیونکہ وہ یہ یقینی بنانے میں ناکام رہا کہ کوئی بھی ووٹر چھوٹے نہیں۔
کیا ایس آئی آر کو انتخابی نتائج میں ہیر پھیر کے ایک طریقے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے؟
انتخابات میں ہیر پھیر کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں۔ امریکہ میں ’گیری مینڈرنگ‘ اس کی ایک حالیہ مثال ہے۔ ہیر پھیر صرف ایک صورت میں نہیں ہوتی؛ یہ حلقہ بندی کے ذریعے، پولنگ اسٹیشنوں کی حدود متعین کرنے میں، جانبدار نچلے درجے کے افسران کی تعیناتی میں، یا انتخابی مہم اور سیاسی چندے کے ضابطوں میں نرمی دے کر بھی کی جا سکتی ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
کیا یہ ممکن ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے بدنیتی کے ساتھ نام خارج کرنے کی گنجائش پیدا ہو رہی ہو؟
الیکشن کمیشن کا ووٹر ڈیٹا بیس بہت وسیع ہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال ڈپلی کیٹ اندراجات کی نشاندہی اور دیگر بے ضابطگیوں کو دور کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے، لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اسی ٹیکنالوجی کو ہیر پھیر کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک ہی تصویر کے ساتھ متعدد نام، ووٹر لسٹ میں غیر ملکی افراد کی تصاویر، یا اس نوعیت کی دیگر اندراجات — یہ سب مرکزی سطح پر ہی ممکن ہیں۔ ان کی باقاعدہ جانچ ہونی چاہیے اور ذمہ دار افراد کو سزا دی جانی چاہیے۔
ڈیٹا بیس میں اندراج شامل کرنے، حذف کرنے یا درستگی کرنے والے ہر فرد کا ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔ اس بنیاد پر ہمیشہ یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ ایسی کارروائی کا ذمہ دار کون ہے، اور اسے جواب دہ ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب تک کسی کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے؟
الیکشن کمیشن ووٹر لسٹ اور دیگر ڈیٹا کو مشین ریڈیبل فارمیٹ میں دینے سے کیوں گریز کر رہا ہے؟
ووٹر لسٹ کو مشین ریڈیبل فارمیٹ میں فراہم نہ کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کو صاف اور درست ووٹر لسٹ یقینی بنانے کے لیے سیاسی جماعتوں کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی مقصد سے ووٹر لسٹ کی نقول سیاسی جماعتوں کو دی جاتی ہیں تاکہ وہ خامیوں کی نشاندہی کر سکیں۔
مشین ریڈیبل فارمیٹ میں ڈیٹا کا تجزیہ زیادہ آسان ہو جاتا ہے اور فہرست کی بہتری میں مدد ملتی ہے۔ اس سے ان تحقیقی اداروں کو بھی فائدہ ہوگا جو الیکشن کمیشن کے ڈیٹا تک رسائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آج کے اے آئی کے دور میں محفوظ پی ڈی ایف فائلوں کو کھولنے کے طریقے تلاش کرنا بھی کوئی مشکل کام نہیں رہا۔
کیا سپریم کورٹ آف انڈیا ایس آئی آر کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی سماعت کے دوران، بہار میں چلائے گئے اس عمل کا جائزہ لینے کا حکم دے سکتا تھا؟
الیکشن کمیشن کے ڈیٹا بیس سے ہر قسم کی رپورٹس تیار کی جا سکتی ہیں، اور سپریم کورٹ ایسی کسی بھی رپورٹ کا مطالبہ کر سکتا تھا۔ اگرچہ آئین کا آرٹیکل 324(9) انتخابی عمل شروع ہونے کے بعد عدالتی مداخلت سے گریز کی بات کرتا ہے، لیکن ایس آئی آر انتخاب سے پہلے کا مرحلہ ہے، یعنی ایک تیاری کا عمل۔ اس لیے عدالت واضح ہدایات جاری کر سکتی تھی۔
عدالت یہ بھی پوچھ سکتی تھی کہ گہری نظرثانی کے معاملے میں سابقہ طریقۂ کار سے ہٹ کر فیصلہ کیوں لیا گیا، یا ایک بوتھ لیول افسر کو شہریت کی جانچ کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟ مزید یہ کہ حکومت شہریت کے ثبوت کے طور پر کن دستاویزات کو تسلیم کرتی ہے؟
انتخابات ایک خصوصی نوعیت کا عمل ہیں، اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے عدالتوں کو آزاد ماہرین کی مدد لینی پڑتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ایس آئی آر کے خلاف دائر کی گئی عرضیاں مزید مضبوط اور واضح ہو سکتی تھیں۔
کیا اپوزیشن کی جانب سے ای وی ایم کے ڈیزائن کو عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ درست ہے؟ کیا اعتماد بحال کرنے کے لیے بیلٹ پیپر کی طرف لوٹنا چاہیے؟
اگر ای وی ایم پر عوامی اعتماد کم ہو رہا ہے تو شفافیت کے ذریعے اسے بحال کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ اگر وہ شفافیت کے امتحان میں ناکام رہتی ہے تو پھر اس کے متبادل پر غور کیا جانا چاہیے۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ ای وی ایم، بیلٹ پیپر کے مقابلے میں بہتر تھیں۔ بیلٹ پیپر پر واپسی الٹا اثر ڈال سکتی ہے۔ ہماری ای وی ایم کی خاص بات یہ تھی کہ مشین کو یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ کون سا بٹن کس امیدوار سے جڑا ہے۔
وی وی پی اے ٹی کے آنے کے بعد یہ سادگی ختم ہو گئی۔ اس نظام میں امیدوار کا نام اور نشان مشین میں درج کرنا پڑتا ہے، جس مرحلے پر چھیڑ چھاڑ کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔ اگرچہ کہا گیا تھا کہ شبہ کی صورت میں وی وی پی اے ٹی پرچیوں کی گنتی ہوگی، لیکن عملی طور پر ایسا کبھی نہیں ہوا۔ کم از کم بعض انتخابات میں یا دوبارہ گنتی کے مطالبے پر تمام پرچیوں کی گنتی ہونی چاہیے تھی، جو نہیں کی گئی۔ نئی ای وی ایم کو واقعی چھیڑ چھاڑ سے محفوظ ثابت کرنا ہوگا۔
جب حکومت الیکشن کمشنروں کی تقرری کو کنٹرول کرتی ہے تو الیکشن کمیشن کی آزادی کیسے یقینی بنائی جا سکتی ہے؟
الیکشن کمیشن کے اراکین کی تقرری کا عمل ہمیشہ غیر شفاف رہا ہے، اس کے باوجود بیشتر تقرر یافتہ اراکین نے انتخابی نظام کو بہتر بنایا۔ اسی وجہ سے ہندوستان کے انتخابات کو طویل عرصے تک بہترین مانا جاتا رہا۔ 2023 میں سپریم کورٹ نے اس عمل میں شفافیت لانے کے لیے رہنما اصول جاری کیے، لیکن افسوس کہ حکومت ایک بار پھر پرانے غیر شفاف طریقے پر واپس آ گئی۔
موجودہ حالات میں پارلیمنٹ کے ذریعے قانون میں تبدیلی کے امکانات کم ہیں۔ ایسے میں سیاسی جماعتوں، شہری سماج اور عام شہریوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ ہر مرحلے پر نگرانی کریں۔ اگر الیکشن کمیشن خود غیر جانب دارانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہ ہو، تو فی الحال مسلسل چوکسی ہی واحد راستہ ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔