بے آوازوں کی ’آواز‘ رویش کمار، میگسیسے ایوارڈ مبارک ہو...

رویش کمار اپنے الگ انداز، دلچسپ طرز تخاطب اور بہترین پیشکش کے لیے جانے جاتے ہیں۔ لیکن جو شئے انھیں دوسروں سے ’بہت الگ‘ بناتی ہے، وہ ہے ان کا ’سبجیکٹ سلیکشن‘ یعنی موضوع کا انتخاب۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

تنویر احمد

رویش کمار کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ دنیائے صحافت کے روشن ستارہ رویش کمار ’بے آوازوں کی آواز‘ ہیں۔ جی ہاں، ’بے آوازوں کی آواز‘... یہ میں نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ ’رمن میگسیسے ایوارڈ‘ دینے والوں نے رویش کمار کو اُن لوگوں کی آواز بتایا ہے جن کی آواز کوئی نہیں سنتا، یا پھر جن کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دیتا۔ یہ ہندوستان کے غریب، مجبور، مظلوم اور حکومت و انتظامیہ کے ستائے ہوئے لوگ ہیں، یہ وہ عام لوگ ہیں جن کی پریشانیوں اور مسائل کی طرف میڈیا نے توجہ دینا چھوڑ دیا ہے۔ یہ بے بس و بے کس عوام صحافیوں کی بے توجہی کے شکار ہیں۔ لیکن ایسے ماحول میں رویش کمار نے جس ہمت، بے باکی اور بے خوفی کے ساتھ اپنی صحافیانہ ذمہ دار نبھائی، اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ 2019 کا ’رمن میگسیسے ایوارڈ‘ انھیں دیا جانا صرف رویش کمار کی حوصلہ افزائی نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی صحافت کو ایک بہت بڑا پیغام بھی ہے۔ پیغام اس لیے کیونکہ 12 سال بعد کسی ہندوستانی صحافی کو یہ ایوارڈ ملا ہے جو ہندوستان میں صحافت کے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔

بہر حال، رویش کمار اپنے الگ انداز، دلچسپ طرز تخاطب اور بہترین پیشکش کے لیے جانے جاتے ہیں۔ لیکن جو شئے انھیں دوسروں سے ’بہت الگ‘بناتی ہے، وہ ہے ان کا ’سبجیکٹ سلیکشن‘۔ وہ اپنے پروگرام میں ان ایشوز کو اٹھاتے ہیں جسے دیگر صحافی بہت زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ قابل تعریف یہ بھی ہے کہ جس ایشو پر رویش پروگرام کرتے ہیں، سب سے پہلے آسان زبان میں ناظرین کو اس سے متعارف کراتے ہیں تاکہ وہ موضوع کی حساسیت اور اہمیت کے ساتھ ساتھ اس کی باریکیوں کو بھی سمجھ سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ’این ڈی ٹی وی‘ کے پرائم ٹائم پروگرام کی اینکرنگ رویش کمار کر رہے ہوتے ہیں تو لوگ کرسی پر جم کر بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر ڈیبیٹ میں شامل مہمانوں سے رویش کمار جس طرح کے سوال کرتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا جیسے وہ عام لوگوں کے سوال ہیں۔ ان کے سوال خانہ پری کے لیے نہیں ہوتے بلکہ غلط فہمیوں اور ذہن کی الجھنوں کو ختم کرنے کے لیے ہوتے ہیں، سچائی کو سامنے لانے کے لیے ہوتے ہیں، اور حکمراں طبقہ کی عوام و غریب مخالف پالیسیوں سے پردہ ہٹانے کے لیے ہوتے ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ رویش کمار کے علاوہ ہندوستانی میڈیا میں کوئی اچھا صحافی نہیں ، لیکن وہ رویش کی طرح بغیر کسی دباؤ میں آئے کام نہیں کر پاتے جو کہ ایک صحافی کو حقیقی معنوں میں صحافی بننے سے روکتا ہے۔ رویش کے اندر وہ طاقت ہے کہ دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ خود کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں، آج کے دور کی صحافت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں، اور پھر غلط طاقتوں کے ذریعہ دھمکی دئیے جانے پر بھی بغیر کسی گھبراہٹ کے اپنے مشکل سفر پر آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ یاد کیجیے 19 فروری 2016 کی وہ شب جب این ڈی ٹی وی کا پرائم ٹائم چل رہا تھا اور رویش کمار نے پورا اسکرین ’بلیک‘ کر دیا تھا۔ وہ اس وقت چینل پر ہونے والے ڈیبیٹ میں مچنے والی چیخ و پکار سے ناراض تھے۔ انھوں نے اس پرائم ٹائم کے شروع میں جو کچھ کہا وہ صرف ان کا ہی خاصہ تھا۔ وہ کہتے ہیں ’’ہمارا ٹی وی بیمار ہو گیا ہے۔ پوری دنیا میں ٹی وی کو ٹی بی ہو گیا ہے۔ ہم سب بیمار ہیں۔ میں کسی دوسرے کو بیمار بنا کر خود کو ڈاکٹر نہیں کہہ رہا۔ بیمار میں بھی ہوں۔ پہلے ہم بیمار ہوئے پھر آپ ہو رہے ہیں۔ آپ میں سے کوئی نہ کوئی ہمیں مارنے پیٹنے اور زندہ جلا دینے کا خط لکھتا رہتا ہے۔‘‘ پھر انھوں نے ٹی وی اسکرین کو سیاہ کر دیا اور اس پر صرف کچھ سطریں لکھی ہوئی نظر آنے لگیں۔ ایک سطر پر لکھا تھا ’’یہ اندھیرا ہی آج کے ٹی وی کی تصویر ہے۔‘‘ اس پروگرام نے ایک طرف جہاں آج کی صحافت کو تنقید کا نشانہ بنایا، وہیں رویش کمار کی عزت لوگوں کے دلوں میں مزید بڑھا دی۔

اسی طرح 4 نومبر 2016 کا پرائم ٹائم پروگرام ’سوال پر سوال‘ دیکھ لیجیے جب چہرہ پر سفیدی لگائے دو لوگوں کو رویش نے اپنے سامنے بٹھا لیا تھا اور انھیں ایک ایسے اتھارٹی کی شکل میں پیش کیا تھا جو سوال کا جواب دینا پسند نہیں کرتے اور ایسی زبان بولتے ہیں جسے عام لوگ سمجھ بھی نہ سکیں۔ پھر آپ ’آم‘ پر مبنی پرائم ٹائم کو یاد کیجیے جو کہ 25 اپریل 2019 کو دکھایا گیا تھا اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ’غیر سیاسی انٹرویو‘ پر زبردست طنز تھا۔ عام انتخاب کے وقت پی ایم مودی نے اکشے کمار کو جو ’غیر سیاسی انٹرویو‘ دیا تھا اس کا دانشور طبقہ میں خوب مذاق بنا تھا اور پھر رویش نے تو ’غیر سیاسی پرائم ٹائم‘ پیش کرتے ہوئے یہ دکھانا شروع کر دیا کہ آم کس طرح کھاتے ہیں، کون سا آم چوس کر کھایا جاتا ہے اور کون سا کاٹ کر، یا پھر کون سا آم زیادہ میٹھا ہوتا ہے کون سا کم۔ اس طرح کے پروگرام نے نہ صرف رویش کمار کا قد صحافت کی دنیا میں اونچا کیا بلکہ عام لوگوں کے دلوں میں ان کی ایک خاص جگہ بھی بنائی۔ 2019 کے ’رمن میگسیسے ایوارڈ‘ کے لیے رویش کمار کا انتخاب حق بہ حقدار رسید ہی کہا جائے گا۔ رویش کمار یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں کیونکہ انھوں نے اپنی آواز کو ’بے آواز‘ عوام کی آواز بنا کر پیش کیا۔

ایک ایسے دور میں جب کہ ایوارڈ حاصل کرنا لوگوں کے لیے ترجیحات میں شامل ہے، رویش کمار لوگوں کے ذریعہ ملنے والی محبت کو اپنے لیے ایوارڈ تصور کرتے ہیں۔ ان کی یہ سوچ انھیں بہت بڑا بناتی ہے۔ میگسیسے ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد بھی جب انھیں مبارکباد ملنے کا سلسلہ شروع ہوا تو وہ اس بات سے زیادہ خوش ہوئے کہ ’عام لوگ خوش‘ ہیں۔ رویش کمار سے ہندوستانی صحافت کو بہت امیدیں وابستہ ہیں اور جس طرح سے وہ اپنی زندگی داؤ پر لگا کر کام کر رہے ہیں، اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔میگسیسے ایوارڈ ملنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے رویش کمار نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آج تک کسی دباؤ کی وجہ سے انھوں نے اپنا کوئی ایساٹی وی پروگرام کینسل نہیں کیا جس کی شوٹنگ ہو چکی ہو۔ ہندوستان کی گنگا-جمنی تہذیب کو برقرار رکھنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے ملک کو ایسے ہی صحافی کی ضرورت ہے۔

Published: 3 Aug 2019, 7:10 PM