عمران خان نے 1992 دہرا تو دیا لیکن بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی

عمران خان کا وزیر اعظم بننا طے ہے لیکن ان کی یہ کامیابی ان کے لئے بہت سے چیلنج ساتھ لائی ہے کیونکہ عوام کو ایک بڑی تبدیلی کی امید ہے اور زمینی حققیت کو دیکھا جائے تو اس تبدیلی کے امکانات بہت کم ہیں

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا
user

سید خرم رضا

کرکٹ میں میرے کیا میری نسل کے ہیرو رہے عمران خان کو مبارکباد کہ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کے مختصر سفر میں بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے اور آج ملک کےعام انتخابات میں ان کی پارٹی کو سب سے زیادہ نشستیں حاصل ہوتی نظر آ رہی ہیں ۔پاکستانی عام انتخابات کے لئے ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور یہ اب تقریبا طے نظر آ رہا ہے کہ پاکستان کی اس کرکٹ ٹیم کے کپتان جس نے واحد عالمی کپ کا خطاب جیتا ہو اور دنیا کے معروف ترین کرکٹ کھلاڑی عمران خان کی سیاسی پارٹی تحریک انصاف سب سے آگے ہے اور عمران کا وزیر اعظم بننا طے ہے۔حزب اختلاف کی زیادہ تر سیاسی پارٹیوں نے دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے نتائج کو مسترد کر دیا ہے لیکن پورے پاکستان میں جشن کا ماحول ہے۔

عمران خان کی جیت میں اسی طرح نوجوانوں کا ہاتھ ہےجس طرح سال 1992 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے ان کی قیادت میں پہلا اور واحد عالمی کپ خطاب جیتا تھا ۔ اس وقت بھی عمران کے پاس انضمام ، وسیم اکرم ، سلیم ملک اور وقار یونس کی شکل میں نوجوان کھلاڑی تھے لیکن سینئر کھلاڑی جاوید میاں داد کا کردار بہت اہم تھا۔ آج بھی تحریک انصاف کی جیت میں جہاں ملک کے نوجوانوں کا ہاتھ ہے وہیں شاہ محمود قریشی جیسے سینئر لوگوں کی حکمت عملی کی وجہ سے ہی یہ ممکن ہو پایا ہے کہ 22 سال قبل وجود میں آئی سیاسی پارٹی آج ملک کی قیادت کرنے کی حیثیت میں آ گئی ہے۔ سیاسی مبصرین چاہے کتنا بھی یہ کہتے رہیں کہ عمران خان کی یہ کامیابی فوج اور ان کے درمیان ایک ارینج میرج ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نے اس دن کے لئے بہت جدو جہد کی ہے ۔ انہوں نے اپنے سیاسی پتےبہت ہوشیاری اور دور اندیشی کے ساتھ کھیلے ہیں اور کسی بھی موقع پر اپنی سیاسی ٹیم کو ٹھیک اسی طرح مایوس نہیں ہونے دیا جیسے انہوں نے 1992 میں اپنی کرکٹ ٹیم کو نہیں ہونے دیا تھا ۔ انہوں نے چاہے اپنی پہلی بیوی یا دوسری بیوی کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہو سب میں یہ صاف نظر آتا ہے کہ رشتہ بنانے اور توڑنے میں بھی ان کی ترجیحات ہمیشہ ان کا اپنا سیاسی مستقبل رہا ہے اور انہوں نے اس پر سے کبھی نگاہیں نہیں ہٹائیں ۔ جمائمہ خان جو ایک امیر یہودی باپ کی بیٹی تھیں ان سے علیحدگی میں بھی وجہ ان کا سیاسی مستقبل ہی تھا کیونکہ انہیں یہ احساس ہو چکا تھا کہ پاکستان میں سیاسی حیثیت بنانے میں یہ یہودی رشتہ ان کے لئے پریشانی کا سبب بن سکتا ہے اس لئے انہوں نے بہت خوبصورتی کے ساتھ دنیا کے لئے علیحدگی اختیار کر لی لیکن اس حقیقت سے بھی سب بخوبی واقف ہیں کہ ان کے جمائمہ کے ساتھ کیسے رشتے ہیں ۔ جمائمہ نے ہر معاملہ میں ان کی حمایت کی ہے اور ان کی دوسری بیوی ریحام خان کے الزامات کے معاملہ میں ہمیشہ عمران کے ساتھ کھڑی نظر آئی ہیں ۔ ریحام کا تعلق میڈیا سے تھا تو ان سے بھی شادی کہیں نہ کہیں پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے ہی کی تھی اور اب تیسری شادی کا مقصد بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ وہ پیرصاحبہ ہیں اور ان کے ذریعہ ایک مخصوص طبقہ پر نظر ہے۔ اسی طرح فوج سے ہاتھ ملانا ہو یا شدت پسند اسلامی تنظیموں سے سب کے پیچھے بھی مقصد ملک کا اقتدار حاصل کرنا رہا ہے اور کیوں نہ ہو جب سیاست کے میدان میں آئے ہیں تو اقتدار کے لئے ہی تو آئے ہیں۔

ویڈیو: عمران خان کی پارٹی کا ترانہ

جہاں عمران کے اندر یہ خوبی ہے کہ وہ بہت فوکسڈ ہیں اور اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے اپنی توجہ ادھر ادھر نہیں بانٹتے وہیں ان کی شخصیت پر بھی مغربی تعلیم کا بھی واضح اثر نظر آتا ہے ۔ اس تعلیم کی وجہ سے وہ ہر کام پیشہ وارانہ طریقے سے کرتے ہیں اور اس کے لئے ہم لاہور کے شوکت خانم اسپتال کے انتظام کو دیکھ سکتے ہیں جو ان کی والدہ کی یاد میں بنایا گیا تھا ۔ اس اسپتال کے انتظام میں عمران خان کی کم سے کم مداخلت ہے اور تمام کام انتہائی پیشہ وارانہ انداز میں کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پوری دنیا میں ان کا ایک بڑا حلقہ ہے جس سے ان کے سیدھے مراسم ہیں جو ان کی مدد کے آگے آ سکتا ہے۔

عمران خان جو ملک میں تبدیلی کی صدا بلند کر کے آئے ہیں ان کے چیلنجز بھی بہت ہیں ۔ مخلوط حکومت کی قیادت کرنا اور فوج و مغربی قووتوں کو خوش رکھنا عمران کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے ۔ کرکٹ کی قیادت میں تو گراؤنڈ پر ایک یا دو ہی حریف ہی طاقتور ہوتے ہیں چاہے وہ ٹیم کے اندر ہوں یا سامنے سے مقابلہ کرنے والی ٹیمییں ہوں لیکن سیاسی میدان میں تو حریفوں کی ایک فوج ہوتی ہے اور کب ساتھ کے لوگ حریف بن جائیں آپ کو پتہ بھی نہیں لگتا کیونکہ اس کا اندازہ نواز شرایف اور بے نظیر کے سیاسی سفر سے لگایا جا سکتا ہے ۔ کب کون جنیجو، لغاری، چودھری شجاعت، پرویز الاحی ، شیخ رشید ، شاہ محمود قریشی اور چودھری نثار علی بن جائے آپ کو پتا ہی نہیں لگتا۔ عالمی کپ کی جیت خود عمران کے لئے کوئی چیلنج نہیں لائی تھی کیونکہ ان کی کرکٹ کی ایننگ ختم ہو رہی تھی لیکن قومی کرکٹ ٹیم کے لئے یہ چیلنج ضرور لائی تھی کہ وہ اپنے معیار کو برقرار رکھ پائے گی یا نہیں اور جس میں وہ پوری طرح فیل رہی ۔ سیاسی زندگی میں کھیل کی طرح کوئی ایننگ آخری نہیں ہوتی اور اس میں چیلنجز زیادہ ہیں ۔ اس لئے آنے والا وقت عمران کے لئے چیلنجوں سے بھرا ہوا ہوگا اور ان کا اصل امتحا ن چھہ ماہ بعد شروع ہوگا جب ہنی مون کی مدت ختم ہو جائے گی اور اس وقت اتحادی جماعتوں ، فوج اور مغربی طاقتوں کے ساتھ سیاسی حریفوں کے باؤنسر جھیلنے پڑیں گے۔ عمران خان کو اس امتحان کے لئے تیار رہنا چاہئے کیونکہ بقول ان کے’ تبدیلی آ نہیں رہی ، تبدیلی آ گئی ہے‘ اس لئے عوام کو یہ تبدیلی دکھنی بھی چاہئے ۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 26 Jul 2018, 9:01 AM