یو پی ایس سی: حسین زہرا نے بلند حوصلہ سے ہدف حاصل کیا

آئی اے ایس  کے لئے منتخب کی گئی حسین زہرا اور ان کے اہل خانہ سے ’قومی آواز‘ کی خاص بات چیت

لکھنؤ: تعلیم کے میدان میں جدوجہد کر رہی لڑکیوں کے لئے حسین زہرا وہ نام ہے جس کے لئے ہی شائد علامہ اقبال نے کہا تھا’’خودی کوکربلند اتنا کہ ہرتقدیرسے پہلے....خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے‘‘ پچھلے دنوں یونین پبلک سروس کمیشن (یوپی ایس سی) کے اعلان شدہ نتائج میں انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس (آئی اے ایس) کے لئے منتخب قراردی گئی حسین زہرا موجودہ وقت میں انڈین پولس سروس (آئی پی ایس) میں خدمات انجام دے رہی ہیں اس کے علاوہ وہ یوپی ایس سی کے آئی آرٹی ایس میں بھی منتخب ہوچکی ہیں مگران کامیابیوں سے ان کے اہداف پورے نہیں ہوئے بلکہ ان کا ہدف کچھ اور ہی تھا یا یوں کہیں کہ ان کی ضد تھی کہ آئی اے ایس بن کرہی ملک کی خدمت کریں گی۔

اس ہدف کوانہوں نے امسال 87 رینک حاصل کرکے پورا کرلیا۔ اس دوران کامیابی حاصل کرنے کے حسین زہراکے جنون نے ان کی راہ میں آنے والی ہرمشکل کوپارکیااورآج وہ اقلیتی طبقے کی بیٹیوں کے لئے ایک محرک بن کرسامنے آئی ہیں۔اس شاندارکامیابی پرحسین زہرااوران کے خاندان میں توخوشی ہے ہی ساتھ ہی ان کے آبالی ضلع اترپردیش کے امبیڈکرنگرکے مچھلی گاؤں میں بھی کئی روزتک جشن کاماحول رہا۔

زہرا کی چھوٹی بہن ثانیٔ زہراکی تواس وقت خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا انہیں کالج میں ان کے دوستوں نے گھیرکرمبارکباد دی۔ کالج میں دوست جب بہن حسین زہراکے بارے میں باتیں کرتے ہیں توثانیٔ زہراکوناقابل بیان خوشی ہوتی ہے۔ثانی ٔ زہراکامشن بھی آئی اے ایس بنناہے۔

یہی نہیں ان کی ماں ہم سے بات چیت کے دوران اپنی خوشی کااشتراک کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ میری چار بیٹیاں ہیں لیکن انہوں نے کبھی بھی بیٹے کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ہماری بیٹیوں نے ہمارے تمام خواب پورے کردیئے۔حسین کے والدحسن رضاانڈسٹری ڈپارٹممنٹ میں اسسٹنٹ کمشنرکے عہدے سے ریٹائر ہیں اورماں شہلارضوی تعلیم یافتہ گھریلوخاتون ہیں۔والدین کی مسلسل حوصلہ افزائی کے سبب بیٹیاں کامیابی کے پرچم لہرارہی ہیں۔بڑی بہن قمرزہرارضوی وزارت الیکٹرانک وانفارمیشن میں سینئرکنسلٹنٹ کے عہدے پردہلی میں تعینات ہیں جب کہ چھوٹی بہن قمرجہاں لکھنؤکے ایک پرائیویٹ کالج کی طالبہ ہیں۔

پچھلے دنوں جب سول سروسیزکے نتائج کااعلان ہواتووہ اندرانگرواقع اپنی رہائش پرہی تھیں۔’قومی آواز‘نے ان سے اوران کے خاندان کے ارکان سے خصوصی بات چیت کی۔یہ بھی اتفاق تھاکہ حسین زہرابھی اس وقت والدین اوربہنوں کے ساتھ لکھنؤ میں ہی تھیں۔

جب ان سے پوچھاگیاکہ آپ مسلم سماج سے آتی ہیں ایسے میں اس منزل تک پہنچنے میں آپ کوکن حالات کاسامناکرناپڑا؟اس پرحسین نے کہاکہ اس کامیابی کے پیچھے میرے خاندان کااہم کردارہے۔بغیران کی حمایت اورحوصلے کے یہ کامیابی حاصل کرنامیرے لئے ممکن نہیں تھا۔ان کاکہناہے کہ ہرلڑکی کوچاہئے کہ وہ پورے عزم اورحوصلے کے ساتھ اپنے مشن کی تیاری کرے اورخاندان کوچاہئے کہ وہ اس پربھروسہ کریں جیساکہ میرے ساتھ ہوا۔

حسین زہراکا ماننا ہے کہ موجودہ دور میں خودانحصاری بہت ضروری ہے جہاں ایک طرف لڑکیاں اپنے وجودکی لڑائی لڑرہی ہیں وہیں وہ اپنے جنون،حوصلے اورخاندان کے اعتمادسے بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کرسکتی ہیں۔ان کامانناہے خاص طورپراقلیتی طبقے کی لڑکیوں کوتعلیم اورمشن پرخاص دھیان دیناچاہئے۔

زہراکے والد حسن رضا کہتے ہیں کہ بیٹے اوربیٹیوں کے درمیان کافرق ختم ہوناچاہئے۔ کسی بھی معنیٰ میں بیٹیاں کم نہیں ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اقلیتی طبقے میں ضروری ہے کہ یہ فرق ختم ہو۔ انہوں نے کہا کہ میری بیٹیوں نے مجھے ہمیشہ خوشیاں ہی دی ہیں۔ بڑی بیٹی اعلیٰ عہدے پرہے، حسین زہرا کامیابی کی سیڑھی چڑھتی ہی جارہی ہے۔ اس کا مقصد آئی اے ایس بننا تھا جواس نے اپنی محنت اورلگن سے حاصل کرلیا۔

حسین زہراکی والدہ شہلارضی ایک عام گھریلوخاتون ہیں لیکن بیٹیوں کی رہنمائی اورحوصلہ افزائی میں انہوں نے کوئی کورکسرنہیں چھوڑی۔حسین زہراکی کامیابی پرشہلاکہتی ہیں کہ جب بیٹیوں کے حوصلے بلندہوتے ہیں توکامیابی کی راہ میں آنے والی ہرمشکل آسان ہوجاتی ہے۔ضروری ہے کہ خاندان کے ارکان ان پربھروسہ کریں اورموقع بموقع ان کی رہنمائی کریں۔

بڑی بہن قمرزہراکہتی ہیں کہ وہ جانتی تھیں کہ ان کی بہن کاجنون آئی اے ایس بنناہے اوروہ پوراہوگالیکن ضروری ہے کہ سب کے ساتھ مشن پرجدوجہدجاری رکھی جائے۔

سب سے چھوٹی بہن ثانیٔ زہراکاکہناہے کہ بڑی بہن کی طرح وہ بھی آئی اے ایس بنناچاہتی ہیں۔انہوں نے بتایاکہ جب اسکول میں ان کے ساتھی حسین زہراکے بارے میں پوچھتے ہیں یابات کرتے ہیں تب انہیں بہت اچھالگتاہے۔وہ بتاتی ہیں کہ ان کواپنی بہن پرفخرہے۔

جس طرح حسین زہرانے کامیابی کاپرچم لہرایاہے اس کودیکھ کرلگتاہے کہ مجازلکھنوی نے آج کل کی مسلم خواتین کے انقلابی رخ کوشایدپہلے ہی بھانپ لیاتھاتبھی توانہوں نے کہاتھا:۔

ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن

تواس آنچل سے اک پرچم بنالیتی تواچھا تھا

سب سے زیادہ مقبول