یہ کسی ہیرو کا استقبال تو قطعی نہیں ہے... آشیش رے

مذہبی آزادی کمیشن کے ذریعہ پابندیوں کا مطالبہ اور حقوق انسانی تنظیموں کی مخالفت کے درمیان امریکہ پہنچے آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کا جو استقبال ہوا، اسے کسی ہیرو کا استقبال قطعی نہیں کہا جا سکتا۔

<div class="paragraphs"><p>امریکہ میں موہن بھاگوت، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/ashajadeja">@ashajadeja</a></p></div>
i
user

آشیش رے

25 اگست کو آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نیویارک پہنچے۔ اسی ہفتے بعد میں میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ’یونیورسل ونس سیلیبریشن‘ (عالمی یگانگت جشن) کے نام سے تشہیر کیے جانے والے پروگرام میں ان کی اہم تقریر ہونا طے تھا۔ تاہم بہت سے لوگوں کے لیے یہ بات قابل قبول نہیں ہو پا رہی۔ ابھی چند روز پہلے ہی 20 اگست کو بین الاقوامی مذہبی آزادی پر امریکی کمیشن (یو ایس سی آئی آر ایف) نے مطالبہ کیا تھا کہ آر ایس ایس اور اس کے رہنماؤں کو سفارتی آداب اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں سے محروم رکھا جائے۔ جس وقت کمیشن نے یہ مطالبہ کیا، وہ کوئی اتفاق نہیں تھا۔

دہلی میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یو ایس سی آئی آر ایف کو ’تعصب سے متاثر ادارہ‘ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں ایسے اداروں کو نظر انداز کرنا چاہیے کیونکہ ان کے اپنے ایجنڈے ہوتے ہیں اور ان کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔‘‘ یو ایس سی آئی آر ایف ایک آزاد، دو جماعتی وفاقی ایجنسی ہے جو عالمی سطح پر مذہبی آزادی کی نگرانی کرتی ہے۔ یہ امریکی صدر، وزیر خارجہ اور امریکی کانگریس کو پالیسی سے متعلق سفارشات بھیجتی ہے۔


مارچ 2026 میں شائع سالانہ رپورٹ میں یو ایس سی آئی آر ایف نے امریکی حکومت سے سفارش کی تھی کہ وہ ’’مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں اور انہیں فروغ دینے کے لیے ذمہ دار ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (را-ہندوستان کی غیر ملکی خفیہ ایجنسی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ  (آر ایس ایس) جیسی تنظیموں اور ان سے وابستہ لوگوں پر ہدفی پابندیاں عائد کرے، ان کی جائیدادیں ضبط کی جائیں اور امریکہ میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کی جائے۔‘‘ را کا حوالہ اس کے ایک مبینہ ملازم وکاس یادو کی نیویارک میں ہندوستان مخالف سکھ انتہا پسند گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی ناکام سازش میں مبینہ شمولیت سے متعلق تھا۔

رپورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو یہ بھی سفارش کی تھی کہ وہ ’بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ (آئی آر ایف اے) کے تحت متعین منظم، مسلسل اور سنگین مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے یا انہیں فروغ دینے کی بنیاد پر ہندوستان کو ’خصوصی تشویش والے ملک‘ کے طور پر نامزد کرے۔‘‘ یو ایس سی آئی آر ایف اس زمرے میں پاکستان، چین، شمالی کوریا اور ایران کو بھی رکھتا ہے۔ اس طرح آر ایس ایس گزشتہ کچھ عرصہ سے یو ایس سی آئی آر ایف کے نشانے پر رہا ہے۔ اس کا سب سے حالیہ بیان ایسے وقت آیا، جب بھاگوت امریکہ کے دورے پر ہیں۔ درحقیقت کمیشن نے ’امریکی شہریوں اور اقلیتوں کے خلاف دھمکی اور ہراسانی کی مسلسل کارروائیوں کی بنیاد پر ہندوستان کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کے لیے آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ کی دفعہ 6 نافذ کرنے‘ کی بھی سفارش کی ہے۔


1925 میں قائم آر ایس ایس اپنے ابتدائی دنوں میں ہندوؤں کے درمیان بہت زیادہ رسوخ قائم نہیں کر سکا تھا۔ اس نے مشرقی افریقہ میں آباد ہندوستانیوں کے درمیان اپنی قسمت آزمانے کے لیے بیرون ملک کا رخ کیا۔ ایڈورڈ اینڈرسن ’ہندو نیشنلزم اِن دی انڈین ڈائسپورا‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’(ہندوستانی) آزادی سے ایک سال قبل اور ایک ہندو انتہا پسند کے ہاتھوں مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد آر ایس ایس پر عائد پابندی سے 2 سال پہلے، (امرتسر کے ایک آریہ سماج اسکول کے استاد، جگدیش) شاستری اپنے نئے عہدے کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے بمبئی سے ممباسا کے لیے روانہ ہوئے۔ بحر ہند کے بیچ ایک طوفانی شام کو ’ایس ایس واسنا‘ کے ڈیک پر ان کا غیر متوقع طور پر منیک لال روگھانی نامی ایک گجراتی مسافر سے تعارف ہوا۔ شاستری کی اپنی کتاب ’میموائرز آف اے گلوبل ہندو‘ میں درج یہ ملاقات ہندوستان سے باہر پہلی شاخ کے قیام کی بنیاد بنی۔‘‘

مشرقی افریقہ میں آر ایس ایس نے ’ہندو سویم سیوک سنگھ‘ (ایچ ایس ایس) نامی ایک معاون تنظیم کے طور پر کام شروع کیا۔ 1970 کی دہائی کے اوائل میں، جب یوگانڈا، کینیا اور تنزانیہ میں ہند نژاد لوگوں کو بڑے پیمانے پر بے دخلی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ برطانیہ اور امریکہ چلے گئے، تو یہ ممالک بھی ’ایچ ایس ایس‘ کے لیے زرخیز زمین ثابت ہوئے۔ آج برطانیہ میں ’ایچ ایس ایس‘ کی 100 سے زیادہ شاخیں/سرگرمی مراکز ہیں اور امریکہ میں تقریباً 270 شاخیں فعال ہیں۔


1984 میں لوک سبھا کی 543 نشستوں میں سے بی جے پی کے پاس محض 2 نشستیں تھیں۔ یہاں تک کہ ہندوستان میں پارٹی کے سب سے کٹر حامی بھی اسے مزید مالی مدد دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ سیاسی جلاوطنی کے اس دور میں بی جے پی نے آر ایس ایس کے ذریعے ایچ ایس ایس کا رخ کیا، تاکہ مغرب میں پوری طرح آباد اور خوشحال ہو رہے سابق مشرقی افریقی ہندوؤں سے رابطہ قائم کیا جا سکے۔ ان سابق مشرقی افریقی ہندوستانیوں (جن میں بیشتر گجراتی تھے) نے فراخ دلی سے بی جے پی کے خزانے کو بھر کر مثبت ردعمل دیا۔

آج تک آر ایس ایس ہندوستان میں ایک غیر رجسٹرڈ ادارہ ہے۔ یہ خود کو ’افراد کا ایک گروپ‘ کہتا ہے۔ تاہم ایچ ایس ایس (امریکی انٹرنل ریونیو سروس کے لیے ہندو سویم سیوک سنگھ یو ایس اے، انک) ایک غیر منافع بخش ادارہ (نان پرافٹ) کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔ امریکی انتظامیہ کے سامنے اعلان کردہ اس کا مقصد ’ہندو اقدار اور خدمت کی اقدار کو فروغ دینے کے لیے سماجی، ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیاں انجام دینا‘ ہے۔ اس ظاہری حیثیت سے قطع نظر، اسے وسیع پیمانے پر آر ایس ایس کی غیر ملکی شاخ سمجھا جاتا ہے، جسے عام طور پر ایک دائیں بازو کی ہندو قوم پرست نیم فوجی تنظیم کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔


’یورپی کنسورشیم فار پالیٹیکل ریسرچ‘ کے ایک بلاگ نے آر ایس ایس کو ’تاریخ کا سب سے بڑا، سب سے امیر اور سب سے کامیاب انتہائی دائیں بازو کا نیٹورک‘ قرار دیا۔ اس نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ آر ایس ایس نے گزشتہ سال اپنی صد سالہ تقریب کے موقع پر امریکی قانون سازوں کے درمیان رابطہ مہم چلانے کے لیے خفیہ طور پر لابنگ فرم ’اسکوائر پیٹن بوگس‘ کو مقرر کیا تھا، جس کے لیے اسے 3,30,000 ڈالر ادا کیے گئے تھے۔ ایک امریکی نیوز آؤٹ لیٹ ’پریزم‘ نے رپورٹ دی کہ پی آر کمپنی نے اس معاہدے کے منظر عام پر آتے ہی مہم ختم کر دی۔ تاہم، آر ایس ایس نے سرکاری طور پر اس فرم کی خدمات حاصل کرنے سے انکار کیا ہے۔

’ہندوز فار امریکہ فرسٹ‘ نے 2024 کی صدارتی انتخابی مہم میں ہند نژاد ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس کے مقابلے ڈونالڈ ٹرمپ کی حمایت کی تھی۔ ’ریپبلکن ہندو کولیشن‘ نے ٹرمپ کی فنڈ جمع کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔ ان تعلقات کا مطلب یہ تھا کہ آر ایس ایس پر پابندی عائد کرنے کی یو ایس سی آئی آر ایف کی سفارش وائٹ ہاؤس میں نظرانداز کر دی گئی۔ اس سفارش کے بارے میں پوچھے جانے پر امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’یو ایس سی آئی آر ایف ایک آزاد امریکی کمیشن ہے... یہ وزارت خارجہ کے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے دفتر (او آئی آر ایف) سے پوری طرح الگ ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے آر ایس ایس پر او آئی آر ایف کے موقف کو واضح نہیں کیا۔ 3 امریکی سکھ تنظیموں نے بھی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو خط لکھ کر بھاگوت کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکنے کا مطالبہ کیا۔ ظاہر ہے، اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔


25 اگست کو ’ہندوز فار ہیومن رائٹس‘ اور دیگر ہندو، مسلم، بین المذاہب اور شہری حقوق کی تنظیموں نے اس شہر میں بھاگوت کی موجودگی کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے نیویارک سٹی ہال کی سیڑھیوں پر ایک پریس کانفرنس منعقد کی۔ نیویارک شہر کے مقبول میئر ظہران ممدانی نے کہا کہ ’’میں (میڈیسن اسکوائر گارڈن) ریلی کی حمایت نہیں کرتا، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ شہر کی انتظامیہ کے پاس کسی پرائیویٹ پروگرام کو منسوخ کرنے کا قانونی اختیار ہے یا نہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ایک ایسی تحریک کو تشکیل پاتے دیکھنا انتہائی پریشان کن ہے جو اخراج پر مبنی سوچ پر قائم ہے۔‘‘

2002 کے گجرات فسادات کے بعد وزارت خارجہ کی جانب سے مودی کے امریکہ میں داخلے پر باضابطہ طور پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ درحقیقت، جیسا کہ چند سال پہلے وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے واضح کیا تھا، مودی پر سے پابندی ہٹانا صرف عارضی تھا اور یہ اس وقت تک ہی مؤثر رہے گا جب تک وہ ہندوستانی حکومت میں اپنے موجودہ عہدے پر فائز ہیں۔ آر ایس ایس کو بھی یہ موجودہ حفاظتی حصار اسی وقت تک مل سکتا ہے جب تک ٹرمپ اقتدار میں ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔