سابق چیف جسٹس اے ایم احمدی کی باتیں جو آج دنیا سے چل بسے... سہیل انجم

جسٹس اے ایم احمدی 25 اکتوبر 1994 کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مقرر ہوئے اور 24 مارچ 1997 کو سبکدوش ہونے تک اس منصب پر فائز رہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

user

سہیل انجم

ہندوستان کے سابق چیف جسٹس اے ایم احمدی آج دو مارچ 2023 کو 91 سال کی عمر میں دنیا سے چل بسے۔ سورت گجرات میں پیدا ہونے والے جسٹس احمدی نے 1954 میں قانونی پیشے میں قدم رکھا تھا۔ وہ 1964 میں پہلی بار سٹی سول اینڈ سیشن کورٹ احمد آباد میں جج مقرر ہوئے۔ وہ 25 اکتوبر 1994 کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مقرر ہوئے اور 24 مارچ 1997 کو سبکدوش ہونے تک اس منصب پر فائز رہے۔

خاکسار کو چند روز ان کی صحبت میں گزارنے کا موقع ملا تھا۔ ہوا یوں کہ 2006 میں ہندوستان میں واقع سعودی سفارت خانہ نے ہندوستان سے پچاس افراد کو حکومت سعودی عرب کے خرچ پر فریضۂ حج کی ادائیگی کرانے کا فیصلہ کیا۔ کل پچاس افراد کا انتخاب ہوا جن میں صحافیوں کے کوٹے سے خاکسار کے علاوہ ہمارا سماج کے ایڈیٹر خالد انور بھی تھے۔ اس وفد میں ملک کی نامی گرامی شخصیات شامل رہی ہیں جن میں جسٹس احمدی کے علاوہ سید شاہد مہدی، دہلی جامع مسجد کے امام سید احمد بخاری، ایس ایم خان، مولانا عمید الزماں کیرانوی، پروفیسر زبیر فاروقی، پروفیسر حبیب اللہ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، قاضی انیس الرحمن قاسمی، مولانا عبد الحمید نعمانی، مفتی مکرم احمد اور پروفیسر غلام یحی انجم قابل ذکر ہیں۔


مکہ اور مدینہ میں تو ہم لوگ الگ الگ ہوٹلوں کے الگ الگ کمروں میں رہے۔ لیکن وادی منیٰ میں حسن اتفاق سے جسٹس احمد کی معیت میں رہنے کا موقع ملا۔ میں نے واپسی پر سفرنامہ حج لکھا تھا جو ”پھر سوئے حرم لے چل“ کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوا تھا۔ اس میں میں نے لکھا تھا کہ ”سابق چیف جسٹس اے ایم احمدی کا بستر اتفاق سے میرے برابر میں ہے۔ وہ خوب دلچسپ باتیں کرتے ہیں۔ دسویں سے بارہویں ذی الحجہ یعنی تیس دسمبر 2006 سے یکم جبوری 2007 تک ہم لوگ ساتھ رہے۔ (خیال رہے کہ اس سال حج انگریزی کے دو برسوں میں پڑا یعنی دسمبر 2006 اور جنوری 2007 میں) اس درمیان جسٹس احمدی سے بہت کچھ سیکھنے اور ان کے بارے میں بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔ جسٹس احمدی بہت پرلطف پیرائے میں گفتگو کرتے ہیں۔ کسی بات پر ان کو اعتراض ہے تو بہت سلیقے سے اور اشاروں کنایوں میں اعتراض درج کراتے ہیں“۔

ہم لوگوں کی کوشش ہوتی کہ چونکہ وہ ایک بڑی علمی شخصیت ہیں لہٰذا ان کی خدمت کی جائے۔ حکومت سعودی عرب کی جانب سے فریضہ حج کی ادائیگی کرنے والوں کو ”ضیوف خادم حرمین“ یعنی ”خادم حرمین کے مہمان“ کہا جاتا ہے۔ ان کے لیے دوسروں سے الگ اور قدرے آرام دہ انتظام ہوتا ہے۔ میدان عرفات اور منیٰ میں جن خیموں میں ہم لوگوں کو ٹھہرایا گیا تھا وہ نسبتاً آرام دہ تھے۔ کھانے پینے کا بہت اچھا انتظام تھا۔ مختلف اقسام کے پھلوں کے ڈھیر کے ڈھیر میزوں پر سجے رہتے۔ قدم قدم پر چائے اور کافی کا انتظام تھا۔ دستِ خود دہانِ خود کا معاملہ تھا۔ منیٰ کے خیمے میں ایک بار ہمارے کسی ساتھی نے ان سے کہا کہ حضرت آپ کچھ پھل کھا لیجیے۔ انھوں نے منع کر دیا۔ اس نے کہا کہ آپ کے لیے سنترے لاؤں۔ اس پر انھوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ نہیں بھائی۔ ”میں نے بڑی مشکل سے گانٹھ باندھی ہے اگر کھل گئی تو مصیبت میں پھنس جاؤں گا۔ سنترہ دست آور ہوتا ہے اور میں یہاں کے باتھ روم میں فراغت حاصل نہیں کر سکتا۔ میں تو بہت اطمینان سے کموٹ پر بیٹھتا ہوں۔ اخبار پڑھتا ہوں۔ اور پھر کچھ دیر کے بعد موشن کا ماحول بنتا ہے۔“


ظاہر ہے منیٰ کے خیمے میں ان کو یہ سہولت نہیں مل سکتی تھی جہاں ہر عارضی باتھ روم کے باہر دسیوں افراد قطار میں کھڑے رہتے ہیں کہ کب فلاں صاحب نکلیں اور ہمارا نمبر آئے۔ ایسے میں جسٹس احمدی جیسے لوگ کیسے فارغ ہو سکتے تھے۔ اس میں ان کا احساس خود نمائی نہیں تھا بلکہ احساس مجبوری تھا۔ لیکن انھوں نے جس انداز میں کہا کہ میں نے بڑی مشکل سے گانٹھ باندھی ہے، بے ساختہ ہنسی آگئی تھی اور وہ بھی ہنسی میں شریک تھے۔ وہ مسلکاً بوہرہ تھے۔ بوہروں والی ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی دادی اس قسم کی ٹوپی بنانے میں مہارت رکھتی تھیں اور اس وقت انھوں نے جو ٹوپی پہن رکھی ہے وہ ان کی دادی کی بنائی ہوئی ہے۔ انھوں نے بوہرہ مسلک کے بارے میں بھی کئی باتیں بتائی تھیں۔

انھوں نے اسی موقع پر ایک واقعہ سنایا۔ انھوں نے کہا کہ جب میں چیف جسٹس تھا تو ایک رات کورٹ سے گھر جا رہا تھا۔ رات کافی گزر گئی تھی۔ سڑکوں پر تقریباً سناٹا تھا۔ راستے میں ایک ریڈ لائٹ پڑی۔ ہمارے ڈرائیور نے ریڈ لائٹ جمپ کر دی۔ میں نے اظہار ناراضگی کرتے ہوئے ڈرائیور سے کہا کہ وہ گاڑی روکے۔ اس نے گاڑی روک دی۔ میں نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا کہ یہ تم نے کیا حرکت کی۔ ریڈ لائٹ کیوں جمپ کی۔ اس نے کہا کہ سر سڑک خالی تھی ادھر سے کوئی گاڑی نہیں آرہی تھی اس لیے میں ریڈ لائٹ جمپ کر دی۔ میں نے کہا کہ سڑک خالی تھی تو تم قانون شکنی کروگے۔ اور وہ بھی چیف جسٹس آف انڈیا کی گاڑی سے۔ میں نے اسے سمجھایا کہ اگر میں ہی (جو کہ ہندوستان کا چیف جسٹس ہے)، قانون کی پابندی نہیں کروں گا تو کس منہ سے دوسروں سے قانون کی پابندی کرواؤں گا۔ خبردار آئندہ ایسی حرکت مت کرنا۔


ایک بار نئی دہلی میں ”انسٹی ٹیوٹ آف آبجکٹیو اسٹڈیز“ کے ایک پروگرام میں وہ شریک تھے۔ وہ انسٹی ٹیوٹ کے اکثر پروگراموں میں شرکت کرتے تھے۔ پروگرام کافی دیر تک چلا اور بہت تاخیر ہو گئی تھی۔ آخر میں خطاب کرنے کے لیے ان کو دعوت دی گئی اور انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین ڈاکٹر منظور عالم کی جانب سے شارٹ اسپیچ دینے کی درخواست کی گئی۔ انھوں نے مائک سنبھالا اور چند باتیں کہنے کے بعد کسی فلسفی کا قول دوہرایا کہا کہ اس نے شارٹ اور لانگ اسپیچ کا فرق بتایا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ”تھینک یو“ شارٹ اسپیچ ہے اور ”تھینک یو ویری مچ“ لانگ اسپیچ ہے۔ اور تھینک یو ویری مچ کہتے ہوئے وہ ڈائس سے اتر گئے۔ لوگوں نے خوب لطف لیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔