سماجی انصاف کی نئی سیاست...نندلال شرما
2024 انتخابات کے بعد دلت، او بی سی اور مسلم ووٹوں میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کو فائدہ ہوا، جبکہ بی ایس پی کمزور ہوئی۔ سماجی انصاف کی سیاست نئے رخ پر ہے

دلت اور سماجی انصاف کی سیاست پر ہونے والی حالیہ سرگرمیوں کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ کوئی اچانک پیدا ہونے والی صورتحال نہیں بلکہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات نے اس کی بنیاد پہلے ہی رکھ دی تھی۔
13 مارچ کو لکھنؤ میں کانگریس کے زیر اہتمام ’سماجیک پریورتن دیوس‘ کے موقع پر منعقدہ پروگرام نے اس بدلتی ہوئی سیاسی سمت کو مزید واضح کر دیا۔ اس تقریب میں نہ صرف کانشی رام، شاہوجی مہاراج، جیوتی با پھولے اور ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی تصاویر نمایاں تھیں بلکہ گاندھی، نہرو اور مولانا آزاد کی موجودگی بھی ایک وسیع سیاسی پیغام دے رہی تھی۔
اندرا گاندھی پرتشٹھان کے جیوپیٹر ہال میں پروگرام کا آغاز اگرچہ دوپہر ڈھائی بجے ہونا تھا، مگر دو بجے تک ہال مکمل طور پر بھر چکا تھا۔ اسٹیج پر ایسے افراد کو جگہ دی گئی جو دلت، انتہائی پسماندہ اور پسماندہ مسلم طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سے یہ واضح اشارہ ملا کہ کانگریس اپنی سیاست کو نئے سماجی توازن کے ساتھ آگے بڑھانا چاہتی ہے۔
جب راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں کہا کہ صرف نعرے بازی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ انہیں ایسے 100 افراد درکار ہیں جو زمینی سطح پر تبدیلی کے لیے خود کو وقف کریں، تو ہال میں موجود تقریباً تمام لوگ کھڑے ہو گئے۔ یہ منظر محض جذباتی ردعمل نہیں بلکہ بدلتی ہوئی سیاسی سوچ کی عکاسی تھا۔
2024 کے انتخابات نے اس تبدیلی کو عملی شکل دی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جہاں ’400 پار‘ کے نعرے کے ساتھ میدان میں اتری تھی، وہیں اسے صرف 240 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ رہی کہ اتر پردیش میں مختلف طبقات نے کانگریس اور سماج وادی پارٹی کی حمایت کی۔
کانگریس نے اس بار اتر پردیش میں 6 نشستیں جیتیں، جو 2019 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ ان میں دلت، او بی سی، مسلم اور دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے امیدوار شامل تھے۔ دوسری طرف سماج وادی پارٹی نے 37 نشستیں حاصل کیں اور اس کے 86 فیصد کامیاب امیدوار دلت، او بی سی اور مسلم پس منظر سے تھے۔
سی ایس ڈی ایس-لوک نیتی کے پوسٹ پول سروے کے مطابق، انڈیا بلاک کو 92 فیصد مسلم، 82 فیصد یادو، 56 فیصد غیر جاٹو دلت اور 25 فیصد جاٹو دلت ووٹ حاصل ہوئے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دلت ووٹوں میں بڑی سطح پر تبدیلی آئی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بہوجن سماج پارٹی، جو کبھی دلت سیاست کی مضبوط علامت سمجھی جاتی تھی، 2024 کے انتخابات میں صفر پر آ گئی۔ ماہرین کے مطابق اگر دلت ووٹوں کا جھکاؤ انڈیا اتحاد کی طرف نہ ہوتا تو بی ایس پی کی یہ حالت نہ ہوتی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ دلت ووٹرز کے درمیان اب بھی ایک طرح کی تذبذب کی کیفیت موجود ہے، جو ممکنہ طور پر 2027 کے انتخابات تک برقرار رہ سکتی ہے۔
مایاوتی کی سیاسی کمزوری کی ایک بڑی وجہ ان کا بی جے پی کے ساتھ نرم رویہ بھی مانا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس کے اس پروگرام میں مقررین نے بغیر نام لیے ان رہنماؤں پر تنقید کی جو ’مفاہمت‘ کا شکار ہو چکے ہیں۔
راہل گاندھی نے بھی اس بات پر زور دیا کہ امبیڈکر اور کانشی رام نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، جبکہ آج کے کئی رہنما ایسا کر رہے ہیں۔ کانگریس کے او بی سی شعبے کے سربراہ انیل جے ہند نے بھی یہی بات دہرائی کہ صرف حکمران جماعت ہی نہیں بلکہ اپوزیشن کے کچھ رہنما بھی اصولوں سے ہٹ چکے ہیں۔
راہل گاندھی کی جانب سے کانشی رام کو بھارت رتن دینے کی تجویز بھی اسی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد دلت طبقے کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔ اس پر مایاوتی نے ردعمل دیتے ہوئے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ بی ایس پی کے رہنماؤں کی وراثت کو استعمال کر رہی ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ کانگریس اور راہل گاندھی نے دلتوں اور سماجی انصاف کی آواز اٹھانا اچانک شروع کیا ہے۔ بھارت جوڑو یاترا کے دوران اور اس کے بعد بھی راہل گاندھی مسلسل آئین، ذات پات کی مردم شماری اور ریزرویشن جیسے مسائل پر کھل کر بات کرتے رہے ہیں۔
لوک سبھا انتخابات میں بھی ان کی یہ بات مختلف علاقوں اور طبقات کے دلوں میں گھر کر گئی کہ ’آئین خطرے میں ہے‘۔ یہ محض ایک نعرہ نہیں تھا بلکہ ایک سنجیدہ پیغام تھا۔ انتخابات کے دوران اور اس کے بعد بھی راہل گاندھی یہ سمجھانے میں کامیاب رہے کہ آئین، جو دلتوں، پسماندہ طبقات، آدیواسیوں اور اقلیتوں کو سماجی استحصال اور جبر سے تحفظ فراہم کرتا ہے، خود خطرے میں ہے۔ وہ جب بھی اپنی تقاریر میں آئین کی سرخ جلد والی کاپی دکھاتے ہیں تو عوام اس کو ایک علامت کے طور پر دیکھتے ہیں، جو یہ پیغام دیتی ہے کہ ملک کو محفوظ رکھنے کا راستہ اسی سے ہو کر گزرتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت آئین کے موضوع پر مکالمہ آئین کانفرنسوں کے ذریعے بھی آگے بڑھایا گیا۔
ان تمام کوششوں اور بھارت جوڑو مہم کے دوران اور اس کے بعد عوام سے مسلسل رابطے کے نتیجے میں راہل گاندھی کی ایک نئی شبیہ ابھر کر سامنے آئی ہے، اور پسماندہ، محروم اور دبے ہوئے طبقات انہیں اپنا ہمدرد سمجھنے لگے ہیں۔ کانگریس کو ایک نئی شکل دینے اور اس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی کوششوں کو عظیم پریم جی یونیورسٹی کے پروفیسر اور سماجیات کے ماہر خالد انیس انصاری اس زاویے سے دیکھتے ہیں کہ کانشی رام کے سماجی انصاف کے نظریے (85 بمقابلہ 15) کے مقابلے میں راہل گاندھی کا وژن زیادہ وسیع ہے۔ اس میں نہ صرف ذات کا پہلو شامل ہے بلکہ معاشی مسائل کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ یہ صرف ذات پر مبنی سیاست نہیں بلکہ اس میں محنت کش اور غریب طبقے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
اب تک راہل گاندھی ایک ایسے رہنما سمجھے جاتے تھے جن کے پاس اپنا واضح ووٹ بینک نہیں تھا، جبکہ بہت سے ایسے طبقات بھی موجود ہیں جن کے پاس کوئی مضبوط قیادت یا نمائندگی نہیں ہے۔ ایسے میں کانگریس کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ ان طبقات تک پہنچے جو کسی ایک جماعت کے مستقل ووٹر نہیں سمجھے جاتے، جیسے انتہائی دلت، انتہائی پسماندہ اور پسماندہ مسلمان۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت سماجی انصاف کے مسئلے پر اگر کوئی نمایاں آواز سنائی دیتی ہے تو وہ راہل گاندھی کی ہے، اور جو لوگ سنگھ اور بی جے پی کی نظریاتی سمت سے اتفاق نہیں رکھتے، انہیں راہل گاندھی کے علاوہ کوئی واضح متبادل نظر نہیں آتا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔