مودی ماڈل کی ترقی عام آدمی سے کوسوں دور، آر ایس ایس سربراہ کا انکشاف

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ تعلیم و صحت عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔ یہ مودی حکومت کے ترقیاتی ماڈل پر سوال ہے، جہاں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے مگر غریب عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں

<div class="paragraphs"><p>مودی اور بھاگوت کی فائل تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

جگدیش رتنانی

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے بالکل درست کہا ہے کہ صحت اور تعلیم عام ہندوستانیوں کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں اندور میں ایک سستے کینسر نگہداشت مرکز کے افتتاح کے موقع پر انہوں نے کہا، ’’اچھی صحت کی سہولیات اور معیاری تعلیمی ادارے آج ہر شہری کی ضرورت ہیں، لیکن افسوس یہ ہے کہ دونوں ہی شعبوں میں معیاری خدمات اب عام انسان کی دسترس اور مالی صلاحیت سے باہر ہیں۔‘‘

سنگھ کے سربراہ کی اس بات کو بہت سے لوگ نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کے ترقی ماڈل پر بالواسطہ تنقید کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سستی تعلیم اور معقول صحت کی سہولتوں کے بغیر ’وِکست بھارت‘ کا خواب کبھی حقیقت کا روپ نہیں لے سکتا۔ آر ایس ایس نے بی جے پی حکومت کے دور میں ان مسائل کو اجاگر کیا ہے، جنہوں نے عام لوگوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ تعلیم میں بہتری تو نہیں آئی، الٹا یہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گئی ہے۔ اسی طرح صحت کو اب خدمت نہیں بلکہ کاروبار سمجھا جا رہا ہے، جہاں گفتگو علاج کے بجائے سرمایہ کاری، آئی پی او اور مراعات کے حوالے سے ہوتی ہے۔ ان دونوں میدانوں میں بے شمار غلط رویے جڑ پکڑ چکے ہیں۔ خاص طبقے کے لیے صحت و تعلیم میں عالمی معیار کی سہولتیں دستیاب ہیں کیونکہ وہ اس پر اٹھنے والا خرچ برداشت کر سکتے ہیں، جبکہ عام لوگ مسائل کی دلدل میں پھنسے رہتے ہیں۔

یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں کہ کچھ شعبے خدمت کے جذبے سے وابستہ مانے جائیں۔ تعلیم نئی نسل کو علم عطا کرتی ہے اور طب بیمار کو شفا بخشتی ہے۔ اس لیے یہ امید کی جاتی ہے کہ ان سرگرمیوں کو بازار کے دائرے سے باہر رکھا جائے اور انہیں اس مسابقت سے بچایا جائے جو دوسرے شعبوں کی ترقی میں معاون ہے۔ بھاگوت نے بھی یہی بات دہرائی جب انہوں نے کہا، ’’پہلے یہ (تعلیم اور صحت) خدمت کے کام تھے، آج یہ کاروبار بن گئے ہیں۔‘‘

سوال یہ ہے کہ ایسے سماج میں جہاں سب کچھ بازار کی نذر ہو چکا ہو، بڑے پالیسی بدلاؤ کے بغیر تعلیم و صحت کو بازار سے کیسے آزاد کیا جا سکتا ہے؟ مشہور دانشور مائیکل سینڈل نے ‘مارکیٹ اکنامی‘ اور ’مارکیٹ سوسائٹی‘ کے فرق کی بات کی تھی۔ ان کے مطابق مارکیٹ اکنامی کارکردگی بڑھاتی ہے، مگر مارکیٹ سوسائٹی ہر چیز کی قیمت طے کرتی ہے، یہاں تک کہ کچھ بھی ایسا باقی نہیں رہتا جو پیسے سے نہ خریدا جا سکے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان اصولی طور پر اب ایک بازار کی معیشت بن چکا ہے لیکن عملی طور پر یہ ’مارکیٹ سوسائٹی‘ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ یہ اس ملک کے لیے متضاد صورتِ حال ہے جس کے دستور کی تمہید میں ’سوشلسٹ‘ کا لفظ درج ہے۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ شاید ہی کوئی چیز ہو جسے ملک کے سب سے امیر ایک فیصد لوگ نہ خرید سکیں، چاہے وہ تحفظ ہو یا کامیابی۔ نتیجہ یہ کہ جو لوگ ادائیگی نہیں کر پاتے، وہ مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ یہ حالت ہر شعبے میں ہے لیکن خاص طور پر ہسپتالوں اور اسکولوں میں یہ واضح نظر آتی ہے۔


ایسی صورتحال میں بیمہ کمپنیاں منافع کیوں نہ کمائیں، میڈیکل ایجوکیشن کا کاروبار بھاری فیس کیوں نہ وصول کرے اور ڈاکٹر و اساتذہ قلیل تنخواہوں پر کیوں سمجھوتہ کریں؟ ان کی ضروریات رہائش، سفر، آلات، تعلیمی مواد اور دیگر اخراجات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور سب کچھ بازار کی نذر ہو چکا ہے۔ مقامی سطح کے عطیات بس معمولی حد تک کارآمد ہوتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہندوستان میں گنے چنے ہی اسپتال اور تعلیمی ادارے رسمی طور پر چیریٹی یعنی رفاہی کے زمرے میں آتے ہیں، ان میں بھی اکثر حقیقی معنوں میں رفاہی نہیں ہیں۔ بالآخر بازار کی مجبوری غالب آ جاتی ہے اور وقت کے ساتھ عام ہندوستانی ان سہولتوں سے محروم رہ جاتا ہے۔

جو لوگ خدمت کے جذبے، ذمہ داری اور فرض کے اصولوں پر یقین رکھتے ہیں، ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ یہ برائی کس طرح پورے نظام میں سرایت کر چکی ہے۔ تعلیم و صحت کی ناکامی دراصل اس بڑی بیماری کی علامت ہیں جسے ترقی کی بنائی گئی ’افسانوی داستان‘ اور ’خیالی بڑی معیشت‘ نے جنم دیا ہے۔ یہ وہ ماڈل ہے جس نے ایلیٹ طبقے کے ہوائی اڈوں اور بلٹ ٹرین کے خواب پورے کرنے کی کوشش کی مگر غریبوں کی بنیادی ضروریات کو نظرانداز کر دیا۔ یہی وہ سوچ ہے جس نے بھاگوت کو اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ’ٹرلین ڈالر اکنامی‘ کے ذکر کی طرف مائل کیا یا نیتی آیوگ کو یہ نوٹ بنانے پر مجبور کیا کہ ’’صحت کے شعبے میں گزشتہ چند برسوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھی ہے۔ یہ کاروبار 2011 میں 94 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2016 میں 1,275 ملین ڈالر تک پہنچ گیا، یعنی 13.5 گنا اضافہ ہوا۔ عالمی کمپنیاں بھی سرمایہ کاری کے لیے ہندوستان کو پرکشش ماننے لگی ہیں۔‘‘

لیکن اس راستے پر چلتے رہنا دراصل تباہی کو دعوت دینا ہے۔ نہ پرائیویٹ ایکویٹی کوئی حل ہے اور نہ وینچر کیپٹل۔ اس جال سے نکلنے کے لیے حکومت کو ترقی نامہ کے مقصد پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ بلاشبہ ہندوستان آج دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے، لیکن اس کا مطلب کیا ہے؟ آکسفیم کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ملک کی مجموعی دولت کا 75 فیصد سے زیادہ حصہ صرف 10 فیصد امیر ترین لوگوں کے پاس ہے، جبکہ آبادی کے سب سے غریب نصف حصے کی دولت میں صرف ایک فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

ہمارے آس پاس ایسے ماڈل بھی ہیں جو کامیاب ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں ’اروند آئی کیئر سسٹم‘ ہے، جو ہندوستان میں آنکھوں کے علاج کا ایک بہترین نیٹ ورک ہے۔ یہ ادارہ اپنی خدمات کی تشہیر پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کرتا بلکہ اپنے وسائل سب سے محروم اور کمزور لوگوں تک پہنچانے میں صرف کرتا ہے۔ یہ گاندھی جی کی پسندیدہ کتاب ’انٹو دِس لاسٹ‘ سے متاثر ہے۔ یہ کتاب جان رسکن کے مضامین پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ معیشت کو بھی فنون اور سائنس کی طرح اخلاقی بنیادوں پر استوار ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے ایک الگ عزم کی ضرورت ہے جو بڑے مقصد اور انکساری کے ساتھ آئے اور جہاں مارکیٹنگ یا آج کے ہندوستان کی پہچان بن چکے طاقت کے مظاہرے کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔

(مضمون نگار جگدیش رتنانی صحافی ہیں اور ’ایس پی جے آئی ایم آر‘ میں فیکلٹی سے وابستہ ہیں۔ مآخذ: دی بلین پریس)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔