تعلیم کے شعبہ پر ’عالمی وبا کورونا‘ کے اثرات... سلمان غنی

اساتذہ کا کہنا ہے کہ آن لائن کلاسز کے درمیان بچوں کے سوالات بہت کم آتے ہیں۔ کبھی کوئی بچہ انٹرنیٹ کی اسپیڈ کم ہونے کی شکایت کرتا ہے تو کبھی ٹیچر کی آواز بچوں تک ٹھیک سے نہیں پہنچ پاتی۔

علامتی تصویر... Getty Images
علامتی تصویر... Getty Images
user

سلمان غنی

ایک اندازے کے مطابق کورونا کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت کو اگلے دو برسوں میں 8 لاکھ پچاس ہزار ڈالر کا نقصان ہوگا اور ساڑھے تین کروڑ سے زائد افراد انتہائی غربت میں گر جائیں گے۔ یہ نقصانات اتنے بڑے ہیں کہ ان کی تلافی میں برسوں لگیں گے۔ لیکن کورونا کی جو مار تعلیم کے شعبے پر پڑ رہی ہے اس کی تلافی ممکن نظر نہیں آتی۔ 28 جون 2020 کی یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق 114 سے زائد ملکوں میں تمام اسکول اور کالج بند پڑے ہیں۔ پوری دنیا میں سو کروڑ طلبہ و طالبات اس سے متاثر ہیں۔ ہندوستان میں بھی گزشتہ چار مہینوں سے اسکول اور کالجوں کا تعلیمی نظام مکمل طور پر ٹھپ پڑا ہے۔ جی ہاں مکمل طور پر۔ کیونکہ ہندوستان کے 32 کروڑ طلبہ و طالبات میں جنہیں آن لائن کلاسز کا فائدہ مل رہا ہے ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ آن لائن کلاسز نے ایک ڈیجیٹل خلیج کھینچ دی ہے۔ اس کا اندازہ آپ یوں لگا سکتے ہیں کہ ہندوستان میں صرف دو ریاستیں ایسی ہیں جہاں دیہی علاقوں میں 40 فیصد سے زیادہ انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہے۔ باقی ریاستوں میں صرف 10 سے 20 فیصد گاؤں ہی ایسے ہیں جہاں کے لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ اب آپ ذرا غور کیجے کہ ان میں کتنے گھر ایسے ہوں گے جہاں روزانہ کے کھانے کا خرچ بھی مشکل سے نکلتا ہے۔ یہ لوگ اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کا خرچ کہاں سے لائیں گے۔ وہ بھی اس مشکل وقت میں جب ان کے لئے دو وقت کی روٹی کا انتظام نہیں ہو پا رہا ہے۔

2017-18 کے این ایس ایس او کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ گاؤں میں بیشتر لڑکے غریبی کی وجہ سے بیچ میں ہی اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ تعداد کتنی زیادہ بڑھے گی، اس کا اندازہ مشکل نہیں ہے۔ اسکول جب کھلیں گے تو نہ جانے کتنے بچے ایسے ہوں گے جو صرف غربت کی وجہ سے اسکول چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ان میں ایک کثیر تعداد ایسے بچوں کی بھی ہوگی جن کے گھروں میں بظاہر غریبی نہیں نظر آئے گی۔ تعلیم کی یہ صورتحال انتہائی تشویشناک رخ پر جا رہی ہے۔

آن لائن کلاسز کا تجربہ ہندوستان میں بالکل نیا ہے۔ یہ کتنا سود مند ہے اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ اس کے ذریعہ اساتذہ اور اسکول اپنے طلبہ و طالبات کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اوسط ذہن رکھنے والے بچے تو صرف اپنی حاضری درج کرنے کے لئے آن لائن کلاسز کر رہے ہیں۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ آن لائن کلاسز کے درمیان بچوں کے سوالات بہت کم آتے ہیں۔ کبھی کسی بچے کی نیٹ کی اسپیڈ کم ہوتی ہے تو کبھی ٹیچر کی آواز بچوں تک ٹھیک سے نہیں پہنچ پاتی۔ اور اس میں کافی وقت برباد ہوتا ہے۔ کئی کئی گھنٹے موبائل کے سامنے وقت گزارنے کی وجہ سے بچوں پر شدید ذہنی دباؤ بن رہا پے۔ جو بچے آن لائن کلاسز نہیں کر پا رہے ہیں ان کے ذہنوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور وہ احساس کمتری میں جا رہے ہیں۔ کیرالہ میں درجہ نہم کی ایک بچی نے صرف اس لئے خود کشی کر لی کیونکہ اس کے پاس آن لائن کلاس کرنے کے لئے اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی سہولت نہیں تھی۔

پرائیوٹ اسکول اور کالجوں کے ساتھ لاکھوں اور کروڑوں لوگوں کے روزگار جڑے ہیں۔ ان کے بند ہونے کی وجہ سے گارجین اپنے بچوں کی فیس قائدے سے نہیں ادا کر رہے ہیں۔ پرائیوٹ اسکولوں میں کام کرنے والے بیشمار اساتذہ کے سامنے اب دو وقت کی روٹی کا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ کئی اسکول تو ایسے ہیں جو کرائے کی عمارت میں ہیں۔ وقت پر کرایہ نہ دینے کی وجہ سے اب ان عمارتوں کے مالک انھیں جواب دے رہے ہیں۔ جس کے سبب ہندوستان کے بیشمار اسکول بند ہونے کی کگار پر پہنچ چکے ہیں۔ یہ صورتحال دن بہ دن سنگین سے سنگین تر ہوتی جا رہی ہے۔ تعجب اس بات پر ہے کہ حکومتی سطح سے اس مسئلے کے حل کی کوئی تدبیر نہیں کھوجی جا رہی ہے۔ ایک طرف تعلیم کا خسارہ ہو رہا اور دوسری طرف لاکھوں اور کروڑوں لوگوں کا روزگار ختم ہو رہا ہے۔ اسی لئے اس بڑے نقصان کو دیکھتے ہوئے آسٹریلیا اور سویڈن جیسے ملکوں میں لاک ڈاؤن کے دوران بھی اسکول بند نہیں کئے گئے۔ ڈینمارک میں اب احتیاطی تدابیر کے ساتھ اسکول کھول دئے گئے ہیں۔

اسکول اگر سوشل ڈسٹنسنگ، ماسک اور طاق اور جفت جیسے سخت ضابطوں کے ساتھ کھولے جائیں تو اس کے کیا نتائج سامنے آئیں گے یہ کہنا مشکل ہے۔ لیکن اب حکومت کو دو نقصانوں میں کم نقصان والے فیصلے کی طرف بڑھنا ہوگا۔ اسے اب کوئی مضبوط قدم اٹھانا ہوگا ورنہ آنے والے دنوں میں یہ صورت حال انتہائی خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے۔

next