جرم سنگین سزا ہلکی: بھلا یہ بھی کوئی انصاف ہوا؟

مقتول اکبر خان کی اہلیہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کلیدی ملزم نول کشور کو بری کیا جانا اور دیگر ملزموں کو صرف سات سات سال کی سزا سنایا جانا افسوسناک ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر ٹوئٹر / متاثرہ خاندان</p></div>

تصویر ٹوئٹر / متاثرہ خاندان

user

سہیل انجم

ہماری عدالتیں بعض اوقات پورا انصاف کرتی ہیں اور بعض اوقات آدھا ادھورا۔ بعض اوقات تو فیصلہ ہوتا ہے انصاف نہیں ہوتا۔ انصاف فیصلے کے متن میں کہیں کھو جاتا ہے۔ متاثرین و مظلومین کف افسوس مل کر رہ جاتے ہیں۔ وہ فیصلے پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہیں لیکن ہوتا کچھ نہیں ہے۔ ہاں کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہے کہ نچلی عدالتوں میں بھرپور انصاف نہ ملنے کے بعد جب اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کیا جاتا ہے تو وہاں مکمل انصاف مل جاتا ہے۔ ہم عدالتوں کی نیت پر سوال نہیں اٹھا رہے ہیں۔ اٹھانا بھی نہیں چاہیے اور ہمیں اس کا حق بھی نہیں ہے۔ پھر بھی یہ تو کہا ہی جا سکتا ہے کہ بعض اوقات عدالتیں مایوس کر دیتی ہیں۔

اب یہی دیکھیے کہ گزشہ دنوں راجستھان کے الور کی ضلعی عدالت نے گئو رکشکوں کے ہاتھوں بے دردی سے ہلاک کیے جانے والے اکبر خان کے معاملے میں (جن کا نام میڈیا میں رکبر خان لکھا جا رہا ہے) فیصلہ سنایا، لیکن سزا بہت کم دی۔ ملزموں نے ان پر اتنا تشدد کیا تھا اور انھیں اس طرح زد و کوب کیا تھا کہ ان کی موت ہو گئی تھی لیکن عدالت نے چار افراد کو صرف سات سات سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ اس نے ایک ملزم نول کشور کو جو کہ وشو ہندو پریشد کا مقامی لیڈر ہے اور جس نے مشتعل ہجوم کی قیادت کی تھی، بری کر دیا۔ جبکہ وہی اصل کردار تھا اس پورے خونی کھیل کا۔


عدالت نے جن لوگوں کو سزا سنائی ہے ان کے نام نام دھرمیندر یادو، پرم جیت، ونے کمار اور نریش کمار ہیں۔ اٹھائیس سالہ اکبر خان ہریانہ کے نوح کے رہائشی تھے۔ وہ 20-21 جولائی 2018 کی درمیانی شب میں ایک دوسرے شخص اسلم خان کے ساتھ پیدل دو گائیں لے کر جا رہے تھے کہ الور میں رام گڑھ پولیس اسٹیشن کے تحت آنے والے گاؤں لال ونڈی میں گائے محافظوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ اسلم فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے لیکن ہجوم نے اکبر خان پر تشدد کیا اور پویس کے حوالے کر دیا۔ اکبر زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔

اکبر خان کے اہل خانہ نے اس فیصلے پر اظہار مایوسی کیا ہے۔ انھوں نے مجرموں کی سزا بڑھانے کے لیے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مقتول اکبر خان کی اہلیہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کلیدی ملزم نول کشور کو بری کیا جانا اور دیگر ملزموں کو صرف سات سات سال کی سزا سنایا جانا افسوسناک ہے۔ یہ انصاف نہیں ہے۔ سزا اور بڑھائی جائے۔ ان لوگوں نے میرے شوہر کا قتل کیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ پولیس نے جان بوجھ کر اس کیس کو کمزور بنایا تھا۔ اس نے ملزموں کے خلاف دفعہ 302 یعنی قتل کے تحت مقدمہ قائم کرنے کے بجائے بے ارادہ قتل یعنی دفعہ 304 کے تحت مقدمہ بنایا۔ دفعہ 302 کے تحت کم سے کم سزا عمر قید ہوتی ہے۔ جب کہ دفعہ 304 کے تحت کم سے کم سزا دس سال کی قید ہوتی ہے۔ عدالت نے اس ہلکی دفعہ کے تحت بھی پوری سزا نہیں سنائی بلکہ کم ہی سنائی۔


خصوصی سرکاری وکیل اشوک شرما کا کہنا ہے کہ اگر چہ وہ فیصلے سے خوش ہیں لیکن سزا کافی نہیں ہے۔ دوسرے خصوصی سرکاری وکیل ناصر علی نقوی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت کو لکھ رہے ہیں کہ وہ ہائی کورٹ میں اپیل کرے۔ ملزموں کو قتل کی دفعہ کے تحت سزا سنائی جانی چاہیے۔ انھوں نے ایک ملزم کو بری کیے جانے پر اعتراض کیا اور کہا کہ اسلم خان نے عدالت میں ملزم کی شناخت کی تھی۔ اس کے باوجود عدالت نے اس کو بری کر دیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ نول کشور کے خلاف وافر ثبوت نہیں تھا۔ اب یہ نہیں معلوم کہ ثبوتوں کے فقدان میں اسے بری کیا گیا ہے یا پھر کوئی اور وجہ تھی۔

اکبر خان کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے کارکنوں اور قانون دانوں نے بھی اس فیصلے پر اظہار افسوس کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جرم قتل کا ہوا اور سزا بے ارادہ قتل کی دی گئی۔ جبکہ انھوں نے جان بوجھ کر قتل کیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ پولیس نے جان بوجھ کر اس کیس کو کمزور کر دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ 2014 کے بعد ملک میں یہ رجحان چل پڑا ہے کہ اگر کسی کیس میں ملزم کوئی مسلمان ہے تو پولیس بہت سخت دفعات کا اطلاق کرتی ہے اور بہت سخت کیس بناتی ہے۔ لیکن اگر ملزمان مسلمان نہیں ہیں تو پولیس جان بوجھ کر ایسی خامیاں چھوڑ دیتی ہے جس سے ملزمان یا تو بری ہو جائیں یا پھر انھیں کم سزا ملے۔


دہلی میں ہونے والے فسادات کے سلسلے میں بھی پولیس کا یہی رویہ رہا۔ یہاں تک کہ بعض معاملات میں مسلمانوں نے شکایت کی اور پولیس نے ان شکایت کنندگان کو ہی ملزم بنا دیا۔ جب کہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سی اے اے کے خلاف احتجاج میں شامل انسانی حقوق کے کارکنوں اور مسلم اسٹوڈنٹس کے خلاف پولیس نے انتہائی سخت مقدمہ بنایا اور ان پر یو اے پی اے بھی لگا دیا۔ یو اے پی اے ایسا قانون ہے جس میں جلد ضمانت نہیں ملتی۔ اسی لیے بہت سے مسلم کارکن اور اسٹوڈنٹس جیلوں میں سڑ رہے ہیں اور ان کو ضمانت نہیں مل رہی ہے۔

یاد رہے کہ 2014 کے بعد گائے کے تحفظ کے نام پر شدت پسند ہندوؤں کے ہجوم کے ہاتھوں سیکڑوں بے قصوروں کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا۔ لیکن بہت کم لوگوں کو سزا سنائی گئی ہے۔ ہجومی تشدد یا گئو رکشکوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی ہلاکت کے معاملوں میں یہ دوسرا معاملہ ہے جس میں سزا سنائی گئی ہے۔ اس سے قبل 2018 میں ریاست جھارکھنڈ میں رام گڑھ کی ضلعی عدالت نے ایک مویشی تاجر علیم الدین انصاری کے قتل کے معاملے میں 11 گائے محافظوں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ لیکن یہ بھی دیکھا گیا تھا کہ جب وہ ضمانت پر رہا ہو کر آئے تو اس وقت کے مرکزی وزیر جینت سنہا نے ان لوگوں کا ہار پہنا کر استقبال کیا تھا۔ اس قبیح روایت کو اس وقت زندہ کیا گیا جو بلقیس بانو کیس کے عمر قید کی سزا بھگتنے والے مجرموں کو انصاف کے خلاف معافی دے دی گئی تو ان لوگوں کی بھی عزت افزائی کی گئی تھی اور انھیں سنسکاری برہمن بتایا گیا تھا۔


انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملک میں گائے کی اسمگلنگ ایک مسئلہ ہو سکتا ہے لیکن گائے کے تحفظ کے نام پر تشکیل پانے والے گروپوں کی جانب سے مویشی لے جانے والوں پر حملے اور ان کے قتل کا کوئی جواز نہیں ہے۔ لیکن 2014 کے بعد سیکڑوں مسلمانوں کو گئو رکشکوں کے تشدد کا نشانہ بننا پڑا جن میں سے کئی مسلمان ہلاک ہو گئے اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ 2014 کے بعد سیکڑوں افراد کو گائے محافظوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تازہ واقعہ رواں سال کے فروری میں ہریانہ کے بھوانی میں پیش آیا تھا جب ناصر اور جنید نامی دو افراد کو ہجوم نے ان کی گاڑی میں زندہ جلا کر ہلاک کیا تھا۔ لیکن حیرت ہے کہ ابھی تک اس کیس کے تمام ملزموں کو پکڑا نہیں جا سکا ہے۔

قارئین کو معلوم ہوگا کہ ستمبر 2015 میں اترپردیش کے دادری میں محمد اخلاق کو بیف رکھنے کے جرم میں پیٹ پیٹ کر ہلاک کیا گیا۔ یکم اپریل 2017 کو الور میں مویشی تاجر پہلو خاں کو دوڑا دوڑا کر مارا گیا جس کے نتیجے میں ان کی جان چلی گئی۔ جون 2017 میں عید کے موقع پر ہریانہ کے کم عمر حافظ جنید کو جو کہ دہلی سے مارکیٹنگ کرکے خوش خوش اپنے گھر لوٹ رہے تھے کہ ٹوپی اوڑھنے کے جرم میں ٹرین میں چاقو مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ان کے دو بائیوں کو زخمی بھی کیا گیا۔


اسی طرح جون 2017 میں جھارکھنڈ میں علیم الدین انصاری کو گائے کی اسمگلنگ کے الزام میں ہجوم نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔ جولائی 2018 میں اکبر خان کو ہلاک کیا گیا اور جون 2019 میں تبریز انصاری کو ہجوم نے تشدد کرکے ہلاک کر دیا تھا۔ تبریز سے زبردستی جے شری رام کے نعرے بھی لگوائے گئے۔ اس کے باوجود انھیں نہیں چھوڑا گیا۔ یہ چند واقعات ہیں اور اگر ہم سال بہ سال اور مہینہ بہ مہینہ دیکھیں تو ایسے واقعات کی بھرمار ہے۔ لیکن سزا صرف دو کیسیز میں ہوئی ہے اور وہ بھی بہت کم۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے کئی بیانوں میں گائے کے تحفظ کے نام پر لوگوں کو ہلاک کیے جانے کی مخالفت کی ہے اور ایسے لوگوں کو غیر سماجی عناصر کہا ہے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ دراصل وزیر اعظم تو دنیا کو دکھانے کے لیے بیان دے دیتے ہیں لیکن حقیقتاً پولیس افسران کو یہ ہدایت نہیں دی جاتی کہ وہ ایسے لوگوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کریں۔ بلکہ ایسے واقعات میں ملوث افراد کو انعام و اکرام سے نوازا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کے حوصلے بڑھے ہوئے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔