جمہوری نظام کا آغاز...ڈاکٹر درفیشاں چاندنی

26 جنوری کا دن بہت خاص ہے کیوں کہ اسی دن قانُون ساز کمیٹی نے آزاد ہندوستان کو ایک ایسا آئین دیا جس میں ہر شہری کو برابر کا درجہ، برابری کے حقوق، مذہبی، ملی، سماجی آزادی کا بے مثال تحفہ دیا گیا

<div class="paragraphs"><p>آئین ساز اسمبلی کا اجلاس / Getty Images</p></div>

آئین ساز اسمبلی کا اجلاس / Getty Images

user

ڈاکٹر درفیشاں چاندنی

ہندوستان 15 اگست 1947 کو رات کے 12 بجے آزاد ہوا اور بہت جد و جہد کے بعد ہم کو آزادی مل گئی۔ جس کے لئے ہر طبقے، ہر فرقے اور ملک کے ہر خطہ نے لڑائی لڑی۔ آزادی کے بعد عوام کو ایک ایسے جمہوری نظام کی ضرورت تھی جس میں پوری آزادی کے ساتھ سبھی کو زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو، ان کی سماجی، ثقافتی اور مذہبی  معاملات کی سب طرح کی آزادی ہو اور وہ اپنے اپنے مذہبی اور ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔

ملک میں رہنے والے عوام کی بنیادی ضرورت روٹی کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ ایک اچھے اور مضبوط نظام اور آزادانہ طرز حکومت کی سخت ضرورت ہوتی ہے اور یہ اچھا اور اعلیٰ ترین مضبوط بندوبست نئے قوانین کا  طلبگار رہتا ہے، کیوں کہ بغیر قانون کے کسی بھی تہذیب یافتہ ملک یا قوم کا تصوّر نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستان میں آزادی کی لڑائی اور حصول آزادی کی کہانی بہت درد ناک ہے، بے انتہا قربانیوں کی داستان ہے، ہمارے بزرگوں کے خاک و خون میں لپٹی ہوئی تاریخ ہے، ہم نے اپنی خاموش قوت سے دنیا کی عظیم طاقت کو جھکا دیا اور وہ مجبور ہو گئی کہ ہندوستان کو آزاد کر دیا جائے۔


دوسری جنگ عظیم کے بعد انگریزوں نے ہندوستان کی آزادی کے معاملے میں غور و فکر کرنا اور ہندوستانی رہنماؤں اور مفکروں سے  تعاون اور مشورہ لینا شروع کیا، جن میں خاص طور پر وی پی مینن، کے وی کے سندرم، ایس آر وی کک، جارج اسپینس وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ ماؤنٹ بیٹن نے ہندوستان کی آزادی کے بل کے مسودہ کو تیار کر کے ہندوستان کے سبھی اہم اور بڑے لیڈران کو بھی دکھایا، مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، محمد علی جناح، سردار پٹیل، بلديو سنگھ وغیرہ کے علاوہ سبھی سیاسی گروپ کو بھی بل کے نکات کی جانکاری دی۔ سبھی ممبران کی بات سننے کے بعد اس میں رد و بدل بھی کیا گیا، بل میں انڈیا نام بناۓ رکھنے پر مسلم لیگ نے اعتراض بھی کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایک حصے کو ہندوستان کہا جائے اور دوسرے کو پاکستان لیکن کانگریس اس پر راضی نہیں ہوئی۔

اس کے بعد وائسرائے کے سیکریٹری  نے بل کو مکمل شکل دے کر برطانیہ بھیج دیا برطانوی وزیر اعظم نے 4 جولائی کو ہاؤس آف کامنس میں بل پیش کیا، برٹش پارلیمنٹ  نے بل کو  منظوری  دے دی۔ 15 اگست کو آزادی ملنے کے بعد 9 دسمبر 1944 کو قانُون ساز اسمبلی کا اعلان ہوا اور ایک آیئن ساز کمیٹی بنی، قانون ساز کونسل کے ممبران ہندوستان کے الگ الگ ریاستوں یا صوبوں کے تھے جن میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر، سردار ولبھ بھائی پٹیل، مولانا ابوالکلام آزاد، پنڈت جواہر لال نہرو، ڈاکٹر راجندر پرساد وغیرہ خاص تھے۔ آیئن بنانے کے لئے کل 22 چھوٹی بڑی کمیٹیاں بنایئ گیئں۔ سب سے اہم کام ڈرافٹنگ کمیٹی کا تھا۔ قانُون بنانا اور لکھنا بہت اہم ذمہ داری تھی اور اس ذمہ داری کے لئے سب سے زیادہ جی جان سے محنت کرنے والے  ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر جیسے قانون داں کا انتخاب کیا گیا۔ ان کی محنت کا عالم یہ تھا کہ آیئن سازی میں اُن کو اتنی محنت کرنی پڑی کہ وہ بیمار رہنے لگے اور صحت گرنے لگی۔


گورنر جنرل ماؤنٹ بیٹن 2 مئی 1948 کو اپنے ملک انگلینڈ واپس چلے گئے۔ اب نئے گورنر جنرل کے لئے سی راج گوپال آچاریہ کا نام طے ہوا اور وہ ہندوستان کے دوسرے گورنر جنرل منتخب ہوئے۔ آئین ساز کمیٹی کے 284 ممبرانِ نے کافی کچھ بدلاؤ اور ترمیم کے بعد 24 جنوری 1950 کو آیئن کی ہاتھ سے لکھی ہوئی دو کاپیوں پر دستخط کئے اور اسے ڈاکٹر راجیندر پرساد کے سامنے پیش کر دیا۔ اس کے صرف دو دن کے بعد 26 جنوری 1950 کا دن ہندوستان کے لئے بہت ہی خاص بن گیا کیونکہ اسی دن ہمارا آئین پاس ہو کر نافذ ہو گیا، جس کے تحت حکومت اور عوام سب اپنی ذمہ داری نبھانے کے پابند ہو گئے۔

تاریخی اعتبار سے بھی 26 جنوری کا دن بہت اہم ہے۔ دریائے راوی کے کنارے لاہور میں انڈین نیشنل کانگریس کی کانفرنس میں 26 جنوری 1930 کے ہی دن ہندوستان کی مکمل آزادی کا اعلان کیا گیا اور انگریزوں سے آزادی کی مانگ رکھی گئی۔ اسی لئے آزادی ملنے کے بعد آئین کو نافذ کرنے کے لئے 26 جنوری کی تاریخ کا انتخاب کیا گیا۔


26 جنوری کا دن آزاد ہندوستان کے لئے بہت ہی خاص ہے کیوں کہ اسی دن قانُون ساز کمیٹی نے آزاد ہندوستان کو ایک ایسا آئین دیا، جس میں ہر شہری کو برابر کا درجہ، برابری کے حقوق  ، مذہبی، ملی،  سماجی آزادی کا بے مثال تحفہ دیا گیا۔ عوام کے ’بنیادی حقوق‘ کے ذریعہ سبھی کو تعلیم، نوکریاں تجارت کے عام حقوق حاصل ہو گئے۔ آئین کے ذریعہ حکومت کی بھی ذمہ داری دی گئی کہ سرکار عام فلاحی کام کر کے شہریوں کو آرام کی سہولیات مہیا کرائے گی۔ یہ دن جو صرف خاص نہیں بلکہ بہت ہی خاص ہے کیوں کہ اس کی تاریخ کا ایک لمبا سفر رہا ہے جس میں ہندوستان کے راجہ، مہاراجہ، رانی، فوجی، کسان، لیڈران اور عوام يا یوں کہا جائے کہ ملک کی آزادی کے لئے تن من اور دھن کی قربانی دینے والوں کا وہ خواب ہے جو سچ ہوا اور حقیقت بنا۔ تباہیوں بربادیوں اور مسلسل جی توڑ کوششوں کے بعد عوام کو غلامی کے دلدل سے نجات ملی اور ملک چہار سو آزادی کے پھولوں سے معطر ہو گیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔