ظفر بھائی! کچھ یادیں، کچھ باتیں... سید حسین افسر

بنیادی طور سے ظفر آغا انگریزی کے صحافی تھے مگر انہوں نے جلد ہی اردو اور ہندی زبان پر بھی دسترس حاصل کر لی تھی، ملک و بیرون ملک کے اخبارات و جرائد میں ان کے بے باک مضامین مقبول عام ہوتے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ حسین افسر</p></div>

تصویر بشکریہ حسین افسر

user

حسین افسر

ملک کے مایہ ناز صحافی ظفر آغا صاحب کے انتقال کی خبر نے (جمعہ 22 مارچ) صحافتی برادری کو جھنجھوڑ دیا۔ مسکراتا چہرہ، گفتگو میں نرمی، طور طریقوں میں شائستگی اور دنیاوی معلومات سے لیس اس عظیم قلمکار سے ہماری ملاقات اس زمانے میں ہوئی جب ایودھیا کی بابری مسجد کا قضیہ اور پارلیمانی و ریاستی اسمبلی کے الیکشن کا جائزہ اخبارات کی سرخیاں بنا ہوا تھا۔ ظفر بھائی دہلی سے لکھنؤ آتے اور جنرل پوسٹ آفس کے پریس روم سے اپنی خبریں اخبار کو ٹیلیکس اور بعد میں فیکس کرتے تھے۔ لکھنؤ کے جنرل پوسٹ آفس میں شہر کے باہر کام کرنے والے صحافیوں کا مرکز بن چکا تھا۔ کچھ ہی دنوں میں ظفر بھائی کے صحافتی تجربات سے ہم سب استفادہ کرنے لگے۔ گہری معلومات، بے باک فقرے اور ناقابل دفاع جملے ہم سب کو اپنی طرف کھینچنے لگے۔ شہر کی چہل پہل کا بھی وہ حصہ بن جاتے۔ ظفر آغا صاحب بھائی سے دوست بن گئے۔ دوست صحافی پردیپ کپور صاحب اور عبید اللہ ناصر صاحب کے ساتھ ہم لوگ گھنٹوں تبادلہ خیال کرتے۔

ظفر بھائی نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز لینک میگزین سے کیا تھا، اس کے بعد انہوں نے کبھی پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا۔ انگریزی کے مشہور اخبارات پیٹریاٹ، خلیج ٹائمس، عرب نیوز، انڈیا ٹوڈے، تہلکہ اور آخر میں قومی آواز و نیشنل ہیرالڈ کی ویب سائٹ کے ایڈیٹر اِن چیف بنے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بنیادی طور سے وہ انگریزی کے صحافی تھے مگر انہوں نے جلد ہی اردو اور ہندی زبان پر بھی دسترس حاصل کر لی تھی۔ ملک اور بیرون ملک کے اخبارات و جرائد میں ان کے بے باک مضامین اور تبصرے شائع ہو کر مقبول عام ہوتے۔ انھوں نے اپنی زبان اور جرأت مندانہ تحریروں سے لوگوں کے دل جیتے۔ ان کی تحریروں میں خوف کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا تھا۔ یہی بے باکی ایک بار ان کی پریشانی کا سبب بھی بنی جب حکومت اتر پردیش نے چند صحافیوں کو گھیرنے کی کوشش کی، مگر بھلا ہو سپریم کورٹ کا جس نے صحافیوں کی مدد کی۔

ظفر بھائی! کچھ یادیں، کچھ باتیں... سید حسین افسر

ظفر آغا 1954 میں الٰہ آباد میں پیدا ہوئے اور یادگار حسینی انٹر کالج سے تعلیم حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کیلئے الٰہ آباد یونیورسٹی سے رجوع کیا اور یہاں سے انہوں نے انگریزی میں ایم اے کی سند حاصل کی۔ مرحوم کی تحریروں کا محور و مرکز معاشرے کی خوشحالی بالخصوص مسلم معاشرے کو جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرانا تھا۔

ظفربھائی دہلی سے اکثر فرمائش کرتے کہ یوپی کی سیاست کے اس موضوع پر کچھ لکھ کر بھیج دیجئے، کبھی یہ حکم ہوتا کہ شہر لکھنؤ کے بارے میں کچھ دلچسپ فیچربھیجئے۔ ہم حتی المقدور ان کے حکم کو بجا لاتے۔ اس طرح سے قومی آواز سے بھی ایک رشتہ بن گیا۔ ادھر بیچ میں کئی کئی بار ظفر بھائی بیمار ہوئے لیکن اپنے گھر سے وہ ادارتی کاموں کو انجام دیتے رہے۔ ہفتہ دس دن قبل میں نے خیریت کے لئے فون کیا تو انہوں نے کہا کہ جلد ہی لکھنؤ آؤں گا اور سب کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کی جائے گی۔ کچھ غم دوراں پر آنسو بہائے جائیں گے۔ لیکن یہ آخری ملاقات نہیں ہو سکی۔


ظفر بھائی کے ساتھ جن جن صحافیوں نے کام کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں سے بھی انتہائی نرمی، شائستگی اور شفقت سے پیش آتے تھے۔ خوبصورت انگریزی، دلکش اردو میں وہ خوب بات کرتے تھے۔ تاریخ اور عالمی جغرافیہ پر بھی ان کو عبور حاصل تھا۔ ان کو سیاسی قصے، سیاستدانوں کی عیاریاں اور مکاریوں سے بھری پڑی داستانیں بھی خوب معلوم تھیں۔ خبروں پر ان کے دلچسپ تجزیے اور پیشین گوئیاں بھی ان کی صحافتی استعداد کا نمونہ تھیں۔

بہرحال، ظفر بھائی جیسے شریف النفس انسان اور صحافی اب اس میدان میں کم رہ گئے ہیں، جن پر فخر کیا جا سکے۔

خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھی مرنے والے میں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔