یو جی سی کو ختم کرنا نوٹ بندی جیسا خطرناک ہوگا

حکومت کے پاس سماج کے بارے میں ویژن ہونا ضروری ہے۔ لیکن اب اس کے آخری سال میں اس حکومت کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اس کا ارادہ کچھ نیا بنانے کا نہیں بلکہ جو کچھ ہے اسے برباد کر دینے کا ہے۔

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا
user

اپوروانند

اپنے آخری دنوں میں حکومت ہند اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں نوٹ بندی جیسا ایک بڑا فیصلہ لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کو ختم کر کے ایک اعلیٰ تعلیم کمیشن تشکیل کرنے کی تجویز سب کے سامنے پیش کی ہے اور 7 جولائی تک اس پر رائے مانگی ہے۔ 1956 سے چلے آ رہے ایک ادارہ کو ختم کرنے جیسے فیصلے میں یہ جلد بازی حکومت کی سنجیدگی کا پردہ فاش کر دیتی ہے۔

کیوں وہ آج کی کمیشن کو ختم کرنا چاہتی ہے اور یہ نئی کمیشن اس سے کس طرح الگ ہوگی، اس سلسلے میں کوئی واضح بیان دینا اس نے ضروری نہیں سمجھا۔ یہ اس حکومت کے مزاج کے مطابق ہے کیونکہ اس کا دماغ پالیسی کی زبان میں سوچنے کا عادی نہیں ہے اور نہ ہی معیشت، نہ سماج کو لے کر اس کے پاس کوئی نظریہ ہے۔ حکومت کے پاس سماج کے بارے میں ویژن ہونا ضروری ہے۔ لیکن اب اس کے آخری سال میں اس حکومت کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اس کا ارادہ کچھ نیا بنانے کا نہیں ہے بلکہ جو کچھ بھی ہے اسے برباد اور تہس نہس کر دینے کا ضرور ہے۔ اس سے لوگوں کو غلط فہمی ہوتی ہے کہ اتنا بڑا قدم اٹھانے کے لیے بڑا دل گردہ چاہیے تھا جو اب دکھلائی پڑا ہے۔ اس سے انہدامی پالیسی کے تئیں عزت بھی پیدا ہوتی ہے اور خود کو لے کر احساس کمتری بھی کہ ہم اتنے بڑے قدم کی صرف اپنی وجہ سے تنقید کر رہے ہیں۔

بہر حال، نئی تعلیمی کمیشن کو تشکیل کرنے کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ تعلیم میں سرکاری مداخلت ختم کی جائے۔ اس حکومت کے منھ سے یہ سن کر ہنسی ہی آ سکتی ہے جو روزانہ اپنی وزارت کے ذریعہ یونیورسٹیوں کو یہ بتاتی رہتی ہے کہ انھیں احاطہ میں کتنا اونچا پرچم لگانا چاہیے، جو یوگا ڈے، سردار پٹیل جینتی پر ملکی اتحاد کی دوڑ، گاندھی جینتی پر سوچھتا دیوس، یومِ تعلیم پر وزیر اعظم کی تقریر کا نشریہ وغیرہ کا حکم جاری کرتی رہتی ہے، جو انھیں اپنے یہاں ’ہمت کی دیوار‘ کھڑی کرنے کا حکم دیتی ہے، وہ خودمختاری کے تئیں پرعزم ہے۔ اس سے بڑا مذاق سنا نہیں گیا ہے۔ آپ وائس چانسلروں سے بات کر کے دیکھیں، وہ روزانہ یو جی سی سے آنے والے خطوط سے حیران ہیں۔ یہ سارے خط وزارت کے حکم کی تعمیل کے لیے جاری کیے جاتے رہے ہیں۔

یو جی سی کو گزشتہ سالوں میں جس حکومت نے اپنا پوسٹ آفس یا پاپوش بنا کر رکھ دیا ہے وہ آخر کسی خود مختار ادارہ کی تشکیل کیسے کر سکتی ہے؟ خود مختاری یعنی آزادی کی قلعی مجوزہ ادارہ کے سربراہ اور اراکین کے سلیکشن کے عمل سے بھی کھل جاتی ہے۔ انتخابی کمیٹی کی صدارت کابینہ سکریٹری تو کریں گے ہی، اس کے ایک رکن اعلیٰ تعلیم سکریٹری ہوں گے۔ ظاہر ہے یہ انتخاب پوری طرح سے حکومت کی مرضی کا ہوگا اور حکومت کے ذریعہ منتخب کمیشن کے عہدیداران حکومت کے ماتحت ہی ہوں گے۔ ان سے کسی آزاد خیالی کی امید بے معنی ہی ہے۔ یہ بھی نہیں لکھا گیا ہے کہ سلیکشن کمیٹی اپنی تجویز کسے بھیجے گی؟ کیا وزیر کو بھیجے گی؟

اس کے علاوہ وزیر برائے فروغ انسانی وسائل کی صدارت والی ایک عام کونسل کی تجویز بھی رکھی گئی ہے۔ یہ تو پوری طرح سے حکومت کی اعلیٰ تعلیم پالیسی اور نظام پر قبضہ کی کوشش ہے۔ اس کے علاوہ اس ادارہ کے اراکین میں حکومت کے تین سکریٹری ہوں گے۔ یہ فیصلے کے عمل پر حکومت کی گرفت کو مضبوط ہی کر دے گا۔ پھر ہم کس آزادی کا تصور کر رہے ہیں؟

یو جی سی کی جگہ ایک الگ یونٹ کی تجویز نئی نہیں ہے۔ لیکن جو پچھلی تجویز تھی اس کی ایک بنیاد تھی۔ یشپال کمیٹی نے 2009 میں کہا تھا کہ ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم ٹکڑے ٹکڑے میں بنٹ گئی ہے اور اس کے لیے مجموعی پالیسی کے نظریہ کی کمی ہے۔ قانون، آرٹس، میڈیکل، تکنیکی تعلیم، ٹیچر ٹریننگ، سب کے لیے الگ الگ ریگولیٹری بنے ہوئے ہیں اور وہ کبھی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر تعلیم پر مجموعی طور پر مذاکرہ نہیں کرتے۔

یشپال کمیٹی کا کہنا تھا کہ تعلیم کو ایک مجموعی شکل میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے الگ الگ پیشوں میں، مثلاً قانون یا میڈیکل یا آرٹس میں داخلہ لینے کی شرطیں ان سے منسلک ادارے کریں، لیکن ان کی تعلیم کس طرح ہو، یہ طے کرنا ان کا کام نہیں ہونا چاہیے۔ یشپال پیشہ ور تعلیم اور عام تعلیم میں تقسیم کے خلاف تھے۔ وہ آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم جیسے اداروں پر بھی علم کے مختلف سیکٹر کو اپنے احاطہ میں جگہ دینے کے لیے زور ڈالتے رہے تھے۔ اسی نظریہ سے وہ یہ تجویز پیش کر رہے تھے کہ یو جی سی سمیت سبھی مختلف ریگولیٹری اداروں کی جگہ ایک وسیع نظریہ والے ریگولیٹری کی تشکیل کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر سارے ریگولیٹری جیوں کے تیوں ہیں تو پھر صرف یو جی سی کو ہی کیوں ختم کرنا ہے۔

خودمختاری کو لے کر یشپال کا نظریہ حکومتی نظریوں سے الگ تھا۔ آج کی حکومت کہتی ہے کہ نئی کمیشن طے کرے گی کہ کب، کیسے، کس تناسب میں کس ادارہ کو آزادی دی جائے۔ یشپال کا کہنا تھا کہ آزادی ہر تعلیمی ادارہ کا حق ہے، وہ کوئی انعام نہیں ہے جو حکومت اسے دینا طے کرے گی۔ یشپال اس کمیشن کو انتخابی کمیشن کی طرح حکومت سے پوری طرح آزاد کرنا چاہتے تھے۔ اس میں وہ کسی بھی طرح حکومت کی موجودگی کے حق میں نہیں تھے۔

حکومت کہہ رہی ہے کہ نئی کمیشن تعلیمی اداروں کے مینجمنٹ میں دخل اندازی کو ختم کرے گی۔ لیکن اب بھی ہر یونیورسٹی اپنی سرگرمیاں ان قوانین کے تحت چلاتی ہے جن کے ذریعہ اس کی تشکیل ہوئی ہے۔ دہلی یونیورسٹی کا ایکٹ الگ ہے اور حیدر آباد یونیورسٹی کا الگ۔ وہ طلبا کا داخلہ کیسے کریں، اساتذہ کا انتخاب کس طرح کریں، کس طرح کے نصاب چلائیں، اس کے لیے وہ پوری طرح آزاد اور اہل ہیں۔ لیکن گزشتہ سالوں میں یو جی سی نے ہر علاقے میں مداخلت کرنی شروع کر دی ہے۔ نصاب شروع کرنے کے پہلے کیوں یونیورسٹی کو کمیشن کی اجازت لینی چاہیے یا وہ پروفیسر بحال کرے یا اسسٹنٹ پروفیسر، یا ان عہدوں کے درمیان کیا تناسب ہو، یہ کمیشن کیوں طے کرے! یونیورسٹی کو کب اور کس طرح کے اساتذہ کی ضرورت ہے، یہ طے کرنے کا حق اس کا ہونا چاہیے۔

آج سیمسٹر یا سی بی سی ایس جیسے ڈھانچے کو ہر طرح کی یونیورسٹی پر تھوپ کر کمیشن نے افرا تفری پیدا کر دی ہے۔ اگر سبھی یونیورسٹی ایک ہی طرح کا نصاب چلائیں گے تو ان میں انفرادیت کیا رہی؟ ایک دوسرے سے صرف نام میں ہی الگ رہ جائے گا۔

اس حکومت کی ذہنیت یکسانیت پیدا کرنے کی ہے۔ تعلیم یا معلومات کی اسے کوئی فکر ہو، ایسا اس کے کسی بیان سے معلوم نہیں پڑتا۔ یہ روزگار کو اعلیٰ تعلیم کا سب سے بڑا مقصد بتاتی ہے اور یونیورسٹی کو بازار کے لیے مناسب نوجوان تیار کرنے کو کہتی ہے۔د نیا کی کسی بھی بہتر یونیورسٹی کا یہ مقصد نہیں ہوتا۔ نہ تو ہارورڈ، نہ آکسفورڈ، نہ پرنسٹن۔ یہ کہتے ہیں کہ اپنے نصاب بازار کے مطابق بنائیں گے۔ یہ صرف خود کو ’عالمی گرو‘ ماننے والا ہندوستان کہتا ہے۔ یا زیادہ مناسب یہ کہنا ہوگا کہ یہ اس کی حکومت اور اس کے صنعت کار کہتے ہیں۔ ہمیں علم حاصل کرنے کی خواہش ہی نہیں۔ ہم معلومات کے قلی بنا کر مطمئن ہو جانا چاہتے ہیں۔

گزشتہ چار سالوں میں حکومت اور اس کے وزراء کے بیانات کو یاد کریں۔ کیمپس میں حب الوطنی، فوج کے تئیں عزت، ہندوستانی ثقافت کی تشہیر، قدیم معلومات کی یاددہانی کے طریقوں کو لے کر وہ زیادہ فکرمند ہیں۔ آج تک ہم نے نئی معلومات، ایجاد، نئے اصول وغیرہ کو لے کر ان میں کوئی جوش نہیں دیکھا۔ پھر وہ حکومت اپنے آخری لمحوں میں اعلیٰ تعلیم میں جب پالیسی سے متعلق اصلاح کا دعویٰ کرے تو اس پر شبہ ہی کیا جا سکتا ہے۔

اس حکومت نے آنے کے ساتھ جو سلوک جے این یو، حیدر آباد یونیورسٹی یا دہلی یونیورسٹی کے ساتھ کیا ہے، یا اس حکومت کے وزراء اور ان کی پارٹی کے اداروں نے جو کچھ بھی ان سالوں میں کیا ہے اس سے یہ ظاہر ہے کہ وہ احاطوں کو اپنے رنگروٹ بھرتی کرنے اور اپنی تشہیر کے اسٹیج سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے۔ اسے وہ ترنگے کی آڑ میں کرنا چاہتے ہیں۔ جو حکومت یہ کہے کہ ٹیکس دہندگان کے پیسے سے تعلیم دی جا رہی ہے، اس لیے وہ کیسی ہوگی، یہ وہ طے کرے گی، وہ حکومت تعلیم یا معلومات کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے، یہ الگ سے کہنے کی ضرورت نہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 30 Jun 2018, 6:10 AM