سائنسی قصہ گو مودی کا ملک سے خطاب اور انتخابی کمیشن کا زوال... رویش کمار

پی ایم نریندر مودی کے ذریعہ قوم کے نام خطاب اور سائنسدانوں کی کامیابی پر خود ستائی سے کئی لوگ حیران ہیں۔ این ڈی ٹی وی کے معروف صحافی رویش کمار نے بھی اس پر اپنا نظریہ ایک بلاگ میں پیش کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اگست 2008 کی ایک صبح ہم چنئی سے شری ہری کوٹہ کے ستیش دھون اسپیس سنٹر پہنچے تھے۔ دنیا بھر سے آئے درجنوں اسپیس جرنلسٹس کے درمیان میں گاؤں گلی کی خبریں کرنے والا بھی کسی طرح پہنچ گیا تھا۔ ہندوستان اپنا پہلا ’مون مشن‘ یعنی ’چندریان‘ کو لانچ کرنے والا تھا۔ وہاں دنیا بھر سے آئے ایسے صحافی تھے جو کئی سالوں سے خلائی ایشوز پر لکھتے آئے تھے۔ یہی ان کا شعبہ کار بھی تھا۔ وہ ہندوستان کی کامیابی کو شک اور حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ ہندوستان کی طرف سے دو چار ہی تجربہ کار صحافی تھے۔ باقی تصویریں کھینچ رہے تھے اور ویڈیو بنا رہے تھے۔

بہر حال، بارش کی بوندیں کچھ سیکنڈ کے لیے رکیں اور اتنی ہی دیر میں چندریان اپنے ہدف کی طرف نکل گیا۔ وہ لمحہ دیکھنا اور ناظرین کو دکھانا دونوں ہی فخر کا موقع تھا۔ اس کے بعد ہم سبھی چھت سے اتر کر ایک بڑے سے جلسہ گاہ میں لائے گئے جہاں چندریان پروجیکٹ سے جڑے سائنسدانوں نے ہم سب کو تفصیلی جانکاری دی۔ اس وقت اِسرو کے سربراہ جی. مادھون تھے۔ سینکڑوں کیمرے کے سامنے ملک کے سائنسدان ملک سے بات کر رہے تھے۔ اس کے بعد کے کچھ دنوں تک وہی سائنسدان کئی نیوز چینلوں میں جا کر اپنی کامیابی کے بارے میں بتا رہے تھے۔

2008 کی کامیابی معمولی نہیں تھی۔ اس وقت بھی ہندوستان میں ایک وزیر اعظم تھے جن کا نام منموہن سنگھ تھا۔ انھوں نے مبارکباد دی اور باقی سائنسدانوں پر چھوڑ دیا کہ وہ ملک سے بات کریں۔ سینکڑوں کیمروں کے سامنے اسرو کے سائنسداں تھے۔ منموہن سنگھ اور ان سے پہلے کسی وزیر اعظم نے اِسرو کی کامیابی کو اپنے انتخابی پوسٹر میں استعمال نہیں کیا۔ بدھ کو ’مشن شکتی‘ کے کامیاب ہوتے ہی وہاٹس ایپ یونیورسٹی میں میزائل کی تصویروں کے ساتھ نریندر مودی کے پوسٹر بن کر چلنے لگے تھے۔

اتنا ہی نہیں، 27 مارچ کو جب ہندوستان نے اے-سیٹ میزائل صلاحیت کا تجربہ کیا تو کیمروں کے سامنے سے سارے سائنسداں غائب کر دیئے گئے۔ صرف اور صرف ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی سامنے تھے۔ اس کامیابی کی ایک ہی تصویر عوام کے درمیان پہنچی ہے۔ قوم کے نام خطاب والی نریندر مودی کی تصویر۔ ان کے حامی اسے فیصلہ لینے والی حکومت کی کامیابی بتا رہے ہیں۔ لانچنگ اور تجربہ کے وقت جشن مناتے سائنسدانوں کی تصویریں بھی نظر نہیں آئیں۔

این ڈی ٹی وی کے آرکائیو میں 19 اپریل 2012 کا ایک ویڈیو فوٹیج ہے۔ اس وقت ہندوستان نے ’لو آربٹ‘ میں سیٹلائٹ کو مارنے والی میزائل اگنی-V کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ ویڈیو میں اس وقت کے ڈی آر ڈی او ڈائریکٹر جشن مناتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ 28 مارچ 2019 کو ڈی آر ڈی او کے ڈائریکٹر عہدہ پر ڈاکٹر جی ستیش ریڈی فائز ہیں لیکن وہ میڈیا سے غائب تھے۔ ان کی ٹیم بھی غائب تھی۔ ان کی جگہ ڈی آر ڈی او سے ریٹائر اور اس وقت نیتی آیوگ کے رکن بن چکے وجے سارسوت میڈیا میں اس کے بارے میں جانکاری دے رہے تھے۔ موجودہ چیئرمین اور سائنسدان ملک کے سامنے سے غائب رہے۔ ایک ریٹائر کیا ہوا چیئرمین سب کچھ بتا رہا تھا تاکہ وہ اسی بہانے یو پی اے حکومت پر تبصرہ کر سکے کہ اس نے مشن شکتی کی اجازت نہیں دی۔ بعد میں انہی کے بیان کے سہارے ارون جیٹلی بی جے پی ہیڈ کوارٹر میں کانگریس پر حملہ کر رہے تھے۔ موجودہ چیئرمین یہ بات نہیں کہہ سکتے تھے کیونکہ انتخابات کی وجہ سے ضابطہ اخلاق نافذ ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ یہی وی کے سارسوت ہیں جنھوں نے 10 فروری 2010 کو کہا تھا کہ ہندوستان کے پاس سیٹلائٹ کو مار گرانے والی میزائل صلاحیت ہے لیکن وہ اصلی سیٹلائٹ کو مار کر اپنی صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔ ہندوستان اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتا کیونکہ اس سے خلاء میں کچرا پیدا ہوتا ہے۔ ان کچروں سے خلا میں سیٹلائٹ نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس وقت ڈی آر ڈی او چیف رہتے ہوئے وی کے سارسوت نے جو کہا وہ مان لیا گیا۔ آج وہی نیتی آیوگ کے رکن بن کر یو پی اے حکومت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ آپ ان کے بیان کو انٹرنیٹ میں سَرچ کر سکتے ہیں۔ نیتی آیوگ کے نائب صدر راجیو کمار کی طرح وی کے سارسوت نے بھی انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔

ظاہر ہے، یہ سیاست ہے۔ اِسرو اور ڈیفنس ریسرچ کا استعمال نریندر مودی اپنے سیاسی مفاد کے لیے کر رہے ہیں۔ ان کا قوم کے نام خطاب کرنا اور کچھ نہیں بلکہ ووٹروں کو متاثر کرنا تھا۔ وہ پلوامہ کے بعد ایسا کچھ چاہتے تھے جس سے پانچ سال کی ناکامی پر مذاکرے اور سوالات غائب ہو جائیں۔ جو نامہ نگار ’اُجولا یوجنا‘ کی خامیوں کی رپورٹنگ ٹھیک سے نہیں کر پاتے وہی بدھ کو دن بھر خلائی سائنس کے ماہر بن گئے۔ ان کی رپورٹنگ میں سائنس کم تھا، مودی کی تعریف اور اپوزیشن کی ہتک عزتی زیادہ تھی۔

ستمبر 2014 سے اِسرو ملک کے نام پر بی جے پی اور نریندر مودی کی سیاست کا مرکز بن گیا تھا جب ’منگل یان‘ کے وقت وزیر اعظم نریندر مودی خود سائنسدانوں کے درمیان موجود تھے۔ اسی دن طے ہو گیا تھا کہ ہندوستان کی سائنسی کامیابی سائنسدانوں کی نہیں ہوگی، وزیر اعظم مودی کی ہوگی۔ چین نے بھی اس صلاحیت کا تجربہ کیا مگر اس نے ٹی وی پر آ کر دنیا کو نہیں بتایا۔ یہی روایت رہی ہے۔ خلائی سائنس کی کامیابی سائنسدانوں پر چھوڑ دی جاتی ہے۔ لیکن اب یہ سب مودی کے لیے پروپیگنڈا کا حصہ بھر ہے۔

انتخابی کمیشن نریندر مودی کے قوم کے نام خطاب کی جانچ کر رہا ہے۔ کمیشن کے قانونی مشیر رہے میندی رتا نے ’دی پرنٹ‘ سے کہا ہے کہ انھوں نے ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے بعد کسی وزیر اعظم کو کبھی ایسا کرتے نہیں دیکھا۔ وزیر اعظم نے خطاب میں ایسے بہت سے الفاظ کا استعمال کیا ہے جن کا استعمال اپنے سیاسی اسٹیج پر کرتے رہے ہیں۔ یہ معاملہ انتخابی کمیشن کا امتحان ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کمیشن کچھ کرے گا۔ وہ بہانے ڈھونڈ لائے گا۔ کیا ہم ایک ادارہ کی شکل میں انتخابی کمیشن کا زوال دیکھ رہے ہیں؟ زوال کا براہ راست نشریہ!

اے ملک! اٹھو، اب تم ان اداروں کو خطاب کرو۔ بہت دیر ہو چکی ہے۔ بستر مرگ پر پڑے ان اداروں کو سسکتے ہوئے مت دیکھو۔