طنزومزاح: مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں...تقدیس نقوی

پیکیج کے اعلان میں خالی وعدوں کے سوا کھانے پینے کا کچھ اہتمام نہیں تھا جبکہ تازہ لاک ڈاون کے اعلان میں کم از کم گھر کی کھڑکی کے باہر کی کچھ تازہ ہوا کھلائے جانے کا روح پرور وعدہ شامل تھا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تقدیس نقوی

اتنی خوشی تو ہمیں بیس لاکھ کروڑ کے اقتصادی پیکیج کا اعلان سن کر بھی نہیں ہوئی تھی جتنی پچھلے دنوں تازہ لاک ڈاون کا اعلان سن کر ہوئی۔ وجہ تھی محدود بندش کے ساتھ اس میں دی گئی آزادی۔ یوں بھی دونوں اعلانات میں ہم جیسے بھوکے ننگے لوگوں کے لئے اک واضح فرق یہ بھی تھا کہ پیکیج کے اعلان میں خالی وعدوں کے سوا کھانے پینے کا کچھ اہتمام نہیں تھا جبکہ تازہ لاک ڈاون کے اعلان میں کم از کم گھر کی کھڑکی کے باہر کی کچھ تازہ ہوا کھلائے جانے کا روح پرور وعدہ شامل تھا۔

اس اعلان میں ہوا خوری کی اجازت ملنے کا تحفہ عوام کے لئے کوئی معمولی نہیں تھا کیونکہ کورونا سے کچھ دن پہلے تک ہوا خوری فضائی آلودگی کے سبب کورونا سے زیادہ مہلک تصور کی جاتی تھی. یہ اعلان بظاہر تو لاک ڈاون کے عنوان کے تحت کیا گیا تھا مگر اس میں دی گئی مراعات کے باعث دراصل یہ غیر معینہ مدت کی قید تنہائی سے رہائی کا پروانہ تھا. اس لئے اس کی پذیرائی سماج کے ہرطبقہ نے دل کھول کرکی. شاپنگ مالس اور بازاروں میں واپس آئی گھماگھمی نے لوگوں کے دلوں سے کورونا کا خوف چشم زدن میں اس طرح نکال دیا جس طرح مہاجر مزدور شہروں سے اچانک نکال دئے گئے تھے.

عوام میں اس قدر جوش و ولولہ اس لئے بھی دیکھنے میں آرہا تھا کہ اس روح پروراعلان سے پہلے لوگوں کی دن و رات کورونا سے متعلق سوشل میڈیا کے خرافات میسیجیز پڑھ پڑھ کراب یہ حالت ہوچکی تھی کہ ہر میسیج پڑھنے کے بعد گھڑی گھڑی اپنا بخار چیک کرنا سب کی اک عادت سی بن چکی تھی. باہر آتی ہرسانس کے ساتھ ایسا محسوس ہونے لگا تھا گویا کورونا کا وائرس اگل رہے ہیں.

لاک ڈاون کی جادوئی ترکیب کے ذریعہ حکومت کی جتنی زیادہ یہ کوشش تھی کہ عوام کورونا سے دور رہیں اتنا ہی یہ سوشل میڈیا والے ہمہ وقت اس کوشش میں مصروف تھے کہیں کوئی شخص اک لمحہ کے لئے بھی اس وباء کے خطرات سے غافل نہ ہوجائے. چنانچہ اگرعلی الصبح ایک صاحب نے اپنا فرض ہمسائیگی نبھاتے ہوئے یہ پیغام بھیجا کہ کورونا لگنے کے لئے کسی عمر کی قید نہیں ہے لہذا ہوشیار رہیں تو تھوڑی دیر بعد ہی اک دوسرے گروپ نے خوش خبری دی کہ کورونا کا علاج محض ایک پیاز کھاکر کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ یہ پیاز اپ ایک ہی سانس میں کھا جائیں. ابھی ہم پیاز تلاش کر ہی رہے تھے کہ لاک ڈاون کے ساتھ دی جانے والی آزادی کی امید افزاء خبر نشر ہونے لگی۔

سوشل میڈیا کے ذریعہ کئے جانے والے اس بے رحمانہ تشدد کی حد تو اس وقت ہوگئی جب اک جہان دیدہ تجزیہ نگار نے دنیا کے کچھ ممالک کے سربراہان خصوصا" امریکی صدر کے پبلک میں ماسک پہنے بغیر گھومنے پھرنے کو اپنے اس دعوہ کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کورونا کی وبا ء اپنے مخفی مقاصد حآصل کرنے کی خاطر ان ممالک کے ذریعہ پھیلایا گیا اک ڈھکوسلہ ہے اور کچھ نہیں. اگر وائرس جیسی کسی وباء کا کوئی وجود ہوتا تو یہ سربراہان مملکت اس طرح بغیر ماسک کے یوں ہی ادھر ادھر نہ گھومتے پھرتے. اس لئے عوام کو کورونا سے ڈرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے. اب ایسے اعصاب شکن اور دل شکستہ حالات میں اگر کسی کو لاک ڈاون سے جزوی آزادی کی بھی خوش خبری سننے کو ملی ہو تو اس کا دیوانہ وار گریباں چاک کرکے سڑکوں پر رقص کرنا ہرطرح جائز مانا جائیگا۔

اس تازہ اعلان میں سب سے زیادہ خوش آئند بات عبادت گاہوں کے لئے تھی. اعلان کے مطابق ساری عبادت گا ہیں کچھ پابندیوں اور شرائط کے ساتھ اس طرح کھولنے کی اجازت ہوگی کہ لوگ عبادت سے زیادہ ایک دوسرے کی عیادت زیادہ کریں۔

اجازت ملنے کے پہلے ہی دن مسجد کے داخلہ پر پہنچ کر لوگوں کو محسوس ہوا کہ کسی ہسپتال کے وارڈ کے سامنے آکھڑے ہوئے ہیں. سامنے دیواروں پر کورونا سے بچاو کی ہدایات کچھ اس تفصیل سے مرقوم تھیں کہ انھیں پڑھنے کے لئے ظہر کی نماز کا ارادہ رکھنے والی حضرات کو فجر کے وقت مسجد میں آنا پڑیگا جس کے لئے آفس سے پیشگی چھٹی بھی درکار ہوگی۔

کچھ لوگ اس لاک ڈاون میں دی جانے والی ان مراعات کی حمایت میں بولتے ہوئے یہ کہتے بھی سنے گئے کہ جناب مرنا یوں بھی ہے اور ووں بھی. تو پھر بھلا گھر کی چہاردیواری میں گھٹ گھٹ کر کیوں مرا جائے. محلے کے نکڑ پہ للن کی پان کی دکان سے بھیڑ میں کھڑے ہوکر اگر اسکا رسیلا پان کھاکر مرے تو کم از کم پس مرگ ہمارا منہ دیکھنے والے یہ دیکھ کر تو خوش ہونگے کہ مرنے والا سرخ رو ہوکر مرا ہے۔

ابھی ہم تیزی سے بدلتے ہوئے حالات اور اچانک ملی آزادی کے مثبت اثرات کا جائیزہ لے ہی رہے تھے کہ ہمارے میرصاحب ہنستے مسکراتے سامنے سے نمودار ہوگئے. تازہ لاک ڈاون کے اعلان سے جتنا میر صاحب خوش تھے اتنا شاید ہی کوئی ہوا ہو کیونکہ وہ اعلان کے فورا" بعد ہی ایک عزیز کے چالیسویں کا ظہرانہ اور اسی دن ایک دوست کے ولیمہ کا عشائیہ نپٹا کر آرہے تھے اور وہ بھی بغیر ماسک لگائے. ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ بھئی مرنا سب کو ہے اور وہ بھی ایک ہی بارتو پھرگھٹ گھٹ کے کیوں مرا جائے. اپنے دعوہ کی دلیل میں فرمانے لگے کہ جناب ہم تو تازہ لاک ڈاون سے دی گئی اس آزادی کو 'دوسری ٹانگ' تصور کرتے ہیں. ہمارے استفسار پرکہ آخر یہ دوسری ٹانگ کیا بلاء ہے اور اس کا اس آزادی سے کیا لینا دینا ہے تو وہ فرمانے لگے:

" جناب ہوا یوں کہ اک بار اک ٹرین کے سفر میں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے دو مسافروں میں ایک صاحب کافی لحیم شہیم تھے جبکہ دوسری جانب اک منحنی شخص اپنی بٹیرسی ننھی جان لئے اپنے پڑوسی سے نظریں چرائے برتھ پردبکے بیٹھے تھے. قوی الجثہ صاحب نے اپنے سامنے بیٹھے لرزتے کانپتے مسافر کی آنکھوں میں اپنا خوف پڑھکرازراہ تفریح اپنی ایک ٹانگ اٹھاکراس ناتوان کے کاندھے پررکھ دی اور اس بسمل تہ تیغ کے تڑپنے کا منظر دیکھنے لگے. وہ بےچارہ اس فولادی ٹانگ کا بوجھ نہ اٹھاتے ہوئے جوتے کے نیچے اچانک ائے ہوئے پکے ٹماٹر کی طرح پچ سے پچک گیا. کچھ دیربعد جب اس مظلوم کے لئے سانس لینا دوبھرہوگیا تو اس نے فولادی ٹانگ کے نیچے سے سر نکال کر اپنے شکاری سے پوچھا:

" جناب زندگی میں ایک بارمرنا اچھا ہوتا ہے یا بار بارقسطوں میں ؟ "

" بے شک ایک بار نوجوان" .طاقتور نے کمزور ساتھی کے سوال میں مضمر کرب و بے چینی کو محسوس کئے بغیر فورا" جواب دیا۔

" تو جناب اگرزحمت نہ ہو تواپنی دوسری ٹانگ بھی اس زندہ درگور ناچیز کے دوسرے کاندھے پر رکھ دیجئے تاکہ آپ کی یہ بات سچ ثابت ہوجائے اورمیری روح بخشی ہوجائے جو کافی دیر سے اس قفس عنصری میں پھنسی پھڑ پھڑارہی ہے اور باہر نکلنے کے لئے بے چین ہے۔"

ٹانگ کے نیچے کچلے ہوئے نیم مرحوم کی موہوم سی معصوم آواز آئی۔

تو جناب لاک ڈاون میں ملی یہ آزادی ہمارے لئے اب دوسری ٹانگ کا کام کریگی۔"

یہ کہہ کر میر صاحب اس آزادی کا بھر پورفائدہ اٹھانے کے لئے اگلی کسی تقریب کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔