طنزومزاح: مداری اگر سچ بولنے لگے تو تماشہ کیا خاک کرے گا! ... تقدیس نقوی

جھوٹ اگر فن کے نام پر بولا جائے تو اسے جھوٹ نہیں سیاسی تدبر کہتے ہیں۔ یوں بھی آج کل جھوٹ کون نہیں بولتا۔ اب اس مداری ہی کو ہی لے لیجئے۔ اگر وہ بے چارہ سچ بولنے لگے تو پھر وہ تماشہ کیا خاک کر پائے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

تقدیس نقوی

الیکشن کے ڈھول تاشوں کی آواز سن کر ہمیں اپنے بچپن کا وہ وقت یاد آگیا کہ جب ہم گھرکے باہرگلی میں اچانک ڈگڈگی کی آواز سن کر مداری کا تماشہ دیکھنے کے لئے ہمیشہ کھانا، پینا، پڑھنا، لکھنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے پہنچ جاتے تھے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ آج بھی وہ مداری وہی تماشہ دکھائے گا کہ جو وہ ہر بار دکھاتا رہا ہے بالکل اسی طرح جس طرح آجکل الیکشن کے دوران لیڈر صاحبان اپنے جلسے جلوسوں میں کررہے ہیں۔ یوں بھی ہمیں اس وقت پڑھائی لکھائی چھوڑنے کے لئے سب ہی بہانے بہت پسند تھے کیونکہ پڑھائی لکھائی جیسی رقیب تماشہ اور بورنگ شئی ہم نے اج تک نہ دیکھی نہ پڑھی۔ اگر کہیں غلطی سے ہم سب لوگ پڑھ لکھ جاتے تو پھر آجکل کی طرح ہم پر حکومت کون کرتا؟ اس کے لئے کسی مداری کے آنے کی قید نہیں تھی۔ بلکہ مداری کی آمد تو ہمارے لئے ایک ایسی آضافی نعمت غیر متوقع ہوتی تھی کہ جس کے لئے ہم ہر روز پڑھائی لکھائی کی دی گئی مشقت کی ابتداء ہی سے دعائیں مانگنا شروع کردیتے تھے۔ کسی دن بھی اس کی اچانک آمد پر اس کی دل آویز ڈگڈگی کی آواز کا سحر ہمیں کسی قاضی کے سنائے گئے اک عمر قید کے ملزم کی باعزت رہائی کے حکم سے کم نہ لگتا تھا۔

مداری کے ان تماشوں کا فائدہ آگے چل کر ہمیں ہوا ہو یا نہ ہوا ہو ہمارے کچھ احباب کو تو بہت ہوا۔ کیونکہ بچپن میں ان مداریوں کے تماشے دیکھ دیکھ کران میں سے کچھ ساتھی تو ملک کی سیاسی پارٹیوں کے بڑے لیڈر بن کر ’مداری شپ‘ کے اعلی مدارج پر فائز ہوچکے ہیں اور تماشہ کرنے میں ید طولی رکھتے ہیں۔ آج کل کے کچھ سیاسی لیڈر تو ان مداریوں کو آج بھی اپنا گۡرو مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر بچپن میں وہ بدقسمتی سے ان مداریوں کے 'اوپن ہاوس' کلاسوں میں اتنے ذوق و شوق سے حاضر نہ رہتے تو اج دردر کی ٹھوکریں کھا رہے ہوتے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر وہ مداریوں کے اس 'موبائیل' اسکول کے 'ڈراپ آوٹ' ہوتے تو یا توکسی ٹھیلے پر چائے اور پکوڑے بیچ رہے ہوتے اور یا چھوٹا موٹا ادیب بن کرمداریوں کے تماشوں پر مضامین لکھ کر قوم کا وقت برباد کررہے ہوتے۔

الیکشن کے ان جلسوں میں ہمیں بندریا کا ناچ، جمورے کی پیشین گوئیاں اور رٹو طوطے کی رٹ سب ایک اسٹیج پر دیکھنے کا موقعہ مل جاتا ہے۔ دونوں ہی کے اختتام پر جیبیں کٹتی ہیں اس لئے دونوں طرح کے تماشے ان مداریوں کی کامیابی کے ضامن ہوتے ہیں۔

کئی بار ایک ہی تماشہ دیکھنے کے باعث ہمیں اب یہ بھی خبر رہنے لگی تھی کہ مداری اپنی شعبدہ بازیوں سے اپنے تھیلے میں سے سفید رنگ کا کبوتر نکالنے والا ہے۔ اور تھیلے سے وہی سفید کبوتر نکلنے پر ہم اس طرح تالیاں بجاکر مداری کو دادو تحسین دیتے تھے کہ گویایہ شعبدہ ہم پہلی بار دیکھ رہے ہیں۔ جیسے ہم اج کل 'وکاس' اور 'دیش بھکتی' نام کے کبوتر کا اپنے سایسی لیڈروں سے زکر سن کر اب بھی اتنے ہی جوش میں تالیاں بجاتے ہیں کہ جیسے ان کا نام ہم نے پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ دراصل اس میں سارا کمال مداری ہی کا ہوتا تھا۔ جس اعتماد سے وہ پرانی بار بار دوہرائی گئی کہانیوں اور قصوں کو ہمارے سامنے سناتا تھا اس سے ایسا لگتا تھا کہ گویا یہ کہانی ہم پہلی بار سن رہے ہیں۔ اور جب اسی اعتماد کے ساتھ وہ ہماری جیبوں کے بچے کچے پیسے بھی جھڑوا لیتا تھا تو ہمیں ہرگز برا نہیں لگتا تھا۔ فن خطابت کے زور پر آج بھی جب کوئی ہماری جیبوں کے پیسے جھڑوا لیتا ہے توہمیں آج بھی برا نہیں لگتا۔ بس تماشا ختم ہوجانے پر اپنی جیبیں خالی پاکر کبھی کبھی اپنی معصومیت اور بھولے پن پرخود قربان ہونے کا دل چاہنے لگتا تھا۔

کبھی کبھی جب مداری پیسوں کو دوگنا کرنے والا شعبدہ دکھاتا تھا اور جب وہ پیسے دوگنے نہیں ہوتے تھے تو وہ یہ وعدہ کرتا تھا کہ اگلی بار جب وہ واپس آئے گا تو پیسے دوگنے ہوچکے ہوں گے اور ہماری جیبوں میں خود بخود پہنچ جائیں گے۔ اور ہم اس اطمینان میں روزانہ صبح آٹھ کر اپنی جیبیں تلاش کرتے تھے مبادہ ہماری جیبیں رات بھرمیں پیسوں سے بھرنہ گئی ہوں۔ ویسے ہی جیسے ہم پچھلے پانچ برسوں سے اپنے بنک اکاونٹ میں لاکھوں روپئے جمع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

ہمارے کچھ ساتھی یہ بھی کہتے تھے کہ مداری تماشہ کرنے سے پہلے ہم سب پرکچھ منتر پڑھ کر پھونک دیتا ہے۔ جس سے ہمارے سارے حواس منجمد ہو کر رہ جاتے ہیں اور اس دوران وہ مداری ہماری آنکھوں کے سامنے کسی شئی کو یا تو غائب کردیتا ہے یا حاضر۔ حاضر کرنے کے بارے میں تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے مگر کسی شئی کے غائب کرنے کے فن کے بارے میں تو ہم ذاتی تجربات رکھتے ہیں کیونکہ اکثر تماشے کے دوران ہماری جیب سے پیسے غائب ہوجاتے تھے اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا تھا۔ بالکل اس طرح جس طرح نوٹ بندی کے بعد ہوا تھا یا جی ایس ٹی GST لگنے کے بعد ہمارے ساتھ آج کل ہونے لگا ہے۔

اس فن مداریت کے طفیل ہم پر زندگی کے بہت راز منکشف ہوئے ہیں۔ مثلاً امید پر دنیا قائم ہے، صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے یا مایوسی حرام ہے وغیرہ وغیرہ۔ دراصل یہ طرز فکر بھی ہمارے مداری زدہ ماحول کی ہی مرہون منت ہے جس کے طفیل ہر صبح اپنی جیبیں خالی پانے کے باوجود بھی ہم مایوس نہیں ہوتے اور مداری کو اپنی جیبیں صاف کرنے کا بار بار موقع دیتے رہتے ہیں۔

لوگ کہتے ہیں کے مداری کا کمال اس کے جھوٹ بولنے کے فن میں مضمر ہوتا ہے۔ مگر جھوٹ اگر فن کے نام پر بولا جائے تو اسے جھوٹ نہیں سیاسی تدبر کہتے ہیں۔ یوں بھی آجکل جھوٹ کون نہیں بولتا۔ اب اس مداری ہی کوہی لے لیجئے۔ اگر وہ بے چارہ سچ بولنے لگے تو پھر وہ تماشہ کیا خاک کر پائے گا۔ اپنی بات منوانے کے لئے مجمع اکھٹا کرنا اور مجمع اکھٹا کرنے کے لئے تماشہ کرنا اور تماشہ کرنے کے لئے جھوٹ کو سچ بنانا کر پیش کرنا ہی دراصل ایک ایسا فن ہے کہ جو عام مداری کو قوم کا قائد بنا دیتا ہے اور قوم کو پتہ بھی نہیں چلتا۔

دونوں قسم کے مداریوں میں اکثر خصوصیات قدر مشترک ہوتی ہیں۔ مثلاً بندریا کا تماشہ کرنے والا مداری بھی اپنے اور اپنے جمورے کے پاپی پیٹ کی خاطر شعبدہ بازی کرنے کے لئے جھوٹ بولتا ہے تو الیکشن والے مداری کی روٹی روزی کا دارومدار بھی بھولے بھالے عوام کو بہکانے کے لئے کذب و دورغ گوئی پر ہوتا ہے۔ اولذکر کے سامنے حاظر سامعین بھی اگر مداری کے اشاروں کے مطابق تالیاں بجاتے ہیں تو آخرالذکر کے سامعین بھی اس کے لہجے کے اتار چڑھاؤ کی مناسبت سے اس پر داد و تحسین کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔ دونوں قسم کے مداریوں کے سامعین میں بھی بہت حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔

اس کا ذاتی تجربہ کرنے کے لئے آپ کو کسی قریبی الیکشن جلسے میں جانا پڑے گا۔ بس ذرا اپنی جیبوں کا خیال رکھیے گا۔ کیونکہ ہماری جیب پچھلے الیکشن میں کٹ چکی ہے۔