گھریلو مکھیوں سے اک گزارش...اکبر میو

انسان چھوٹی سی مخلوق کی حب مفرط سے بے خبر لمحے بھر کے لئے چْوک جاتے ہیں اور چائے کی پیالی میں محبت کی ایک اور داستان ڈوب جاتی ہے۔ لیکن وہ چائے کی ایک پیالی کو اپنا جاتی ہے۔

اکبر میو

گھریلو مکھی کو چائے سے عشق ہے۔ آپ کی شکل کتنی ہی ڈراؤنی کیوں نا ہو، بھلے آنکھوں میں خون اترا ہو، پیشانی پر بل پڑے ہوں، مونچھیں پھڑک رہی ہوں، آپ گرج رہے ہوں، برس رہے ہوں، اگر آپ کے سامنے چائے کا کپ ہے اور اس علاقے میں کسی ایک بھی مکھی کو اس کی مخبری ہو گئی تو آپ کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں۔ یا تو گرما گرم چائے غٹا غٹ پی جائیں یا پھر مکھیاں اڑاتے رہیں۔

نارمل حالات میں انسان مکھی اڑانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بس پھر انسان چھوٹی سی مخلوق کی حب مفرط سے بے خبر لمحے بھر کے لئے چْوک جاتے ہیں اور چائے کی پیالی میں محبت کی ایک اور داستان ڈوب جاتی ہے۔ لیکن وہ چائے کی ایک پیالی کو اپنا جاتی ہے۔

دوستو اس دنیا میں کچھ انسان بھی ایسے ہیں جو چائے کی پیالی پر مکھی سے بھی زیادہ فدا ہیں۔ چائے نہ ملے تو انہیں سر میں درد ہوتا ہے، متلی آنے لگتی ہے، نقاہت ہونے لگتی ہے، ایک عجیب بے چینی لاحق ہو جاتی ہے۔ ان کی ایک کثیر تعداد مملکت خدا داد کے سرکاری دفاتر میں پائی جاتی ہے۔ بلکہ یہی ہیں وہ عشاق جو چائے کی پیالی میں اوندھے منہ تیرتے ہوئے رقیب کی لاش کو داہنے ہاتھ کی چھوٹی انگشت سے اس طرح نکالتے ہیں کہ بالائی کی تہہ بھی ٹوٹنے نہیں پاتی۔ یہ نابغے اپنی اپنی مسندوں پر حسب صلاحیت سرکاری امور کی بجائے صبح سے شام تک مکھیاں مارتے ہیں تاکہ چائے کی چند پیالیاں بلاشرکت مگس نوش فرمائی جاسکیں۔ گھریلو مکھیوں میں سرکاری انسانوں کی طرح سستی، ڈھٹائی، مکاری، فنکاری اور بے زاری بدرجہ اتم موجود ہیں۔

کئی ہزار سال پہلے کرہ ارض پر چار سو ہریالی تھی پھول تھے۔ حتی کہ آدھے سے درختوں پر بھی پھول کھلتے تھے۔ شہد کی مکھیاں ایک درخت پر ڈیرہ جماتی تو اسی کے پھولوں سے شہد بنا لیتی۔ انسانوں کی آبادیاں بڑھیں، درخت کٹے، پھولوں سے لہلہاتے کھیتوں میں فصلیں آباد ہو گئیں۔ شہد کی مکھیوں کو اب رس کی تلاش میں زیادہ اڑنا پڑتا۔ لیکن کچھ کاہل مکھیوں نے نئی مشقت سے کنارہ کشی کی اور قریبی انسانوں کی بستی میں جا بسیں، وہاں انہیں چائے سے عشق ہوا لیکن اولاد آدم ہزاروں برس بعد بھی انہیں قبول کرنے سے انکاری ہے۔ وہ کہتے ہیں یہ غلاظت میں پیدا ہوتی ہیں، گندگی کا پتہ دیتی ہیں۔ سردی سے منہ چھپاتی ہیں، گرمیوں میں بھنبھناتی ہیں۔ بیماریاں لئے پھرتی ہیں، انہیں پاس نہیں آنسوؤں سے بوجھل کسی آنکھ کا، کسی زکام والی ناک کا، کسی مفلس کی مسواک کا، یہ بد چلن، یہ بے شرم، یہ بے حیا نا دس پندرہ دن جیتی ہیں لیکن جینے نہیں دیتیں۔ کوئی گھر میں گھسنے نہیں دیتا اور نام رکھا ہے گھریلو مکھی۔

اور وہ جو آج بھی اپنی اصل سے جڑی ہیں، قبیلوں میں رہتی ہیں، مِیلوں پر رکتی ہیں، سات سو پھولوں سے ایک رنگ چوستی ہیں جس پر سارے انسان مرتے ہیں لیکن ان مکھیوں سے بھی ڈرتے ہیں۔ یہ شہد کی ملکائیں نہ اڑیں تو آدھے پھول نہ کھلیں، کتنے پھل ہمیں نہ ملیں، ذائقے نہ جم پائیں۔ بچوں کو سردی لگے، بڑوں کے گلے سوکھ جائیں۔ یہ شہد شفا ہے، قدرت کی عطا ہے، مٹھاس کی دلربا ہے۔

چھتا دیکھو، ان کا نظم بے مثال، ان کی بزم باکمال، ان کاعزم ہے لازوال۔ رنگ دیکھو، جیسے پہنا ہے کتنے رنگوں کا گہنا، ملگجی تہوں میں لپٹا ہوا سونا۔ سرسوں کے پھولوں میں بلندی سے اترتی یہ آئیں، نہ ہم دیکھیں انہیں نہ دھوپ میں پہچان پائیں۔ پیڑ پیڑ اڑتی ہوئی ڈالیوں میں جیسے ڈالی ہوں بانہیں۔ تتلیوں سے کھیلیں اٹھکیلیاں اور ہمارے کانوں میں سیٹیاں سی بجائیں۔ راب والے سے دوستی ان کی، نہ وہ مارے انہیں، نہ یہ اسے ستائیں۔ نہ ہی کوئی گندگی مچائیں۔ اک گھونٹ بیلنے سے پی کر گنے کے پھوس پر بیٹھ جائیں، میٹھی میٹھی دھوپ میں گڑ ساز دیکھیں ان کی ادائیں اور زیر لب مسکرائیں۔

کیا ہی اچھا ہو گر گھریلو مکھیاں پھر سے سیکھ لیں فنِ شہد سازی اور اپنے اصل کی ظرف لوٹ جائیں۔ نہ ہو فکر انہیں مارنے کی، بابو دفتر میں کچھ کر پائیں۔

(مضمون نگار پاکستان میں ڈپٹی کمشنر اِنکم ٹیکس سیلز ٹیکس کے عہدے پر فائز ہیں، ای میل : akbarmayo@gmail.com)