سرفروش مجاہد آزادی: شہید چودھری محمد علی خاں کے یوم شہادت کے موقع پر خصوصی پیش کش

چودھری محمد علی خان سہاور کے مختار اور بڑے جاگیردار تھے اور ان کے برطانوی حکام سے گہرے تعلقات تھے لیکن جیسے ہی جنگ آزادی کا طبل بجا محمد علی خاں نے پرتعیش زندگی چھوڑ کر تحریک آزادی کی زمام سنبھال لی

<div class="paragraphs"><p>چودھری محمد علی / تصویر شاہد صدیقی</p></div>

چودھری محمد علی / تصویر شاہد صدیقی

user

شاہد صدیقی علیگ

مادر ہند کو برطانوی غلامی سے آزاد کرانے کے لیے بے شمار سرماؤں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ،جن میں کچھ کے نام تو منصہ شہود پر ہی نظر آ جا تے ہیں لیکن کچھ جانبازوں کی بے لوث جاں نثاریاں محدّب آئینہ سے بھی نظر نہیں آتیں، ایسے ہی ایک مرد مجاہد چودھری محمد علی خاں بھی ہیی جن کا تعلق پرگنہ سہاور ضلع ایٹہ سے ہے۔ جنہوں نے نواب تفضل حسین خاں (فرخ آباد) کی آواز پر لبیک کہنے کی بھاری قیمت چکائی۔ حالانکہ نوشتہ دیوار پڑھ کر نواب تفضل حسین خاں نے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ مگر چودھری صاحب نے تاجران فرنگ کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا اور جام شہادت نوش کیا۔ چودھری صاحب کے ساتھ ساتھ ان کے عزیز قمر علی خاں، حمایت علی خاں، ولایت علی خاں، ناصر علی اور مظہر علی خاں وغیرہ نے بھی اپنی قیمتی جانیں وطن کی آبرو پہ نچھاور کر دیں۔

چودھری محمد علی خان سہاور کے مختار اور بڑے جاگیردار تھے۔ موصوف کے برطانوی حکام سے گہرے تعلقات تھے لیکن جیسے ہی 1857 کی جنگ آزادی کا طبل بجا، چودھری محمد علی خاں نے پرتعیش زندگی چھوڑ کر تحریک آزادی کی زمام سنبھال لی اور نواب تفضل علی خاں کے ساتھ مل کر انگریزوں کا چین و سکون چھین لیا۔ سقوط دلّی کے بعد یکے بعد دیگرے علاقوں کو روندتے ہوئے نومبر 1857 میں اسٹین کی کمان میں ایک فوجی لشکر فرخ آباد پہنچا جس نے کاس گنج، پٹیالی اور خدا گنج کی لڑائیوں میں غداروں کی بدولت مجاہد آزادی کو شکست دی۔ جس کے بعد نواب تفضل حسین خاں کو میدان چھوڑ کر بریلی جانا پڑا۔ لیکن چودھری محمد علی خاں نے فرار ہونا گوارا نہیں کیا، لہٰذا چودھری محمد علی خاں کے ساتھ ساتھ قریبی اعزاء کو بھی جس انگریزی انتقام کا سامنا کرنا پڑا، اس کی داستان روح فرسا ہے۔


انگریزی کرنل اسیٹن چودھری محمد علی خاں کی گڑھی کے صدر دروازے کے بند پھاٹک کو ہاتھیوں سے توڑواکر اندر داخل ہوا اور انہیں حراست میں لے کر بریلی جیل بھیج دیا۔ انگریزی فوج نے ان کے اٹھارہ سالہ اکلوتے لخت جگر چودھری نور اللہ کو گرفتار کرنے کی ہر ممکنہ کوششیں کیں مگر وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ اسپیشل کمشنر کلاسیٹ وارن کی عدالت میں چودھری محمد علی کے خلاف بغاوت کے مقدمہ کی سماعت شروع کی گئی۔ سرکاری وکیل نے ان خطوط کو بطور استغاثہ پیش کیے جو انہوں نے نواب تفضیل حسین خاں، نواب ولی داد خاں مالا گڑھ (ضلع بلند شہر)، اسماعیل خاں اورعظیم الدین فرخ آباد کو لکھے تھے۔

بعد ازاں جے سی ولسن کمشنر کی عدالت میں بھی سرکاری وکیل نے دہلی جا کر بہادر شاہ ظفر کو مبارک باد دینے کا ایک جھوٹا بہتان ان کے سر لگایا۔ حسب توقع چودھری محمد علی خاں کو سزائے موت اور تمام جائیداد بحق سرکار ضبطی کا حکم صادر کر دیا۔ جس پر عمل کرتے ہوئے 16 مئی 1858 کو چودھری محمد علی خاں کو بریلی جیل میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔

صد افسوس کہ محمد علی خاں اور ان کے تمام اعزاء و اقربا نے برطانوی غلامی سے گلو خلاصی حاصل کرنے کے لیے جان و مال کی جو عظیم قربانیاں پیش کیں وہ تاریخ ہند کے صفحات میں گم ہو گیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔