سنبھل: خوف، نگرانی اور بے چینی میں ڈوبا شہر...پربھات سنگھ
سنبھل اپنی تاریخی شناخت کے باوجود آج خوف، نگرانی، پابندیوں اور غیر یقینی فضا میں گھرا ہوا ہے۔ شہر کی روزمرہ زندگی، عبادت گاہیں اور عوامی رویے بدلے ہوئے وقت کی گواہی دیتے ہیں

سنبھل میں داخل ہوتے ہی اسی شہر کے مشہور شاعر مصور سبزواری کا یہ شعر بے اختیار ذہن میں تیرتا ہے- ’خوش فہمیوں کے کھیل کی اب کیا سبیل ہے، کاغذ کی ایک ناؤ ہے اور خشک جھیل ہے۔‘ اور شام تک شہر میں گھومتے پھرنے کے بعد اس شعر کی صداقت پہلے سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ تاریخی حوالوں سے پہچانا جانے والا یہ شہر میری نظر میں ہمیشہ حکیموں، ہڈی و سینگ کے کاریگروں اور لوک روایات سے جڑا رہا تھا مگر حالیہ مہینوں میں جس طرح سنبھل کا تذکرہ خبروں اور سیاسی بیانیوں میں ابھرا ہے، اس نے اسے ایک مختلف تناظر میں سامنے رکھا ہے۔
سلطنتی دور میں سنبھل کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔ مغلوں کے زمانے میں یہ دہلی اور آگرہ کے درمیان نہایت حساس مقام سمجھا جاتا تھا۔ انگریزوں کے دور اور پھر آزاد ہندوستان میں یہ دیر تک مرادآباد کا حصہ رہا، یہاں تک کہ 2011 میں اسے ضلع کا درجہ اور نام بھی ملا- بھیم نگر۔ اگلے ہی سال پرانی شناخت لوٹا دی گئی مگر اس سے شہر کے حالات یا شہریوں کے معیارِ زندگی میں کوئی خاص فرق پیدا نہیں ہوا۔ آج بھی سنبھل ایک اداس اور نیم شہری قصبے کی صورت رکھتا ہے جہاں ترقی کی رفتار سست ہے اور بنیادی ڈھانچہ محدود۔
شہر کے آثار میں معمولی تبدیلیاں ضرور دکھائی دیتی ہیں۔ چکی پاٹ کی قدیم دیوار، جو لاکھوری اینٹوں سے بنی تھی، اب سرخ پتھر کی نئی تعمیر سے بدل گئی ہے۔ ایک روایت کے مطابق اودل (آلہ اودل کے کردار) نے چکی کا پاٹ دیوار پر ٹانگ دیا تھا، اس کے نشان کا نیا رنگ روپ اب شہر کی نئی شناخت کا حصہ ہے۔
کوٹ پوروی کا قدیم کلکی مندر، جس کی مرمت کبھی اہلیہ بائی ہولکر نے کرائی تھی، اس میں اب تین نئے کمرے بن رہے ہیں۔ گزشتہ سال وزیر اعظم نریندر مودی نے نئے کلکی دھام کی بنیاد بھی رکھی ہے۔
اسی علاقے میں 1530 میں بنی شاہی جامع مسجد کے قریب اب ستیہ ورت پولیس چوکی قائم ہے۔ تمام راستوں کو بانس کے بیریئر لگا کر محدود کر دیا گیا ہے۔ مسجد کے عین سامنے کے چھوٹے کمروں میں آر آر ایف (ریپڈ ریسپانس فورس) کا ڈیرہ ہے۔ ان کے مطابق مسجد، جو اب اے ایس آئی کے زیر انتظام ہے، صرف مقامی افراد کے لیے کھلی ہے اور باہر والوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔
شہر سے ملحقہ فیروز پور گاؤں میں واقع پرانے قلعے کے کھنڈر بھی اب اے ایس آئی کے زیر نگرانی ہیں۔ یہاں حفاظتی چہار دیواری تو بن گئی ہے مگر یہ جگہ بچوں کے کرکٹ کھیلنے اور عام گھریلو کاموں کے لیے اب بھی پہلے جیسی ہے۔ سنبھل کی قدیم پہچان باون سرائے اور چھتیس پورے آج بھی قرب و جوار کی یادداشت میں زندہ ہیں۔ بازاروں میں بے ترتیبی، بھیڑ، اور نیم جدید دکانیں ایک عام ہندوستانی قصبے کی طرح ہی دکھائی دیتی ہیں۔
بابو کے ہوٹل کی اُڑد چاول کی ڈش ہو یا حلیم والے معروف اور ناظم کبابی، یا پھر گرو کی پیڑے کی مٹھائی، یہ سب شہر کے روزمرہ ذائقے کا حصہ ہیں۔ سینگ کے کنگھے بنانے والے آج فائبر اور جدید ڈیزائن بھی بنانے لگے ہیں۔ بازار کے بیرونی علاقوں میں رنگائی دھلائی کے جو کارخانے چلے تھے، وہ اب آلودگی کے سبب بند کر دیے گئے ہیں۔
کلکی مندر کے پجاری مہندر شرما، جو ستر برس کے قریب ہیں، کہتے ہیں، ’’ہمارا ماننا ہے کہ کلکی اوتار سنبھل ہی میں پیدا ہوں گے مگر شہر کی تاریخی اہمیت کو کبھی وہ مقام نہیں ملا جس کا یہ حق دار تھا۔ نہ تعلیم کے مواقع بڑھے اور نہ ترقی کا دائرہ۔ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔‘‘ ان کے مطابق مندر کے سامنے کبھی کچا راستہ تھا، اونٹ گاڑیاں چلتی تھیں، اب سڑک ہے، بس اتنا فرق آیا ہے۔ سنبھل ضلع تو بن گیا مگر کسی افسر سے کام پڑے تو 25 کلومیٹر دور بہجوئی جانا پڑتا ہے۔
مندر سے نکل کر ہم کوٹ گروی پہنچے۔ مین روڈ پر جہاں شوکت علی روڈ کی تختی لگی تھی، وہاں سے جامع مسجد کی اونچی دیوار اور گنبد کا اوپری حصہ دکھائی دے رہا تھا۔ قریب ہی ایک خاصی چڑھائی والا تنگ راستہ ہے، جس کے دہانے پر آر آر ایف کے جوان کرسی ڈالے بیٹھے تھے۔ اوپر کی طرف چلتے ہوئے دو عبارتیں نمایاں دکھائی دیتی ہیں—نئی بنی عمارت کے ماتھے پر پولیس چوکی ’سَتیورت‘ کا بورڈ، اور اس کے نیچے ’مطلوب یار اسٹریٹ‘ کی ایک تختی۔ اس تختی سے ذرا پہلے ہی بانس کی رکاوٹیں کھڑی ہیں جن سے گزر کر بائیں جانب دیکھیں تو شاہی جامع مسجد کا بورڈ نظر آتا ہے۔ بورڈ پر بنا تیر جس جانب اشارہ کرتا ہے، ادھر نظر پڑتے ہی سب سے پہلے آر آر ایف کی وردیاں دکھائی دیتی ہیں، مسجد کی سیڑھیاں تو کچھ آگے جا کر ملتی ہیں۔
جامع مسجد انتظامیہ کمیٹی کے لوگوں سے فون پر بات کرنے کے بعد ہم سیڑھیاں چڑھ ہی رہے تھے کہ ایک جوان نے روک کر پوچھا کہ ہم لوگ شہر کے ہیں یا باہر کے۔ ہمارے جواب اور یہ بتانے کے باوجود کہ ہم تصویر کھینچنے نہیں بلکہ مسجد دیکھنے جا رہے ہیں، اس نے کہا کہ مسجد کے اندر صرف مقامی لوگ جا سکتے ہیں، باہر والوں کو اجازت نہیں۔ کچھ دیر میں کمیٹی کے سیکریٹری مسعود علی فاروقی اور رکن ضیاء الحق بھی آ گئے۔ سیکریٹری نے بتایا کہ کورٹ کا آرڈر ہے، آپ اندر نہیں جا سکتے۔ تاہم ضیاء صاحب ہمیں اندر لے گئے۔ شام گہری ہو رہی تھی۔ آسمان کے بجھتے رنگوں کے پس منظر میں بلندی پر آباد ’خدا کا وہ گھر‘ بہت پرسکون دکھائی دیتا تھا۔ چند بچے ضرور وضوخانے کے آس پاس آتے جاتے نظر آئے۔ ضیاء صاحب نے گہری سانس لی اور بولے پانچ سو برس پہلے تعمیر ہوئی تھی، اب اسے لے کر آپس میں جھگڑا کیوں بھڑکایا جا رہا ہے! ان سے بات کرتے ہوئے ہم واپس لوٹ آئے۔
کون جانے کب اور کس دل جلے نے سنبھل کے اوصاف بتانے کے لیے یہ کہہ دیا ہوگا- آدمی جھوٹے، مکان ٹوٹے، ککڑی کڑوی اور بیر کانے۔ اس کہاوت کو برتنے والوں نے مزید تکیے بھی ملا دیے، مثلاً—آم کھٹا اور انجن الٹا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس شہر کی ریلوے لائن آگے کہیں نہیں جاتی، صرف مرادآباد تک جاتی ہے اور وہ بھی ڈھائی ڈبوں والی ڈیمو سے۔ ’انجن الٹا‘ والی بات شاید بھاپ کے انجن کے زمانے کی ہو، اب تو خیر ڈیمو چلتی ہے۔ اور اگر آپ انٹرنیٹ پر تلاش کریں تو سنبھل–ہاتم سرائے–مرادآباد پسنجر کو ہی دونوں کے درمیان چلنے والی ’سب سے تیز‘ ٹرین بتایا جاتا ہے۔ وہ صبح ایک بار آتی ہے اور شام کو ایک بار اور انہی ڈھائی ڈبوں کے ساتھ واپس بھی چلی جاتی ہے۔ پانچ ہالٹ اسٹیشنوں سے گزرتی یہ ٹرین تقریباً 47 کلومیٹر کا فاصلہ تین گھنٹے میں طے کرتی ہے۔
سوچا تھا شام کی ٹرین کے وقت تک اسٹیشن پہنچ جاؤں گا مگر دیر ہو گئی۔ ٹرین جا چکی تھی۔ تختیاں لگی عمارتوں کے دروازے مقفل تھے اور پلیٹ فارم غیر معمولی خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا، اگرچہ روشن پورا تھا۔ پلیٹ فارم کے آخری سرے تک جاتے ہوئے اسٹیشن ماسٹر کے بند دفتر کے باہر چارپائی پر مچھر دانی کے اندر لیٹا ایک شخص ملا۔ شاید ہماری بات چیت نے اس کی نیند میں خلل ڈالا، وہ اپنی جیکٹ سنبھالتا ہوا پیچھے پیچھے آ گیا۔ وہ ٹریک مین تھا، منشی، جو دن میں پٹریوں کی دیکھ بھال کرتا اور رات میں اسٹیشن کی رکھوالی بھی اسی کے ذمے تھی۔
میں پجاری مہندر شرما کے بارے میں سوچ رہا تھا، وہ ستر برس کے ہونے کو آئے مگر بیشتر شہریوں کی طرح انہوں نے بھی کبھی اس ٹرین کی سیر نہیں کی۔ البتہ شہر کی سست رفتاری سے ہونے والی ترقی کے بارے میں ان کے شکوے کی گونج بہت دور تک جاتی ہے۔ اگلے ہی دن صبح کے اخبار میں پڑھا کہ وزیر اعلیٰ نے افسروں کے ساتھ میٹنگ میں کہا ہے کہ سنبھل کی ترقی حکومت کی ترجیح ہے، حکومت یہاں کے تیرتھوں اور کنوؤں کی شناخت اور ان کی بحالی پر کام کر رہی ہے۔
سنبھل کے 60 مقامات پر 224 سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں۔ حال ہی میں 24 نومبر کو آر آر ایف اور پی اے سی کے جوانوں کے ساتھ 16 سیکٹر مجسٹریٹ، ڈی ایم اور ایس ایس پی نے بھی شہر میں احتیاطی گشت کیا۔ جامع مسجد کے اطراف کے علاقوں کی نگرانی کے لیے ڈرون تعینات رہے۔ بازاروں میں عمومی طور پر خاموشی رہی۔ گزشتہ سال اسی تاریخ کو جامع مسجد کے سروے کے دوران ہوئی جھڑپ میں 5 لوگ مارے گئے تھے۔ میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں ڈی ایم راجندر پینسیا نے کہا کہ سنبھل اب پہلے جیسا نہیں رہا اور واقعی یہ بات ہمیشہ سچ رہے، یہ دعا کون نہیں کرے گا!