فسادات، بلڈوزر، ہنومان چالیسہ اور نفرت، ’دی کشمیر فائلس‘ کے ایجنڈے کا اثر ظاہر... رام پنیانی

اسلامی شدت پسندی ملک کے جمہوری کردار کو نہیں بدل رہا، اسے صرف بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، ہندوستان کے جمہوری، سیکولر کردار کو خطرہ بڑھتے اسلاموفوبیا سے ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

رام پنیانی

اس سال اپریل میں رام نومی سے لے کر ہنومان جینتی کے درمیان پیش آئے واقعات نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نفرت کے بلڈوزر نے متعدد گھروں کے ساتھ ساتھ ہمارے آئینی اقدار کو بھی منہدم کر دیا ہے۔ اب تقسیم پسند سیاسی لیڈران مسجدوں میں لاؤڈاسپیکر کے استعمال کو ایشو بنا رہے ہیں۔ جہاں بیشتر مسلم تنظیمیں عدالتوں کی ہدایات پر عمل کرنے کو تیار ہیں، وہیں بی جے پی اور راج ٹھاکرے کی قیادت والی مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) فرقہ واریت کو ہوا دینے پر آمادہ ہیں۔

راج ٹھاکرے کی ایم این ایس نے مہاراشٹر میں عوامی مقامات، خصوصاً مساجد کے سامنے ہنومان چالیسہ کا پاٹھ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد سال 93-1992 میں ممبئی میں ہوئے فسادات کو بھڑکانے کے لیے ’مہا آرتی‘ کا ایجاد کیا گیا تھا۔ اسی طرز پر ہنومان چالیسہ کو جنون پھیلانے کا ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔


ہنومان چالیسہ پر اٹھے تنازعہ کو سلجھانے کے لیے مہاراشٹر حکومت نے کل جماعتی میٹنگ کا انعقاد کیا۔ لیکن اہم اپوزیشن پارٹی بی جے پی نے اس کا بائیکاٹ کر اپنے اصل ارادے صاف کر دیے۔ راج ٹھاکرے اس ایشو کو اچھال کر ریاست کی سیاست میں اپنی جگہ بنانا چاہتے ہیں۔ اس معاملے میں نظامِ قانون بنائے رکھنے کے لیے دو بی جے پی لیڈروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

گزشتہ کچھ ہفتوں (اپریل 2022) سے ملک کی فضا میں نفرت تیزی سے گھلتی جا رہی ہے۔ نفرت کو فروغ دینے میں فلم ’دی کشمیر فائلس‘ نے اہم کردار نبھایا ہے۔ اس فلم کو کئی ریاستوں نے تفریحی ٹیکس سے پاک کر دیا ہے اور بی جے پی حامی اس فلم کے ٹکٹ درجنوں اور سینکڑوں میں خرید کر لوگوں میں تقسیم کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی اس فلم کی اسپانسر بن گئی ہے۔


جو لوگ نفرت اور تشدد کا استعمال اپنی سیاست کو چمکانے اور ہندوستان کو مذہب پر مبنی ریاست میں تبدیل کرنے کے ایجنڈے کو حاصل کرنے کے لیے کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ فلم ایک تحفہ بن کر آئی ہے۔ اس فلم کی ان لوگوں نے تنقید کی ہے جنھیں لبرل کہا جاتا ہے۔ لبرل لفظ کا بھی مذاق بنایا جا رہا ہے۔

اس فلم اور اس نظریہ، جسے یہ فلم فروغ دیتی ہے، کے پیروکار مانتے ہیں کہ اسلامی شدت پسند ہندوستان میں جمہوریت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، اور یہ بھی کہ کشمیر تنازعہ اس کا سب سے بڑی مثال ہے۔ شری شری روی شنکر سے لے کر آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت اور وزیر اعظم نریندر مودی تک نے ’اصل سچ‘ کو لوگوں کے سامنے لانے کے لیے اس فلم کی تعریف کی ہے۔ فلمساز وویک اگنیہوتری نے خود کہا ہے کہ وہ صرف فلمیں نہیں بناتے ہیں بلکہ ان کا ایک ایجنڈا بھی ہے۔ گزشتہ کوئی دو تین ہفتوں میں اس فلم نے سماج کو منفی سمت میں دھکیلا ہے۔


لبرل-لیفٹ ذہنیت اس فلم کے منفی اثرات، اس کی خامیوں، اس میں موجود جزوی سچائی اور واقعہ کی یکطرفہ تفصیل پیش کیے جانے کی طرف توجہ مرکوز کر چکے ہیں۔ کشمیر میں علیحدگی پسند تحریک 1950 کی دہائی میں ہی شروع ہو گئی تھی، لیکن شروعات میں اس کی بنیاد اسلامی کٹرپسندی یا مسلم فرقہ واریت نہیں تھی۔ اس کی بنیاد میں تھی کشمیر کی اس خودمختاری کی خلاف ورزی، جس کی گارنٹی کشمیر کے لوگوں کو آئین کی دفعہ 370 اور 35اے کے تحت دی گئی تھی۔ شروعات میں علیحدگی پسند کشمیریت کی بات کرتے تھے۔ کشمیریت وہ انوکھی ثقافت ہے جو ویدانت، بودھ مذہب اور صوفی روایات کے ملن سے بنی ہے۔ یہ کہنا کہ اسلام میں سبھی ’تبدیلیٔ مذہب‘ تلوار کے دم پر ہوئے، کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں اسلامی تاریخ کو غلط سمجھنا ہوگا۔ کشمیر میں اسلام ’صوفی تلوار‘ (فلم میں استعمال لفظ) کی طاقت پر نہیں پھیلا، بلکہ نچلی ذاتوں کے لوگ، اونچی ذاتوں کے مظالم سے بچنے کے لیے مسلمان بنے۔

سوامی وویکانند نے کہا تھا کہ ’’مذہب تبدیلی مسلمانوں یا عیسائیوں کے مظالم کے سبب نہیں بلکہ اونچی ذاتوں کے مظالم کے سبب ہوئے۔‘‘ رتن لال ہنگلو (دی اسٹیٹ آف مڈل کشمیر، منوہر لال پبلی کیشنز، دہلی، 2000) بھی سوامی وویکانند کے نظریہ کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہنگلو لکھتے ہیں کہ کشمیر میں مذہب تبدیلی دراصل برہمنوں کے مظالم کے خلاف خاموش انقلاب تھا۔


کشمیریت کوئی تصور نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ نند رِشی (نورالدین نورانی) اور للیشوری (لل-دید) دونوں طبقات کی تعظیم کے قابل تھے اور وادی کے ہندو اور مسلمان کھیر بھوانی سمیت کئی تہوار ایک ساتھ مناتے ہیں۔ ہم نے اٹل بہاری واجپئی کا وہ مشہور جملہ بھی سنا ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلہ کو انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کے ذریعہ حل کرنا چاہتے ہیں۔

سنہ 1980 کی دہائی سے کشمیر میں شدت پسندی کا کردار بدلنے لگا اور اس کے پیچھے تھا القاعدہ اور طالبان کا عروج اور ان کے لیے جنگجو تیار کرنے کے لیے پاکستان کے مدرسوں میں نوجوانوں کی ٹریننگ۔ یہ امریکہ کا منصوبہ تھا جسے اس نے اپنے پٹھو پاکستان کے ذریعہ عمل میں لایا۔ ان عناصر نے وادی میں دراندازی کر لی اور وہاں قہر برپانا شروع کر دیا۔ پہلے ہندوستان حامی اشخاص، جن میں نیشنل کانفرنس کے رکن شامل تھے، کو مارا گیا اور پھر کشمیری پنڈتوں کو۔


فلم کشمیری مسلمانوں اور پاکستان میں تربیت یافتہ دہشت گردوں کو ایک ہی پلڑے میں تولتی ہے۔ پاکستان میں تربیت یافتہ عناصر کو اسلام کا توڑا مروڑا گیا ایڈیشن سکھایا گیا تھا۔ انھیں یہ بتایا گیا تھا کہ جو بھی ان سے غیر متفق ہے وہ کافر ہے اور اسے مارنا جہاد ہے۔ فلم میں پنڈتوں کی حالت زار کے لیے کشمیری مسلمانوں، نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو قصوروار بتایا گیا ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جگموہن (جو بعد میں بی جے پی حکومت میں وزیر بنے) نے پنڈتوں کو وادی چھوڑ کر جانے کے لیے سبھی سہولیات دستیاب کروائی تھیں۔ جس وقت یہ غلط فیصلہ لیا گیا تھا اس وقت بی جے پی کی حمایت سے وی پی سنگھ ملک کے وزیر اعظم تھے۔ حکومت نے دہشت گردوں سے مقابلہ کرنے اور پنڈتوں کو تحفظ فراہم کرنے کی جگہ پنڈتوں کو ہجرت کے لیے راستہ ہموار کر اپنا پلہ جھاڑ لیا۔

فلم اس بات کو پوری طرح سے نظر انداز کرتی ہے کہ کشمیر میں آج بھی تقریباً 800 پنڈت فیملی رہ رہے ہیں۔ فلم یہ بتانے سے بھی پرہیز کرتی ہے کہ دہشت گرد حملوں کے سبب تقریباً 50 ہزار مسلمانوں کو بھی وادی سے ہجرت کرنا پڑا تھا اور یہ بھی کہ 300 پنڈتوں کے ساتھ تقریباً 700 مسلمان بھی دہشت گردوں کے شکار ہوئے تھے۔


اسلامی کٹرپسندی ہمارے ملک کے جمہوری کردار کو نہیں بدل رہا ہے۔ اسے تو صرف ایک بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان کے جمہوری، سیکولر کردار کو خطرہ بڑھتے اسلاموفوبیا سے ہے۔ اس اسلاموفوبیا کو فروغ دینے کے لیے دورِ وسطیٰ کے مسلم حکمرانوں کے بارے میں طرح طرح کی غلط باتیں اور آدھی ادھوری سچائی (انھوں نے مندر توڑے، اسلام کا پھیلاؤ تلوار کے زور پر ہوا وغیرہ) بتائی جا رہی ہے۔ ان کی آبادی کے شرح اضافہ کو بھی ایشو بنا لیا گیا ہے۔

مسلمانوں کے تئیں نفرت کا جذبہ اتنا زیادہ بڑھ گیا ہے کہ مسلم دکانداروں اور کاروباریوں کے بائیکاٹ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ مذہبی تہواروں کا استعمال مسلمانوں کو بھڑکانے اور پھر ان کے گھروں پر بلڈوزر چلوانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ہنومان چالیسہ کا عوامی طور پر پاٹھ، اسی ’نفرت پھیلاؤ‘ والی پالیسی کا حصہ ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔