وزیر اعظم مسلسل کر رہے 'انتخابی ریوڑیوں' کی برسات، پھر بی جے پی کا گلا کیوں خشک ہو رہا ہے؟

اکیلے وزیر اعظم مودی نے 80 ہزار کروڑ کے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر اعلیٰ کی طرف سے اس مدت کے دوران جن پروجیکٹوں کے سنگ بنیاد رکھے گئے ہیں وہ علیحدہ ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

آر کے مشرا

وزیر اعظم نریندر مودی جو بھی کرتے ہیں ’بڑا‘ کرتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے انتخابی ریوڑی (مفت اسکیموں کے اعلانات) کے معاملہ میں ثابت کر دیا ہے۔ وہ جب بھی گجرات گئے، کروڑوں کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ ستمبر تک چھ ماہ کی مدت میں مودی 80 ہزار کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھ چکے ہیں۔ یہ بوندا باندی نہیں بلکہ ریوڑیوں کی تیز بارش ہے! لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود اقتدار کا طویل اور بلند و بالا سفر طے کرنے والوں کے قدم لڑکھڑا رہے ہیں!

اکیلے وزیر اعظم مودی نے 80 ہزار کروڑ کے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر اعلیٰ کی طرف سے اس مدت کے دوران جن پروجیکٹوں کے سنگ بنیاد رکھے گئے ہیں وہ علیحدہ ہیں۔


سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ وزیراعظم نے کیا دیا؟

پی ایم مودی نے 20 اپریل کو 22000 کروڑ روپے کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ انہوں نے 10 جون کو نوساری میں 12 پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد، 14 پروجیکٹوں کے لیے بھومی پوجن اور 3050 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری والے 7 پروجیکٹوں کا افتتاح کیا۔ اس کے بعد 15 جولائی کو گاندھی نگر کے نئے ریلوے اسٹیشن پر 790 کروڑ کی مالیت کے فائیو اسٹار ہوٹل سمیت 1100 کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کا ورچوئل افتتاح کیا۔ اس کے بعد 28 جولائی کو سابر کانٹھا ضلع میں سابر ڈیری میں 1000 کروڑ روپے سے زیادہ کے پروجیکٹوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا۔ جبکہ 27-28 اگست کو بھج میں 4400 کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد، سردار سروور پروجیکٹ کی کچھ نہروں کا افتتاح کیا۔ جبکہ گاندھی نگر میں 18300 کروڑ روپے کے دو سوزوکی پلانٹس کا سنگ بنیاد رکھا۔

وزیر راعظم مودی نے 29-30 ستمبر کو 29000 کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کا اعلان کیا۔ جس میں بھاؤنگر میں میں 'دنیا کا پہلا' سی این جی ٹرمینل، احمد آباد میں میٹرو کا فیز-1، سورت میں ڈائمنڈ ریسرچ اینڈ مرکنٹائل (ڈریم) سٹی کا فیز-1، گاندھی نگر-ممبئی سنٹرل وندے وندے بھارت ایکسپریس ٹرین کو ہری جھنڈی دکھانے کے علاوہ ریاست میں منعقد کئے جا رہے 36ویں نیشنل گیمز کا افتتاح بھی شامل ہے۔


اس سے ایک روز قبل ہی مرکزی کابینہ نے 'پردھان منتری غریب کلیان اَن یوجنا' کو تین ماہ تک بڑھانے کا اعلان کیا، جس پر 44762 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ اس میں 5 کلو گندم اور چاول مفت دیا جاتا ہے۔ اتر پردیش کے انتخابات میں اس اسکیم کا 'کمال' دیکھ کر اس میں توسیع کی گئی ہے تاکہ ہماچل اور گجرات کے انتخابات کا احاطہ کیا جا سکے۔ مفت راشن اسکیم سے گجرات کے 71 لاکھ سے زیادہ خاندانوں کے تقریباً 3.48 کروڑ لوگ مستفید ہوں گے۔

کانگریس کے قومی ترجمان شکتی سنگھ گوہل، جن کا تعلق بھاؤنگر سے ہے، نے وزیر اعظم پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ 'بھاؤنگر میں کلپسر پروجیکٹ کا وعدہ کرتے ہوئے اسے نرمدا پروجیکٹ سے زیادہ اہم قرار دیا گیا لیکن یہ کہیں نظر نہیں آ رہا ہے۔ جب کہ اس اعلان کو ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔‘‘ گوہل نے کہا، ’’26 جنوری 2012 کو بھاؤنگر میں ایک جلسہ عام میں آپ (مودی) نے 425 کروڑ روپے کے سمندری جہاز سازی پارک کا وعدہ کیا تھا لیکن سرکاری ملکیت والی ایلکوک ایش ڈاون۔ شپ بلڈرز کو بند کر دیا گیا۔ 14 فروری 2014 کو مہوا بندرگاہ کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن یہ بھی کہیں نظر نہیں آ رہا ہے۔ میٹھی وردی کو سنٹرل پورٹ اور بھاؤنگر کو نیشنل پلاسٹک پارک بنانے کا وعدہ بھی پورا نہیں ہوا ہے۔


گجرات کانگریس کے ترجمان ڈاکٹر منیش دوشی کہتے ہیں، "وزیر اعظم بھلے ہی کامیاب ہونے کا دعویٰ کریں لیکن احمد آباد میٹرو کے پہلے مرحلے کو مکمل کرنے میں انہیں 18 سال لگے۔ 2004 کے بعد سے لاگت 3500 کروڑ روپے سے بڑھ کر 12700 کروڑ روپے ہو گئی ہے۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟‘‘

دوشی نے کہا کہ جواہر لال نہرو قومی شہری تجدید مشن کے تحت یو پی اے حکومت نے 1500 پروجیکٹوں کے لیے 10 سالوں میں پانچ لاکھ کروڑ روپے دیئے تھے۔ گجرات کو بی آر ٹی ایس، 108 ایمبولینس سروس، نئی بسیں اور سیوریج ٹریٹمنٹ کے لیے 20,000 کروڑ روپے ملے۔ لیکن مودی کی قیادت والی گجرات حکومت نے نئی بسوں کے لیے یو پی اے حکومت سے رقم حاصل کرنے پر اتفاق نہیں کیا جب تک کہ یو پی اے حکومت نے فنڈنگ ​​میں کمی کی دھمکی نہیں دی۔


انتخابات قریب ہیں اور عام آدمی پارٹی مقابلہ کرنے والوں میں شامل ہو گئی ہے۔ اس طرح گجرات میں مقابلہ اب سہ رخی ہے۔ کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے انتخابی وعدوں نے بی جے پی کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں۔ اتحادیوں اور سرکاری ملازمین دونوں کو بھوپیندر پٹیل کی قیادت والی گجرات حکومت سے اپنی اپنی توقعات ہیں اور اس کی وجہ سے بی جے پی اپنے آپ کو بیک فٹ پر پا رہی ہے۔

حکومت سے ناراض ملازمین کے زمرے میں سابق فوجی، روڈ ٹرانسپورٹ ورکرس، آشا ورکرز اور فارسٹ گارڈ بھی آ گئے ہیں۔ چاروں طرف سے مطالبات کی بھرمار ہے اور اس خوف سے کہ کہیں یہ تحریک زور نہ پکڑ لے، پانچ وزرا کا پینل بنایا گیا ہے۔ ان تحریکوں کو کانگریس اور عام آدمی پارٹی سے جو حمایت مل رہی ہے، اس نے بی جے پی کی مایوسی میں اضافہ کیا ہے اور اس کے نتیجے میں اسے کئی مطالبات ماننے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔


ان پولیس والوں کا معاملہ ہی لے لیں جو تنخواہ پر نظر ثانی کے لیے پچھلے ایک سال سے احتجاج کر رہے ہیں۔ حکومت ان کی بات سننے کے موڈ میں نہیں تھی۔ وہیں، اروند کیجریوال نے وعدہ کیا تھا کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آئی تو پولیس والوں کو بہتر تنخواہ ملے گی۔ کیجریوال کی اس شرط کے چار دن بعد حکومت کو پولیس والوں کے لیے 550 کروڑ کے پیکیج کا اعلان کرنا پڑا۔ اس کے فوراً بعد پٹواری الاؤنسز میں اضافے کے اپنے دہائیوں پرانے مطالبے پر ڈٹ گئے۔ آخر کار حکومت کو ستمبر 2022 سے ان کا الاؤنس 900 روپے سے بڑھا کر 3000 روپے کرنا پڑا۔

سابق فوجیوں کی تحریک نے اس وقت سنگین رخ اختیار کر لیا جب احتجاج کرنے والے ایک رکن کی موت ہو گئی۔ گاندھی نگر پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہو گیا ہے اور سابق فوجی 14 نکاتی مطالبے کے لیے دھرنے پر ہیں۔ کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اقتدار میں آنے پر ان کے تمام مطالبات مان لیں گے۔ اس سے قبل حکومت نے مرکزی بجٹ میں اعلان کردہ پار-تاپی-نرمدا ندی سے منسلک منصوبے سے اس وقت دستبردار ہو گئے جب کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے مئی میں ایک ریلی میں اعلان کیا کہ اگر کانگریس اقتدار میں آئی تو اس منصوبے کو ختم کر دیا جائے گا۔


حکومت مخالف لہر اور کووڈ کے دوران بدانتظامی کے نقصانات کو ختم کرنے کے لئے وزیر اعظم مودی نے وجے روپانی کی وزارت کو برخاست کر دیا لیکن اس عمل میں نئے وزیر اعلی بھوپیندر بھائی پٹیل کی پوزیشن کو نقصان پہنچا۔ 20 اگست کو کابینہ کے دو اہم وزرا راجندر ترویدی اور پورنیش مودی کے قلمدانوں میں تبدیلی نے اس تاثر کو مضبوط کر دیا کہ بی جے پی خیمہ بازی کی گرفت میں ہے۔ گجرات میں الیکشن کی تاریخوں کا جلد ہی اعلان ہونے والا ہے اور بی جے پی شدید دباؤ میں ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔