روزہ: اسلام کے پانچ ستونوں میں ایک عظیم عبادت

رمضان المبارک عبادت، صبر اور روحانی تربیت کا مہینہ ہے۔ روزہ طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کھانے پینے سے اجتناب کا نام ہے، جبکہ سحری و افطار شکرگزاری، دعا اور سماجی ہم آہنگی کا مظہر بنتے ہیں

<div class="paragraphs"><p>رمضان 2026 / تصویر اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز تجزیہ

سال 2026 کا ماہِ رمضان دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک بار پھر روحانی تازگی، ضبطِ نفس اور اجتماعی ہم آہنگی کا پیغام لے کر آیا ہے۔ فلکیاتی اندازوں اور مقامی رویتِ ہلال کی بنیاد پر بعض علاقوں میں پہلا روزہ 18 فروری بروز بدھ یعنی آج رکھا گیا، جبکہ بیشتر مسلم اکثریتی ممالک میں 19 فروری بروز جمعرات کو رمضان المبارک کا آغاز متوقع ہے۔ اسلامی روایات کے مطابق رمضان کا باضابطہ اعلان چاند کی رویت کے بعد کیا جاتا ہے، اسی لیے مختلف خطّوں میں ابتدا کی تاریخ میں معمولی فرق دیکھنے میں آتا ہے۔

رمضان المبارک اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے اور اسے عبادت، رحمت اور مغفرت کا بابرکت موسم سمجھا جاتا ہے۔ روزہ رکھنا اسلام کے پانچ بنیادی ستونوں میں شامل ہے، جو مسلمان کی زندگی کے فکری اور عملی ڈھانچے کو استحکام بخشتے ہیں۔ روزے کا مفہوم محض کھانے پینے سے رکنا نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت تربیت ہے جس کے ذریعے انسان اپنے خیالات، الفاظ اور اعمال کو پاکیزگی اور تقویٰ کی سمت موڑتا ہے۔ سچائی، صبر، ہمدردی اور ایثار جیسے اوصاف اسی مہینے میں خاص طور پر نکھر کر سامنے آتے ہیں اور فرد کی شخصیت کو سنوارتے ہیں۔

روزے کی ابتدا طلوعِ فجر سے پہلے ہونے والی سحری سے ہوتی ہے۔ سحری نہ صرف جسمانی توانائی کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ اس میں برکت کی ایک خاص کیفیت بھی شامل ہوتی ہے۔ دن بھر روزہ دار کھانے پینے سے اجتناب کرتا ہے اور سورج غروب تک یہ عمل جاری رہتا ہے۔ غروبِ آفتاب کے ساتھ افطار کا وقت آتا ہے، جو شکرگزاری، دعا اور اجتماعی مسرت کا لمحہ ہوتا ہے۔ بہت سے معاشروں میں افطار محض ایک کھانا نہیں بلکہ رشتوں کو جوڑنے، ضرورت مندوں کو یاد رکھنے اور سماجی قربت کو بڑھانے کی روایت بن چکا ہے۔

تاریخی اعتبار سے روزوں کی فرضیت سنہ دو ہجری میں مقرر ہوئی، یعنی پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ کی مکہ سے مدینہ ہجرت کے دوسرے سال۔ اس کے بعد سے رمضان امتِ مسلمہ کی روحانی شناخت کا مستقل حصہ ہے۔ صدیوں سے مسلمان اس مہینے میں عبادات، تلاوتِ قرآن، صدقات اور خیرات کے ذریعہ اپنی زندگیوں میں توازن اور مقصدیت پیدا کرتے آ رہے ہیں۔


رمضان کے روزوں کے دورانیے پر جغرافیہ اور موسم کا گہرا اثر پڑتا ہے۔ زمین کے شمالی اور جنوبی نصف کرہ میں دن اور رات کی طوالت مختلف ہوتی ہے، جس کے باعث روزے کے اوقات بھی بدلتے رہتے ہیں۔ فروری 2026 کے دوران جنوبی نصف کرہ میں موسمِ گرما کا اثر باقی ہوگا، اس لیے وہاں دن نسبتاً طویل اور راتیں مختصر ہوں گی۔ اس کے برعکس شمالی نصف کرہ میں موسمِ سرما کے باعث دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوں گی، جس سے روزے کا دورانیہ نسبتاً کم محسوس ہوگا۔

شمالی یورپ کے انتہائی شمال میں واقع ناروے کے علاقے لانگ یئربین کی مثال دلچسپ ہے۔ یہاں رمضان کے آغاز پر دن کی روشنی محدود ہونے کے باعث روزہ مختصر دورانیے کا ہوسکتا ہے، تاہم جیسے جیسے مہینہ آگے بڑھے گا اور دن لمبے ہوتے جائیں گے، روزے کا وقت بھی بڑھتا جائے گا۔ یہ تغیر ہمیں قدرت کے نظام اور وقت کی گردش کا احساس دلاتا ہے، جہاں عبادت کی صورتیں بھی ماحول کے ساتھ ہم آہنگ رہتی ہیں۔ 

عرب دنیا کے بیشتر حصوں میں 2026 کے رمضان کے دوران روزے کا دورانیہ تقریباً 12 سے 13 گھنٹے کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جسے حالیہ برسوں کے مقابلے میں معتدل سمجھا جاتا ہے۔ مقدس شہر مکہ میں رمضان کے آغاز پر روزہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 06:50 پر شروع ہو کر شام 18:20 کے قریب افطار پر ختم ہوگا، یوں دورانیہ لگ بھگ ساڑھے گیارہ گھنٹے بنتا ہے۔ مہینے کے اختتام تک دن کے بتدریج بڑھنے کے ساتھ اس مدت میں کچھ اضافہ متوقع ہے۔

جنوبی نصف کرہ کے شہروں، مثلاً ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس اور نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں رمضان کے آغاز پر روزہ نسبتاً طویل ہوگا، جو تیرہ گھنٹے سے زائد ہوسکتا ہے۔ تاہم جیسے جیسے جنوبی نصف کرہ موسمِ سرما کی طرف بڑھے گا، دن مختصر ہوتے جائیں گے اور روزے کا دورانیہ کم ہوتا چلا جائے گا۔ یوں ایک ہی مہینے میں مختلف خطّوں کے مسلمان وقت اور موسم کے جداگانہ تجربات سے گزرتے ہیں۔


رمضان 2026 ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ اسلام کی عبادات آفاقی ہیں مگر ان کی عملی صورتیں مقامی حالات سے ہم آہنگ رہتی ہیں۔ کہیں دن طویل ہیں تو کہیں مختصر، مگر مقصد ایک ہی ہے، تقویٰ، خود احتسابی اور انسان دوستی کا فروغ۔ یہی مہینہ انسان کو اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنے، اپنی کمزوریوں پر قابو پانے اور معاشرے کے کمزور طبقات کے ساتھ ہمدردی بڑھانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

اس طرح رمضان نہ صرف ایک مذہبی فریضہ ہے بلکہ ایک اخلاقی اور سماجی تربیت گاہ بھی ہے، جہاں فرد اپنی ذات کو سنوارتا اور معاشرہ اجتماعی بھلائی کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔ سال 2026 کا یہ بابرکت مہینہ امید ہے کہ دنیا بھر میں امن، رواداری اور خیر سگالی کے جذبات کو مزید تقویت دے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔