یہ تو مزدوروں کو بھیڑیوں کے آگے جھونکنے کے مترادف ہے...ارون کمار
امریکی تجارتی دباؤ میں منظور شدہ نئے لیبر قوانین اور منریگا میں تبدیلیاں مزدوروں اور کسانوں کو کمزور کر رہی ہیں۔ ان اصلاحات سے اجرتیں گھٹنے، عدم مساوات بڑھنے اور دیہی معیشت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے

حال ہی میں جس انداز سے عجلت میں پارلیمنٹ کے اندر دو بل پیش کر کے انہیں منظور کرا لیا گیا، اس نے ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکمراں جماعت کو آخر اچانک ان لیبر کوڈز کو نافذ کرنے کی کیا ضرورت پیش آ گئی جو 2019 اور 2020 میں بنائے گئے تھے؟ منریگا کو وی بی–جی رام–جی میں تبدیل کرنے کی ایسی جلدی کیوں دکھائی گئی اور یہ سب کچھ اتنے پردہ پوش طریقے سے کیوں کیا گیا؟
عام طور پر ایسے اقدامات کو ساختی اصلاحات اور معیشت کو جدید بنانے کے نام پر پیش کیا جاتا ہے، مگر اب ان قوانین کے اصل مقاصد بتدریج واضح ہو رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد مزدوروں کی سودے بازی کی طاقت کو کمزور کرنا اور اجرتوں کو نیچے کی طرف دھکیلنا ہے۔ مزدوروں، کسانوں اور حزبِ اختلاف نے اس نکتے کو جلد ہی سمجھ لیا، جس کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔
دیہی اور شہری ہندوستان میں 60 کروڑ سے زیادہ مزدور موجود ہیں۔ اگر انہیں مؤثر طریقے سے منظم کیا جائے تو ان کا احتجاج بے حد طاقتور ثابت ہو سکتا ہے۔ اس پس منظر میں چند بنیادی سوالات اپنی جگہ قائم ہیں:
کیا حکمراں جماعت کو ان فیصلوں کے سیاسی نتائج بھگتنا پڑیں گے؟
کیا دیہی اور شہری مزدور وہی کر سکیں گے جو کسانوں نے کیا تھا؟
کیا وہ حکومت کو ان دو تبدیلیوں کو واپس لینے پر مجبور کر پائیں گے جو دانستہ طور پر ان کی طاقت گھٹانے کے لیے کی گئی ہیں؟
لیبر کوڈز مزدوروں کی سودے بازی کی طاقت کو کمزور کرتے ہیں، ٹریڈ یونینوں کو غیر مؤثر بناتے ہیں اور ایک مزدور کو مالک کے استحصال سے جو تحفظ حاصل تھا، اسے چھین لیتے ہیں۔
اس بات سے انکار نہیں کہ منریگا میں خامیاں تھیں، مگر اس کے باوجود اس اسکیم نے دیہی غریبوں کو روزگار اور آمدنی فراہم کی۔ کم اجرت (جو اکثر کم از کم مزدوری سے بھی کم ہوتی تھی) اور ایک خاندان کے صرف ایک بالغ فرد کو سال میں زیادہ سے زیادہ 100 دن کام کی شرط کے باوجود، اس اسکیم نے وبا جیسے شدید بحران کے وقت آمدنی کا ذریعہ فراہم کیا۔
مالی قلت کے سبب، منریگا اپنے وعدے کے مطابق سال میں اوسطاً 100 دن کے بجائے تقریباً 50 دن کا ہی کام دے پائی، لیکن پھر بھی اس نے سماج کے حاشیے پر موجود طبقوں کو کسی حد تک سہارا ضرور دیا۔
حکومت ان تبدیلیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ لیبر کوڈ مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کریں گے اور وی بی–جی رام–جی اسکیم کے تحت کام کے دن 100 سے بڑھا کر 150 کیے جا رہے ہیں، جس سے زرعی مزدوروں کو فائدہ ہوگا۔ مرکز نے 2024-25 میں اس اسکیم کے لیے بجٹ کو 86 ہزار کروڑ روپے سے بڑھا کر 95,692 کروڑ روپے کرنے کی تجویز دی ہے۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ اگر ریاستیں اپنی کمزور مالی حالت اور بھاری قرض کے باعث اپنے حصے کے 55,590 کروڑ روپے خرچ نہیں کر پاتیں تو مرکز بھی اپنی شراکت کم کر دے گا، جس کے نتیجے میں مجموعی اخراجات 2024-25 کے مقابلے میں خاصے کم ہو جائیں گے۔
طلب پر مبنی منریگا سے سپلائی-کنٹرولڈ اسکیم کی طرف یہ تبدیلی مرکز کو اس بات کی مکمل آزادی دے دے گی کہ وہ اپنی مرضی سے رقم مختص کرے، جبکہ ریاستیں اس کی مرضی پر منحصر ہو جائیں گی۔ اگرچہ ان اصلاحات کو مزدوروں کے حق میں دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر حقیقت یہی ہے کہ یہ تبدیلیاں زرعی اور غیر زرعی، دونوں شعبوں کے مزدوروں کو کمزور کرنے کے لیے تیار کی گئی ہیں۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ہندوستان میں مزدور تحریکیں ہمیشہ کمزور رہی ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ 94 فیصد کامگار غیر منظم شعبے میں کام کرتے ہیں۔ ان کے پاس نہ تو مہنگائی کے مطابق اجرت میں اضافے کا مؤثر مطالبہ کرنے کی طاقت ہے اور نہ ہی اجتماعی سودے بازی کی صلاحیت۔
غیر منظم شعبے سے متعلق دستیاب اعداد و شمار بھی مشکوک ہیں کیونکہ وہ پرانے اور نامکمل ہیں۔ پیداوار میں مزدوری کے کم اور مسلسل گھٹتے حصے سے خود بخود واضح ہو جاتا ہے کہ صورتحال کس رخ پر جا رہی ہے۔ اس پر مزید یہ کہ تکنیکی ترقی روزگار کے مواقع کو مزید محدود کر رہی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اچانک مزدوروں کو کمزور کرنے کا یہ قدم کیوں اٹھایا گیا؟ اس کا جواب امریکی صدر ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیوں اور ان کے ہندوستانی معیشت پر پڑنے والے اثرات میں پوشیدہ ہے۔ ایک طرف زیادہ اجرت والے ہندوستانی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں، تو دوسری طرف امریکہ ہندوستانی زراعت کے بڑے حصے کو کھولنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جسے مان لیا گیا تو تقریباً 50 فیصد ہندوستانیوں کی آمدنی پر منفی اثر پڑے گا۔
یہ دونوں قوانین دراصل انہی خطرات سے نمٹنے کی ایک کوشش ہیں۔ نئے لیبر کوڈ غیر زرعی شعبے کی مشکلات کا حل پیش کرتے ہیں، جبکہ وی بی–جی رام–جی زرعی شعبے کے مسئلے سے جڑا ہوا ہے۔ دونوں صورتوں میں حکومت ٹرمپ کے مطالبات کا بوجھ مزدوروں کے کندھوں پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ہندوستانی صنعت کار چاہتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ جلد از جلد ہو جائے۔ مگر ٹرمپ کا یہ مطالبہ کہ ہندوستان روس سے خام تیل کی درآمد کم کرے اور زراعت کو غیر ملکی منڈی کے لیے کھول دے، سیاسی طور پر نہایت حساس ہے۔ اس کے باوجود ہندوستان ان دباؤ کے آگے جھکتا نظر آ رہا ہے۔
گزشتہ سال کے بجٹ میں کئی درآمدی محصولات کم کیے گئے، امریکہ سے توانائی کی درآمد میں اضافہ کیا گیا، دفاعی ساز و سامان کی خرید بڑھائی گئی اور کپاس پر درآمدی محصول ختم کر دیا گیا۔
پارلیمنٹ کے حالیہ سرمائی اجلاس میں عجلت میں منظور کیا گیا ’شکتی‘ بل دراصل جوہری آلات فراہم کرنے والوں کی ذمہ داری کم کرتا ہے تاکہ امریکی سپلائرز ہندوستان کو آسانی سے سامان فروخت کر سکیں۔ واشنگٹن میں اس وقت اس بات پر بھی بحث ہو رہی ہے کہ روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جائے۔ ایسی صورت میں کسی بھی قسم کی تجارت ممکن نہیں رہے گی۔
امریکہ کی جانب سے 50 فیصد تک ٹیرف عائد کیے جانے کے باعث ہندوستانی برآمدات غیر مسابقتی ہو چکی ہیں، جس سے برآمد کنندگان کو یا تو منافع کم کرنا پڑ رہا ہے یا مزدوروں کی تنخواہوں میں کٹوتی کرنی پڑ رہی ہے۔ کچھ برآمدات متحدہ عرب امارات جیسے تیسرے ممالک کے ذریعے کی جا رہی ہیں، جہاں ٹیرف کم ہیں، مگر اس میں دلالوں کو ادائیگی کرنی پڑتی ہے، جس سے منافع مزید گھٹ جاتا ہے۔
گزشتہ چند مہینوں میں برآمدات میں مسلسل کمی نے برآمد کنندگان کے نقصانات میں اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ روپے کی قدر میں کمی سے انہیں کچھ راحت ملی ہے، کیونکہ اس سے ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت گرتی ہے۔ اسی تناظر میں یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ ریزرو بینک روپے کو کمزور ہونے کیوں دے رہا ہے۔ لیکن اگر ٹرمپ ہندوستانی اشیا پر عائد ٹیرف کم کر دیتے ہیں تو یہ تمام پیچیدگیاں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔
روسی تیل کمپنیوں پر پابندیوں کے باعث خام تیل کی درآمد میں کمی آ چکی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ ناگزیر بنتا جا رہا ہے، اور اس کی قیمت شاید زرعی شعبے کو کھولنے کی صورت میں ادا کرنی پڑے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کارپوریٹ دباؤ کے تحت پالیسی ساز ہندوستانی زراعت اور دودھ کے شعبے کے مفادات قربان کر دیں گے؟
کیا ہندوستانی کسان یورپی یونین اور امریکہ کے ان کسانوں سے مقابلہ کر سکتے ہیں جو بھاری سبسڈی سے فائدہ اٹھاتے ہیں؟ سستی درآمدات سے زرعی مصنوعات کی قیمتیں ایم ایس پی سے بھی نیچے چلی جائیں گی، جس سے کسانوں کے نقصانات میں مزید اضافہ ہوگا۔
اسی لیے مزدوری کم کرنا اور ان پٹ سبسڈی بڑھانا ایک حکمتِ عملی کے طور پر اپنایا جا رہا ہے۔ وی بی–جی رام–جی بل زرعی مزدوری کو کم کرتا ہے اور بڑے کسانوں کی اس دیرینہ شکایت کو پورا کرتا ہے کہ منریگا کے باعث مزدور کم دستیاب ہیں اور اجرتیں بڑھ گئی ہیں۔ نئے قانون کے تحت کٹائی اور بوائی کے عروجی موسم میں رعایت دے کر اس مطالبے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
مگر کیا بڑے کسانوں کو واقعی خوش ہونا چاہیے؟ شاید نہیں، کیونکہ کم مزدوری سے حاصل ہونے والا فائدہ سستی درآمدات کے باعث ہونے والے نقصان کے مقابلے میں بہت کم ہوگا۔
مجموعی طور پر اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ٹرمپ ہندوستان کے لیے ٹیرف کو اس کے عالمی حریفوں کے برابر کم کر دیں گے۔ امریکہ ہندوستان کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت سے بتدریج دور ہوتا جا رہا ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال میں کیا حکومت کو زرعی شعبہ کھولنے کے بارے میں سوچنا بھی چاہیے؟
لہٰذا مزدوروں کو کمزور کرنا کوئی حادثاتی فیصلہ نہیں۔ یہ ایک سوچی سمجھی تیاری کا حصہ ہے، اور شاید ٹرمپ کے سامنے آخرکار ہتھیار ڈالنے کا اشارہ بھی۔ کم اجرتیں اور زرعی منڈیوں کا کھلنا ہندوستان میں عدم مساوات کو بڑھائے گا، طلب کو کمزور کرے گا اور سرمایہ کاری، روزگار اور اقتصادی ترقی پر منفی اثر ڈالے گا۔
صاف ظاہر ہے کہ اس کا سب سے زیادہ نقصان مزدوروں اور کسانوں کو ہوگا۔ مگر ان کی مدد کرنے کے بجائے حکمراں جماعت نے کاروباری مفادات کے تحفظ کو ترجیح دی ہے۔
مضمون نگار ارون کمار (جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور کتاب انڈین اکنامیز گریٹیسٹ کرائسس: امپیکٹ آف دی کورونا وائس اینڈ دی روڈ اہیڈ کے مصنف ہیں)
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔