بار بار ثابت کرو کہ تم یہیں کے ہو... ہرجندر

اصل بحث پاسپورٹ کی حیثیت پر نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے رشتہ پر ہے۔ کیا حکومت کا مقصد لوگوں کو سسٹم میں شامل کرنا ہونا چاہیے، یا پھر 147 کروڑ لوگوں سے بار بار یہ ثابت کروانا کہ وہ اسی ملک کے شہری ہیں؟

تصویر سوشل میڈیا
i
user

ہرجندر

حال ہی میں جب وزارت خارجہ کے حکام نے یہ وضاحت پیش کی کہ ہندوستانی پاسپورٹ ’بنیادی طور پر ایک سفری دستاویز‘ ہے اور یہ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں، تو یہ محض ایک قانونی تشریح نہیں رہی۔ اس بیان نے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی کہ آخر ہندوستانی اپنی شہریت کا ثبوت کیسے دے سکتے ہیں؟

وزارت خارجہ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہندوستان کی 9 فیصد سے بھی کم آبادی کے پاس درست پاسپورٹ ہے، یعنی تقریباً 12 سے 13 کروڑ لوگوں کے پاس۔ ان کے لیے پاسپورٹ صرف بیرون ملک سفر کی اجازت دینے والی دستاویز نہیں، بلکہ جمہوریۂ ہند کی جانب سے دیا گیا اعلیٰ ترین اعتماد کا ثبوت ہے۔ اس پر قومی نشان ہوتا ہے، دنیا بھر میں اسے ہندوستانی قومیت کی شناخت کے طور پر قبول کیا جاتا ہے اور غیر ملکی حکومتیں اسے اس اعتماد کے ساتھ تسلیم کرتی ہیں کہ ہندوستان نے اسے جاری کرنے سے پہلے فرد کی شہریت کی تصدیق کی ہوگی۔ ایسے میں اگر پاسپورٹ بھی شہریت کا فیصلہ کن ثبوت نہیں ہے، تو پھر کون سی دستاویز ہے؟


یہ تنازعہ 24 جون کو ’پاسپورٹ سیوا دیوس‘ کے موقع پر منعقدہ میڈیا بریفنگ کے دوران شروع ہوا۔ ’دی ہندو‘ کے ایک نامہ نگار نے پوچھا کہ اگر کسی ہندوستانی شہری کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا جائے، تو کیا وہ اپنے درست پاسپورٹ کی بنیاد پر عدالت میں اپنی شہریت ثابت کر سکتا ہے؟ جواب میں وزارت خارجہ نے کہا کہ قانونی طور پر شہریت کا تعین شہریت ایکٹ، 1955 کے تحت ہوتا ہے، جبکہ پاسپورٹ پاسپورٹ ایکٹ، 1967 کے تحت جاری کیے جاتے ہیں۔ اس لیے پاسپورٹ بذات خود شہریت فراہم نہیں کرتا۔

سابق خارجہ سکریٹری نروپما مینن راؤ نے ’دی انڈین ایکسپریس‘ میں شائع ایک مضمون میں اس بحث کی باریکیوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق، بیشتر ہندوستانیوں کے لیے پاسپورٹ جمہوریہ کی جانب سے جاری کیا گیا سب سے زیادہ مستند دستاویز ہے۔ یہ حامل (فرد) کی شناخت درج کرتا ہے اور دنیا بھر میں اسی لیے قبول کیا جاتا ہے کیونکہ غیر ملکی حکومتوں کو اعتماد ہوتا ہے کہ ہندوستان نے اسے جاری کرنے سے پہلے اس کی قومیت کی تصدیق کی ہے۔ راؤ یہ بھی کہتی ہیں کہ پاسپورٹ شہریت پیدا نہیں کرتا۔ اگر کسی عدالت میں شہریت پر تنازعہ کھڑا ہو جائے، تو حتمی فیصلہ پاسپورٹ کی بنیاد پر نہیں ہوگا۔ قانونی نقطۂ نظر سے یہ دلیل درست ہو سکتی ہے، لیکن جس وقت شہری پہلے ہی اپنی شناخت سے متعلق دستاویزات کے بارے میں الجھن کا شکار ہوں، اس وقت ایسی تشریح ان کے خدشات کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔


گزشتہ چند برسوں میں شہریوں کی جانب سے سب سے زیادہ استعمال ہونے والی کئی دستاویزات کی اعتباریت پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ آدھار شناخت کا ثبوت ہے، لیکن قومیت کا نہیں۔ ووٹر شناختی کارڈ صرف اہل شہریوں کو جاری کیا جاتا ہے، پھر بھی اسے شہریت کا مکمل ثبوت نہیں مانا جاتا۔ پین کارڈ بھی اس معیار پر پورا نہیں اترتا۔ اب اگر پاسپورٹ بھی اس فہرست میں شامل ہو جائے، تو عام شہری کے ذہن میں عدم تحفظ پیدا ہونا فطری ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں ’نیشنل پاپولیشن رجسٹر‘ (این پی آر)، ’نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز‘ (این آر سی)، ’شہریت ترمیمی قانون‘ (سی اے اے) اور اب ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) جیسے عمل نے شہریت کے حوالے سے غیر معمولی بے چینی پیدا کی ہے۔ ان تمام اقدامات کی قانونی نوعیت اگرچہ الگ الگ ہے، لیکن عام شہری کے تجربے میں ان کا پیغام ایک ہی رہا ہے... اپنی شہریت بار بار ثابت کرو۔

اب سوال صرف یہ نہیں رہ گیا کہ کون ہندوستانی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کون فلاحی اسکیموں کا اہل ہے، کسے ووٹ دینے کا حق ملے گا اور کسے نہیں۔ شہریت اب ایک مستقل آئینی حیثیت سے زیادہ ایک ایسی کیفیت بن گئی ہے، جسے وقتاً فوقتاً ثابت کرنا پڑتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جن دستاویزات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، وہ سب کے پاس موجود نہیں ہیں۔ پیدائش کا اندراج ملک میں نسبتاً حالیہ برسوں میں ہی بڑے پیمانے پر رائج ہوا ہے۔ لاکھوں لوگوں کا ریکارڈ نامکمل ہے، ناموں کے ہجے مختلف درج ہیں، پتے بدل چکے ہیں یا وقت کے ساتھ دستاویزات گم ہو چکی ہیں۔ سب سے زیادہ دشواری بزرگوں، دیہی آبادی، مہاجر مزدوروں اور معاشی طور پر کمزور طبقوں کو پیش آتی ہے۔ آسام میں این آر سی کا عمل پہلے ہی یہ دکھا چکا ہے کہ دستاویزات میں معمولی سی کمی بھی برسوں سے رہنے والے شہریوں کو شک کے دائرے میں لا سکتی ہے۔


کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے اس تضاد کو ایک جملے میں سمیٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’پاسپورٹ ایکٹ یہ نہیں کہتا کہ پاسپورٹ آپ کی شہریت کا ثبوت ہے، لیکن یہ ضرور کہتا ہے کہ اگر آپ ہندوستانی شہری نہیں ہیں، تو آپ کو پاسپورٹ مل ہی نہیں سکتا۔‘‘ وکیل اور سماجی کارکن آیوشمان پانڈے بھی مانتے ہیں کہ پاسپورٹ کو شہریت سے الگ کر کے دیکھنے سے قانونی اور عملی، دونوں طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ آخر پاسپورٹ جاری کرنے سے پہلے تفصیلی دستاویزی جانچ، پولیس تصدیق اور کئی سطحوں پر توثیق کی جاتی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں بھی پاسپورٹ وہی دستاویز ہے جس کے ذریعے ریاست کسی شخص کی قومیت کی تصدیق کرتی ہے۔

اسی تناظر میں سینئر صحافی آر راجاگوپال کا معاملہ وسیع بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ ’دی ٹیلی گراف‘ کے سابق مدیر راجاگوپال کا نام مغربی بنگال میں ایس آئی آر عمل کے دوران ووٹر فہرست سے ہٹا دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے باعث ان کے پاسپورٹ کی تجدید میں پولیس تصدیق رک گئی اور وہ اپنی بیٹی کی شادی میں شرکت کے لیے بیرون ملک نہیں جا سکے۔ راجاگوپال بتاتے ہیں کہ مغربی بنگال کے تقریباً 27 لاکھ دیگر لوگوں کی طرح انہیں بھی مبینہ ’منطقی بے ضابطگیوں‘ کی بنیاد پر ووٹر فہرست سے خارج کر دیا گیا۔ میٹرک سرٹیفکیٹ سمیت کئی دستاویزات جمع کرانے کے باوجود انہیں کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ ان کی اپیل اب بھی ٹریبونل میں زیرِ التوا ہے۔


ان کی پریشانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ پاسپورٹ کی تجدید کے لیے مارچ 2026 میں بایومیٹرک عمل مکمل کرنے کے باوجود پولیس تصدیق اس لیے زیر التوا رہی کیونکہ ان کا نام ووٹر فہرست میں نہیں تھا۔ متبادل دستاویزات بھی قبول نہیں کیے گئے۔ آخرکار انہیں اطلاع دی گئی کہ کولکاتا پولیس نے ان کے خلاف منفی رپورٹ بھیجی ہے اور انہیں فوری طور پر علاقائی پاسپورٹ دفتر میں حاضر ہونے کو کہا گیا، جبکہ تاریخ تقریباً ایک ماہ بعد کی دی گئی۔

راجاگوپال کا معاملہ اس لیے اہم بن گیا کیونکہ اس نے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا۔ اگر عوامی زندگی میں دہائیوں سے سرگرم ایک ممتاز صحافی اس طرح کی انتظامی الجھنوں میں پھنس سکتا ہے، تو ایک عام شہری کے سامنے کس نوعیت کی مشکلات کھڑی ہوں گی؟ غیر قانونی تارکین وطن یا ’دراندازوں‘ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی سیاسی بیان بازی نے ان خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ خاص طور پر مسلم برادری سمیت متعدد اقلیتی گروہوں کو یہ خوف ہے کہ دستاویزات کی یہ بڑھتی ہوئی طلب ان پر غیر مساوی طور پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔


شاید یہ کہنا قانونی طور پر درست ہو کہ شہریت کا ماخذ پاسپورٹ نہیں، بلکہ شہریت ایکٹ ہے، لیکن کسی بھی جمہوریت میں صرف قانونی تکنیکی نکات ہی اہم نہیں ہوتے۔ اتنا ہی اہم یہ بھی ہے کہ ریاست اپنے شہریوں میں اعتماد پیدا کرے یا شک۔ آج اصل بحث پاسپورٹ کی حیثیت پر نہیں، بلکہ ریاست اور شہری کے رشتہ پر ہے۔ کیا حکومت کا مقصد لوگوں کو سسٹم میں شامل کرنا ہونا چاہیے، یا پھر 147 کروڑ ہندوستانیوں سے بار بار یہ ثابت کروانا کہ وہ واقعی اسی ملک کے شہری ہیں؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔