لکھنؤ میں ووٹ چوری اور گیانیش کے خلاف احتجاجی مارچ، وہ نکل بھی نہیں پائے تھے کہ حراست میں لے لیے گئے...ناگیندر

لکھنؤ یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر اور احتجاج کی نمایاں آواز پروفیسر روپ ریکھا ورما سمیت مارچ میں شامل ہونے آئے سینکڑوں لوگوں کو حراست میں لے لیا گیا، جن میں بڑی تعداد میں خواتین اور نوجوان شامل تھے۔

<div class="paragraphs"><p>لکھنؤ میں ووٹ چوری اور گیانیش کے خلاف احتجاجی مارچ</p></div>
i
user

ناگیندر

لکھنؤ میں گزشتہ کئی دنوں سے جدوجہد اور نوجوانوں کے جوش کا جو ماحول بن رہا تھا، اس سے پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ 2 اکتوبر کو ’ووٹ چوری‘ کے خلاف پریورتن چوک سے گاندھی مجسمے تک ہونے والا پرامن احتجاج حکومت کو راس نہیں آئے گا۔ نتیجہ جمعہ کی دوپہر سامنے آ گیا، جب مقررہ 2 بجے سے کافی پہلے ہی بھاری پولیس بندوبست نے چاروں طرف سے پریورتن چوک پارک کی ناکہ بندی کر دی۔ پہلے تو لوگوں کو وہاں پہنچنے سے ہی روکنے کی کوشش کی گئی اور پھر جو لوگ ادھر اُدھر سے پہنچ گئے، انہیں حراست میں لے لیا گیا۔

پولیس لوگوں کو حراست میں لے کر بسوں میں بھرتی جا رہی تھی، دوسری جانب احتجاج میں شامل ہونے آئے لوگوں کی تعداد بڑھتی رہی۔ لکھنؤ یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر اور احتجاج کی نمایاں آواز پروفیسر روپ ریکھا ورما سمیت مارچ میں شامل ہونے آئے سینکڑوں لوگوں کو حراست میں لے لیا گیا، جن میں بڑی تعداد میں خواتین اور نوجوان شامل تھے۔ حراست میں لیے گئے لوگوں میں پروفیسر روپ ریکھا ورما کے علاوہ سدھانشو باجپئی، مدھو گرگ، پریئش، ششی شمد، وویک مشرا، مہیندر یادو، راجیو دھیانی، وہاب احمد، راکیش، سوریہ موہن کُلشریشٹھ، مردولا بھاردواج، انکت گپتا، اونیش چورسیا، شبھم کھروار، نتیش مشرا، دیپک کبیر وغیرہ شامل ہیں۔ تمام مظاہرین کو ایکو گارڈن لے جایا گیا، جہاں دیر شام انہیں رہا کر دیا گیا۔


مکمل طور پر پُرامن احتجاج پر پولیس کی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے پروفیسر روپ ریکھا ورما نے اسے حکومت کی بزدلی اور مزاحمت کی جیت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے ’ووٹ چوری‘ کا جواب مانگتے ہوئے اور اس کے لیے ذمہ دار گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ان ہاتھوں میں نہ کوئی ہتھیار تھے اور نہ ہی اشتعال انگیز آواز، صرف کچھ نعرے لکھے پلے کارڈز تھے۔ لیکن حکومت اب شاید نوجوانوں اور سول سوسائٹی کی اجتماعی موجودگی کی آواز کو بھی پڑھنے لگا ہے اور اسے برداشت نہیں کر پا رہا۔ ان کے مطابق آج کا پولیس کا طرز عمل اقتدار کے اسی خوف کی علامت ہے۔

لکھنؤ میں مزاحمت کی یہ آواز 2 روز قبل 30 ستمبر کو اس وقت نمایاں ہوتی دکھائی دی، جب ملک اور ریاست میں پیپر لیک، بڑھتی بے روزگاری اور مہنگی ہوتی تعلیم کے خلاف طلبہ و نوجوان تنظیم ’جسٹس مورچہ‘ کی گورکھپور کے چوری چورا سے شروع ہوئی سائیکل یاترا کشی نگر، دیوریا، بلیا، اعظم گڑھ، وارانسی اور پریاگ راج سے ہوتی ہوئی 40ویں روز لکھنؤ پہنچی اور جگہ جگہ اس کا شاندار استقبال ہوا۔ یاترا میں آئسا، این ایس یو آئی، سماجوادی طلبہ سبھا کے ساتھ جسٹس مورچہ کے ارکان اور عہدیدار شامل تھے۔ اپنے آخری مرحلے میں یاترا لکھنؤ کے تیلی باغ سے شروع ہو کر ’کاکوری شہید اسمارک‘ پہنچی اور یکم اکتوبر کو گاندھی میدان کے کستوربا آڈیٹوریم میں ’زین-جی کنیکٹ لکھنؤ‘ جلسے میں تبدیل ہو گئی، جس سے مختلف عوامی تنظیموں کے نمائندوں نے خطاب کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔