لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی... تقدیس نقوی

سیاست میں اونچ، نیچ، آپسی چپقلش اور ٹانگ کھینچنے کا کھیل ہر روز کھیلا جاتا ہے مگر اڈوانی جی کے ساتھ انتخابات سے قبل اور پچھلے 5 سالوں میں جو روا رکھا گیا وہ ہر سیاستدان کے لئے باعث عبرت ہے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

تقدیس نقوی

ہمارے ملک کے موجودہ قدآور سن رسیدہ سیاسی لیڈروں میں اب بہت کم ہی ایسے لیڈر بچے ہیں جنھیں اس وقت بیت بزرگاں میں استراحت کرنے پر مجبور کیے گئے سینئر لیڈر شری لال کرشن آڈوانی جی کی طرح اپنے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے ہیں بلکہ ان کی طرح اپنی طویل کامیاب سیاسی زندگی کے سفر میں اپنے سیاسی تدبر، اور دور اندیشی کے سبب کامیابی کی بلندیوں تک پہنچے ہیں، یوں بھی سیاست میں سر نہیں خون سفید ہوتا ہے۔

بہت سے سیاسی مبصرین کا تو یہ ماننا ہے کہ ان کی پارٹی آج کل ملکی سیاست کے پیڑ سے جن تازہ پھلوں کو کھا کر پھل پھول رہی ہے ان کو خوشنما اور دلکش رنگ دینے کے لئے راشٹرواد کی پرانی شاخوں میں ہندوتوا کی نئی قلمیں لگانے والے شری اڈوانی جی ہی ہیں۔ نہ وہ اتنی لمبی رتھ یاترا کر کے اپنے گورے رنگ کو دھوپ میں کالا کرتے اور نہ بابری مسجد منہدم کرائی جاتی اور نہ اس کے ملبے پر گذشتہ الیکشن کی کامیابی کا جشن منایا جاتا۔

گوکہ میدان سیاست میں اونچ، نیچ، آپسی چپقلش اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھیچنے کا کھیل ہر روز کھیلا جاتا ہے مگر ان کے اپنے ہی لوگوں نے جو کچھ سلوک اڈوانی جی کے ساتھ لوک سبھا الیکشن سے قبل اور پچھلے پانچ سالوں میں آج تک روا رکھا ہے وہ ہر سیاستدان کے لئے باعث عبرت ہے۔ ہندوستانی تہذیب اور ثقافتی اعلی اقدار کا تقاضہ تو یہ تھا کہ جس بزرگ نے پریوار کے نوجوانوں اور بچوں کو اپنے پاؤں پرکھڑا ہونا سکھایا تھا وہ آج ان کے پاؤں دھو دھوکر پیتے، مگر اۡقتدار کی دوڑ میں خون پیا جاتا ہے پاؤں دھوکر نہیں۔

عموماً کسی سن رسیدہ شخص کو کچھ دیر خاموش دیکھ کر یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ اس بزرگ کو تھوڑی دیرکے لئے اونگھ سی آگئی ہے مگر اڈوانی جی کا شمار ابھی ان بزرگوں میں نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ انھیں اپنی بات کہنے میں صحیح موقعہ اور مناسب الفاظ تلاش کرنے میں کچھ قباحت محسوس ہو رہی ہو یا شاید اب کچھ بھی کہے جانے کے لئے بہت دیر ہوچکی ہے۔ بہت سے مبصرین کے خیال میں آخرالذکر بات زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے۔

سیاست میں کوئی بھی صحیح اقدام غلط وقت پر لینے سے صدیوں کا فاصلہ ہوجاتا ہے جس کی مثالوں سے اس دنیا کی تاریخیں بھری پڑی ہیں۔ دور کیوں جائیے اپنے ہندوستان کی پچھلے پانچ سوسال کی تاریخ کو ہی کھنگال کر دیکھیں تو ایسی ہزار مثالیں مل جائیں گی کہ جہاں اپنے ہی چراغ سے اپنے گھر کو آگ لگ گئی تھی۔ اب ہمارے شھنشاہ اورنگ زیب بہادر کوئی مریخ کے باشندے تو نہیں تھے۔ انگریزی کی یہ مشھور کہاوت ہر دور پر صادق آتی رہے گی کہ kingship knows no kinship یعنی اقتداررشتہ دار نہیں پہچانتا۔ وقتی سیاسی قربت جو ایک اقدام سے پل بھرمیں بے وقعت ہوجاتی ہے بھلا کس گنتی میں ہے۔

کچھ معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ گجرات فسادات کے بعد اس کے ملکی سیاست اور کچھ مخصوص سیاسی پارٹیز کی ساکھ پر منفی اثرات پڑنے کے نتیجے میں آنجہانی اٹل بہاری واجپئی نے کچھ لوگوں کے خلاف کچھ سخت اقدامات کیے تھے مگر اس وقت اڈوانی جی نے اپنی سیاسی حکمت عملی کے پیش نظر اپنے بزرگ اٹل جی کی نہیں سنی تو اب آج کا کوئی فعال سیاستداں اپنے بزرگ اڈوانی جی کی کیوں سنے بھلا۔ کہتے ہیں اس کے بعد اٹل جی نے لال کرشن ڈوانی کو ان لوگوں سے متنبہ اور ہوشیار رہنے کو بھی کہا تھا مگر پھراس ضرب المثل کا کیا ہوتا کہ تاریخ خود کو ہمیشہ دوہراتی ہے۔ مزید یہ کہ تاریخ سے بڑا ٹیچرکوئی نہیں ہوتا۔

ہمارا دل یہ ماننے کو تیار نہیں ہے کہ آڈوانی جی نے تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ نہ کیا ہوگا خاص طور سے مغل سلطنت کی تاریخ کا۔ یوں بھی مغل سلطنت کے موسس شھنشاہ ہندوستان ظہیرالدین بابر سے ان کی مخصوص دلچسپی اور گہرے تعلق کے پیش نظر ان کے سامنے اپنوں کے ذریعے کی گئی بے وفائی کی ہزاروں مثالیں موجود ہوں گی۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ بابری مسجد جو شہنشاہ بابر سے منسوب ہے کہ انہدام کی غرض سے اتنی بڑی تحریک چلائیں، اتنی طویل رتھ یاترا کرنے والی برات کے دولہا بنے ہوں اور بابر کی تاریخ کا مطالعہ نہ کریں۔ ہمیں یقین کامل ہے کہ ایودھیا جانے سے قبل انھوں نے ’تزک بابری‘ یا ’بابر نامہ‘ کی ورق گردانی ضرور کی ہوگی۔

مغل تاریخ کے مطالعے کے دوران اڈوانی کو بھی اس دلچسپ واقعہ سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے تھا کہ جو اس وقت شہنشاہ بابر، اس کے بیٹے شہزادہ ہمایوں اور ان کے اس وقت کے معتمد خاص شیر شاہ سوری کے درمیان پیش آیا تھا۔ اس دلچسپ اور تاریخی اہمیت کے واقعے کو بیان کرنے سے پہلے ہم یہ بات واضح کرتے چلیں کہ یہاں ہم شیر شاہ سوری کا کسی بھی شخصیت سے تقابل ہرگز نہیں کر رہے ہیں کیونکہ شیرشاہ سوری کوئی عام آدمی نہیں تھا بلکہ ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر، شجاع اورعظیم مدبرشخص تھا۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ وہ لومڑی کی طرح چالاک اور اقتدار کا حریص بھی تھا۔ اب ان خصائل میں اس سے کسی کی مشابہت نکل آئے تو دوسری بات ہے۔

واقعہ کچھ یوں تھا کہ شیرشاہ سوری جس کا اصلی نام فرید خاں تھا بابر کے خاص ذاتی محافظوں میں شامل تھا جس نے ایک شکار کے دوران بابر پرحملہ کرتے ہوئے شیر سے اس کی جان بچائی تھی۔ بابر نے اس بہادری کے اعتراف میں اسے شیرشاہ کا خطاب عطا کیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد بابر شیرشاہ پر بہت زیادہ اعتماد کرنے لگا اور اسے اپنے خاص مصاحبین میں شامل کرلیا۔ ایک دن شھنشاہ بابر، شہزادہ ہمایوں اور شیرشاہ سوری دسترخوان پر بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے تھے۔ بابر اور ہمایوں کے سامنے ایک مرغ مسلم لاکر رکھا گیا۔ شیرشاہ نے جو ہمایوں کے سامنے بیٹھا تھا اپنی تلوار کی نوک سے ہمایوں کے سامنے رکھے اس مرغ مسلم کو اٹھا کر اپنی پلیٹ میں رکھ لیا۔ بظاہر یہ بادشاہ اور شہزادے کی نہ صرف توہین تھی بلکہ اک ایسی جسارت تھی جس کی سزا صرف موت تھی۔ مگر شیرشاہ کے بادشاہ کی جان بچائے جانے جیسے بڑے احسان کے لحاظ میں بابر نے اس بات کو اس وقت نظر انداز کر دیا۔ بابر نے دسترخوان سے اٹھنے کے بعد اپنے بیٹے ہمایوں کو نصیحت کی کہ بیٹا شیرشاہ سے ہمیشہ ہوشیار رہنا اگر تیری حکومت کو کوئی للکارنے کی قوت رکھتا ہے تو وہ یہ شیرشاہ ہے۔ مگرتاریخی واقعات شاہد ہیں کہ ہمایوں نے اپنے باپ کی نصیحت نہ مان کر شیرشاہ کی جانب خاطر خواہ توجہ نہ دی اور نتیجے میں مغل سلطنت اس کے ہاتھوں گنوا بیٹھا اور پھر برسوں جنگلوں میں تنہا بھٹکتا رہا۔

ممکن ہے ہمایوں نے بھی شیرشاہ کی جان بخشی اس امید میں کی ہو کہ کل وقت آنے پر وہ بھی اس کی جان بچائے گا مگر اس کی وہ ایک لمحے کی خطا پوری سلطنت مغلیہ کے ہاتھ سے نکل جانے کا سبب بنی۔

غور کیا جائے تو ایک خطا کی سزا آج بھی سارا ملک بھگت رہا ہے کیونکہ کچھ لوگوں کو وفاداری کے مقابل اقتدار کل بھی اتنا ہی عزیز تھا جتنا آج ہے۔

Published: 28 Apr 2019, 8:10 PM