دعا کریں تصادم میں فتح سفارت کاری کی ہو... اشوک سوین

سب سے خطرناک تہران میں اقتدار بدلنے کے لیے کوئی بھی امریکی فوجی مہم ہوگی۔ عراق سے لے کر لیبیا تک، کہیں بھی حکومت کے گرنے سے کوئی نیا مستحکم نظامِ حکومت نہیں دیکھنے کو ملا، بلکہ ایک خلا ہی پیدا ہوا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i
user

اشوک سوین

امریکہ اور ایران ایک بار پھر خطرناک موڑ پر کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ جنگی طیاروں اور طیارہ بردار بحری جہازوں سمیت فوجی دستے تعینات کیے جا رہے ہیں اور خطرناک دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اس تناؤ بھرے ماحول میں ایک بھی غلط قدم یا غلط فہمی ایسے حالات پیدا کر سکتے ہیں جسے سنبھالنا بہت مشکل ہوگا۔ حال ہی میں جس طرح بحیرۂ عرب میں امریکی فوج نے ایرانی ڈرون کو مار گرایا، وہ اس بات کا اشارہ ہے کہ چھوٹی موٹی کارروائیاں بھی بڑے تصادم میں بدل سکتی ہیں۔ آبنائے ہرمز میں ایرانی فوج کی جانب سے امریکی پرچم بردار ایک کمرشیل جہاز کو روکنے کی کوشش کی نئی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ یہ کوئی بہت دور کی وارننگ نہیں بلکہ ایک شکل اختیار کرتے ٹکراؤ کے اشارے ہیں۔

اس بڑھتے تناؤ کے باوجود حالات کو سفارتی طریقے سے سنبھالنے کی کچھ نہ کچھ گنجائش اب بھی موجود ہے۔ جوہری معاہدے کو دوبارہ پٹری پر لانے کی کوششیں جاری ہیں اور واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اگرچہ فوجی تعیناتیاں تناؤ بڑھنے کا عندیہ دے رہی ہیں، لیکن بات چیت اب بھی جاری ہے۔ موقع نازک ہے، لیکن سفارتی اقدام ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعہ ایک علاقائی جنگ کو عالمی بحران میں بدلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اگر خدشات درست ثابت ہوئے تو انسانی اور معاشی نقصان حد سے کہیں زیادہ ہوگا۔


سب سے خطرناک صورت حال تہران میں اقتدار کی تبدیلی کے لیے کسی بھی امریکی فوجی کارروائی کی ہوگی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے منصوبے کبھی بھی استحکام نہیں لاتے۔ عراق سے لے کر لیبیا تک، کہیں بھی حکومت کے گرنے سے کوئی نیا مستحکم نظام قائم نہیں ہوا، بلکہ صرف خلا پیدا ہوا۔ ایران کوئی چھوٹا یا کمزور ملک نہیں جسے جیسے چاہیں بدل دیا جائے۔ یہ 9 کروڑ آبادی والا ملک ہے، جس کے پاس مضبوط ادارے، تاریخ کی گہری سمجھ اور ایک طاقتور سکیورٹی نظام ہے۔ اگر کوئی بیرونی حملہ حکمراں ڈھانچے کو گرانے کی کوشش کرتا ہے تو اس بات کے زیادہ امکانات ہیں کہ لوگ ہتھیار ڈالنے کی طرف نہیں جائیں گے، بلکہ بیرونی دشمن کے خلاف متحد ہو جائیں گے۔ اس سے سخت گیر عناصر اقتدار میں آئیں گے، سیکورٹی فورسز مزید سخت کنٹرول نافذ کریں گے اور موجودہ اقتدار سے نالاں لوگ بھی بیرونی حملہ کی صورت میں ملک کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے۔

حالیہ تجربات اُن لوگوں کے لیے بھی تنبیہ ہونے چاہئیں جو اب بھی یہ مانتے ہیں کہ فضائی حملے سیاسی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ 2025 میں اسرائیل اور امریکہ نے ایران میں بڑے حملے کیے، جن میں جوہری اور فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ ان سے نقصان ضرور ہوا، لیکن حکومت نہ گری، نہ ہی اس کا سیکورٹی نظام ٹوٹا۔ قیادت اپنی جگہ قائم رہی۔ حکومت نے حالات کے مطابق خود کو ڈھالا اور دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حکام نے سخت کارروائی کر کے احتجاجی مظاہروں کی ایک اور لہر کو بھی دبا دیا۔


ایران کو امریکہ کے بڑے فضائی حملوں کو روکنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے، خاص طور پر حساس تنصیبات پر۔ یہ بات فوجی نقطۂ نظر سے درست ہو سکتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران کو روایتی جنگ جیتنے کی ضرورت ہی نہیں۔ چاہے وہ فضائی حملے نہ روک پائے، وہ پورے خطے میں ایسے طریقوں سے جوابی کارروائی کر سکتا ہے جن سے واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کو بھاری نقصان پہنچے۔ ایران نے بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور جنگی و خودکش ڈرونز پر خاصی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کے پاس ایسے فوجی اڈوں اور کمرشیل انفراسٹرکچر پر حملہ کرنے کی صلاحیت بھی ہے جو ایران کی سرحدوں سے بہت دور ہوں۔ اس لیے ایک محدود حملہ بھی بڑے تصادم کو جنم دے سکتا ہے، چاہے ابتدائی سوچ تناؤ پر قابو پانے کی ہی کیوں نہ ہو۔

ایران کا انہدام صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا۔ یہ پورے مغربی ایشیا میں پھیل جائے گا۔ ایران دشمنی، مسلح گروہوں، تجارتی راستوں اور توانائی کے نیٹورکس کے ذریعہ اس خطے سے گہرے طور پر جڑا ہوا ہے۔ تقریباً طے ہے کہ اگر امریکہ حملہ کرتا ہے تو ایران اپنے طریقے سے جوابی کارروائی کرے گا۔ اس نے میزائلوں، ڈرونز، پراکسی فورسز اور اسٹریٹجک چیک پوائنٹس پر دباؤ ڈالنے کے ذریعہ جواب دینے کے طریقے تیار کر رکھے ہیں۔


خلیج فارس وہ پہلی جگہ ہوگی جہاں اس کے عالمی اثرات نظر آئیں گے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم آبی راستوں میں سے ہے کیونکہ دنیا کا 20 فیصد تیل اور گیس اسی سے گزرتا ہے۔ بڑی رکاوٹ پیدا کرنے کے لیے ایران کو اسے مکمل طور پر بند کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ جہاز رانی میں معمولی خلل یا میزائل کی دھمکی سے بھی خوف پھیل سکتا ہے۔ اگر منڈیوں کو لگا کہ شپنگ غیر محفوظ ہے تو تیل کی قیمتیں چند ہی دنوں میں بڑھ جائیں گی۔ پہلے ہی معاشی دباؤ جھیل رہا یورپ اس کی گرمی فوراً محسوس کرے گا۔ غریب ممالک کو بھی اس کے اثرات بھگتنے پڑیں گے۔ پھر تو جنگ کا میدان مزید وسیع ہو جائے گا۔ عراق اس کے ابتدائی مراکز میں شامل ہوگا۔ وہاں امریکی فوجیوں اور سفارتی تنصیبات پر ایران نواز ملیشیا کا حملہ ہو سکتا ہے، جس سے عراق ایک بار پھر عدم استحکام اور تشدد کی زد میں آ جائے گا۔ لبنان بھی اس میں گھسیٹا جا سکتا ہے۔ حزب اللہ پر دباؤ ہوگا کہ وہ ایران پر حملہ کا جواب دے۔ شام مزید ایک خطرناک محاذ ہوگا۔ جنگیں ہمیشہ سوچ سمجھ کر بنائے گئے منصوبوں سے نہیں پھیلتیں، اکثر وہ غلط اندازوں، گھبراہٹ اور اچانک جوابی کارروائیوں سے پھیل جاتی ہیں۔

ایران میں عدم استحکام کا براہ راست اثر کرد مسئلہ پر بھی پڑے گا، جس سے امریکہ کے ایک اہم اتحادی ترکی کے لیے نئی سیکورٹی اور سیاسی مشکلات پیدا ہوں گی۔ انقرہ کو طویل عرصہ سے یہ خدشہ رہا ہے کہ ایران کے اندر کمزور ہوتی ریاست کرد دہشت گرد گروہوں کو دوبارہ منظم ہونے، پھیلنے اور ایران-ترکی سرحد پر زیادہ شرارتیں کرنے کا موقع دے سکتی ہے۔ اس کے انسانی اثرات بہت بڑے ہو سکتے ہیں۔ اگر ایران اندرونی طور پر بکھر جاتا ہے یا خانہ جنگی میں پھنس جاتا ہے تو لاکھوں لوگ بے گھر ہو سکتے ہیں۔ پناہ گزین ترکی، عراق، پاکستان اور قفقاز کے خطے کی طرف جا سکتے ہیں۔ یہ سب پہلے ہی معاشی اور سیکورٹی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں اور بڑے پیمانے پر ہجرت کو سنبھالنا ان کے لیے مشکل ہوگا۔ یورپ بھی اس سے محفوظ نہیں رہے گا۔ ہجرت کی سیاست پہلے ہی یورپ کو تقسیم کر چکی ہے، اور ہجرت کی ایک نئی لہر توانائی کے بحران کے ساتھ مل کر مغربی ایشیا کے مقابلے میں کہیں زیادہ عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔


سب سے خطرناک طویل المدت نتیجہ جوہری ہوگا۔ اقتدار کی تبدیلی کے مقصد سے کی گئی جنگ ایران کی قیادت کو شاید اس یقین تک پہنچا دے کہ امریکہ کسی بھی قیمت پر انہیں ختم کرنے پر آمادہ ہے۔ ایسی صورت میں جوہری اسلحہ حاصل کرنے کی ترغیب مزید بڑھ جائے گی۔ اس طرح ایران کو جوہری اسلحہ حاصل کرنے سے روکنے کے لیے کیا گیا فوجی حملہ الٹا ایران کو انہیں مزید تیزی سے حاصل کرنے پر مجبور کر دے گا۔ اس خطے میں کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ایک اسلامی نیٹو بنا کر ایران کو قابو میں کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات بظاہر معقول لگتی ہے، لیکن ایسا اتحاد محض باتوں تک محدود ہے اور اس کا کوئی ٹھوس ڈھانچہ نہیں۔ سنی اکثریتی ممالک کے مفادات آپس میں ٹکراتے ہیں، ان کی ترجیحات مختلف ہیں اور ان کے درمیان حل نہ ہونے والی رقابتیں موجود ہیں۔ کچھ ممالک ایران کو بنیادی خطرہ سمجھتے ہیں، جبکہ دیگر اندرونی عدم استحکام، معاشی بقا یا دیگر جغرافیائی سیاسی حریفوں پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ پاکستان اس لیے اہم ہے کہ وہ ایک جوہری طاقت ہے، لیکن اس کی سلامتی کا اصل مرکز ہندوستان ہے۔ خلیجی بادشاہتیں اگرچہ امریکی تحفظ چاہتی ہیں، لیکن اگر وہ خطے کے نازک استحکام کو بگاڑنے والی کسی جنگ میں براہ راست شامل ہوئیں تو انہیں عوامی سطح پر سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسی لیے فوجی مداخلت کے ذریعہ ایران کو روکنا ایک فریب ہے۔ اس سے یہ جھوٹا اعتماد پیدا ہوتا ہے کہ تناؤ کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ لیکن ایک بار پہلا حملہ ہو جانے کے بعد معاملات ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔ ہر طرف مزید سخت جواب دینے کا دباؤ ہوتا ہے۔ سفارت کاری ہی واحد ذریعہ ہے جو نگرانی اور جانچ پڑتال کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام پر قابل اعتماد اور طویل المدت کنٹرول قائم کر سکتی ہے۔ اس وقت جاری سفارتی بات چیت محض بات چیت کا ایک دور نہیں، یہ بغیر حد بندی کے جنگ کی طرف بڑھنے سے روکنے کا آخری بامعنی موقع بھی ہو سکتا ہے۔ کوئی بھی معاہدہ نامکمل اور متنازع ہو سکتا ہے، لیکن نامکمل سفارت کاری مکمل تباہی سے کہیں بہتر ہے۔

(اشوک سوین سویڈن کی اُپسالا یونیورسٹی میں ’پیس اینڈ کنفلکٹ ریسرچ‘ کے پروفیسر ہیں)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔