میلے سے نجات کا خواہاں والمیکی سماج

گذشتہ مہینے مرکزی سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت نے ایک سروے کے نتائج کو شائع کیا ہے جس کے مطابق ملک میں میلا اٹھانے والی آدھے سے زیادہ آبادی اکیلے اتر پردیش میں ہے۔

انسان چاند پر قدم رکھ چکا ہے، مریخ تک مشن بھیج چکا ہے اور ہر طرف ٹیکنالوجی کا بول بالا ہے لیکن اتنی ترقی کے باوجود والمیکی سماج کی خواتین کی حالت آج بھی شرم ناک ہے۔ انہیں اپنے ہاتھوں سے انسانی میلا صاف کرنا پڑتا ہے۔ زمانہ قدیم میں ہندوستان کے ورن (فرقہ) پر مبنی سماج نے انہیں حاشیہ پر رکھا اور آج مجبوری کے تحت خود ہی سب سے الگ تھلگ نظر آتے ہیں۔

کہنے کو تو والمیکی سماج دلت طبقہ کا ہی ایک حصہ ہے لیکن ان کی صورت حال دلتوں میں بھی بدترین ہے۔ یوں تو میلا ڈھونے کی روایت پر قانونی طور پر پابندی عائد ہے لیکن خاندان چلانے کے لئے مجبوری میں یہ پیشہ اب بھی انہیں نہیں چھوڑتا۔

گذشتہ مہینے مرکزی سماجی انصاف و تفویض اختیارات کی وزارت نے ایک سروے کے نتائج کو شائع کیا ہے جس کے مطابق ملک میں میلا اٹھانے والی آدھے سے زیادہ آبادی اکیلے اترپردیش میں ہے۔ سروے کے مطابق اترپردیش میں 28796 لوگ آج بھی میلا اٹھاتے ہیں۔ والمیکی طبقہ سے وابستہ سماجی کارکن ایڈوکیٹ منوج سودائی کے مطابق یہ تو وہ لوگ ہیں جن کا ریکارڈ موجود ہے، ان کے مطابق میلا ڈھونے والی نصف سے زائد آبادی رجسٹریشن ہی نہیں کراتی۔ یہ اعداد شمار صرف گھروں سے میلا اٹھانے والوں کے ہیں۔

یہ سروے کل 18 ریاستوں میں کیا گیا تھا لیکن اعداد و شمار صرف 12 ریاستوں کے جاری کئے گئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں شامل 600 اضلاع میں سے 121 کی رپورٹ کے مطابق مدھیہ پریش میں 8016 اور راجستھان میں 6643 ایسے لوگوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو میلا ڈھونے پر مجبور ہیں۔ میلا ڈھونے والے سب سے کم لوگ گجرات میں ہیں جہاں صرف 146 لوگوں نے ہی رجسٹریشن کرایا ہے۔

میلا ڈھونے کے پیشہ سے وابستہ زیادہ تر لوگ الگ محلوں میں بسے ہوئے ہیں۔ لوگ ان کے گھر آنے جانے سے گریز کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے بچے بھی متاثر ہوتے ہیں۔

آئیے سماج کے مرکزی حصہ سے الگ تھلگ رہنے والے ان میلا ڈھونے والوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

ہندوستان کی راجدھانی سے محض 165 کلومیٹر دور واقع مظفر نگر کی ایک گلی میں داخل ہونے سے پہلے وہاں گھومتے خنجیر، یہاں وہاں پھیلی گندگی اور بدبو یہ پہچان کرا دیتی کہ یہ والمیکی بستی ہے۔

مظفر نگر کے قصبہ میرانپور کی والمیکی بستی کی نصف درجن سے زیادہ خواتین میلا ڈھونے کا کام کرتی ہیں۔ ان سے بات چیت کر کے یہ معلوم ہواکہ وہ مجبوری میں یہ کام کرتی ہیں۔ کملیش (56) کہتی ہیں، ’’یہ کام کرنا برا تو لگتا ہے لیکن اور کریں بھی کیا! اس کو کر کے روٹی ملی جاتی ہے اور 10-20 روپے بھی۔ جبکہ یہاں کے کئی لوگوں نے میلا ڈھونے کا چھوڑ دیا، ہم بھی چھوڑنا چاہتے ہیں۔‘‘

کچے مکان کے باہر بیٹھے بھوشن (71) کے بیٹے کی حادثہ میں موت ہو چکی ہے، ان کی بیوی بھی فوت ہوچکی ہے۔ بھوشن کا کہنا ہے کہ ’’سیاسی رہنما یہاں صرف چناؤ کے وقت آتے ہیں۔ انہیں بھی فرداً فرداً ملنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، کیوں کہ ہمارے سماج کے کچھ ٹھیکیدار انہیں یہ یقین دہانی کرا دیتے ہیں کی اس بستی میں بدبو اور گندگی کے انبار لگے ہوئے ہیں‘‘۔ وہ مایوسی سے کہتے ہیں کہ یہاں کے لوگوں کی کسی کو پرواہ نہیں ہے۔

بالیش (43) جوکہ 20 سال سے اپنے سر پر رکھ کر میلا ڈھو رہی ہے، اس کا کہنا ہے ’’میلا ڈھونے کا کام ایسا ہے جس کی وجہ سے سب ہمیں حقیر سمجھتے ہیں۔ کوئی دوسرا روزگار مل جائے تو ہم بھی اسے چھوڑ دیں گے۔ ویسے بھی اس کام میں 20-30 روپے کے علاوہ ملتا ہی کیا ہے۔‘‘

میرانپور کے پڑاؤ چوک کی سڑک پار کرتے ہی جیسے ہی والمیکی بستی شروع ہوتی ہے گندگی کا انبار نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس محلے میں تقریباً 40 سالوں سے طبی خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر اسلم قریشی کے صاحبزدے ثابق قریشی کہتے ہیں ’’میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس سماج نے تبدیل ہونے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ لڑکے پڑھتے بھی ہیں تو وہ صفائی ملازم کی نوکری پاکر خوش ہو جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہزاروں سال سے یہ سماج جس احساس کمتری کا شکار رہا ہے اس سے یہ آج تک نکل نہیں پایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی کے اس دور میں بھی اس محلہ میں کئی مثبت تبدیلی نظر نہیں آتی۔‘‘

تقریباً 400 افراد کی اس بستی میں کوئی اسکول نہیں ہے اور علاج کا بھی کوئی مرکز موجود نہیں ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہوا ہے کہ اب کچھ گلیاں پکی بن گئی ہیں۔ زیادہ تر لڑکیاں 8 ویں یا 10 ویں کلاس کے بعد اکثر پڑھائی چھوڑ دیتی ہیں۔

والمیکی سماج سے وابستہ امت ہانڈا (32) کہتے ہیں ’’ہمارے سماج میں احساس کمتری کی اصل وجہ وہ تفریق ہے جو آج بھی ہم سے کی جاتی ہے۔ لوگ اگر ہماری ذات کے بارے میں جان جاتے ہیں تو ان کا رویہ اچانک تبدیل ہو جاتا ہے اور کچھ خاص طبقات کے بچے تو اسکول میں ہم سے بات بھی کرنا پسند نہیں کرتے۔‘‘ امت مزید کہتے ہیں ’’ہم ایک مشکل پہچان کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ‘‘

المیہ یہ ہے کہ والمیکی سماج کے زیادہ تر مرد کام نہیں کرتے۔ نام شائع نہ کرنے کی یقین دہانی پر ایک خاتون کہتی ہیں کہ ’’والمیکی طبقہ سے وابستہ زیادہ تر لوگ ناخواندہ ہیں اور خواتین کام کرتی ہیں۔ اس سے آپ ان کی آمدنی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ دیگر سہولیات تو بہت دور کی بات، ہمیں لوگ انسان ہی سمجھ لیں یہی کافی ہے۔‘‘

پچھلے دنوں والمیکی رہنما اور اترپردیش حکومت سے وزیر کا درجہ حاصل لال جی نرمل نے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے ملاقات کر کے میلاڈ ھونے والوں کے خاندان کے کسی شخص کو نوکری دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ ملاقات کے بعد لال جی نرمل نے میڈیا میں بیان دیا تھا کہ وزیراعلیٰ نے ان کے مطالبات ماننے کا بھروسہ دیا ہے۔ لیکن ان کی باتوں پر ابھی تک عمل ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔

والمیکیوں کے مقامی رہنما سنیل چنچل کہتے ہیں کہ سماج میں غیرمساوات بہت زیادہ ہے۔ ایک خاندان کے تو چار چار لوگ نوکری پا جاتے ہیں اور دوسرے کے کھانے کے بھی لالے ہیں۔ سبھی کا خیال رکھا جانا چاہئے۔

نگر پنچایت کے سابق ممبر سنیل بھارتی کہتے ہیں ’’بے روزگاری انہیں یہ سب کرنے کے لئے مجبور کر رہی ہے۔ انہیں روزگار کے مواقع دیئے جائیں یا پھر کاروبار کرنے کے لئے مالی امداد دی جائے، جبھی ان کی حالت تبدیل ہو سکے گی۔‘‘

سب سے زیادہ مقبول