پاکستان کے حکمرانوں کا حشر اور عمران خان کا مستقبل...سہیل انجم

عمران خان سے متعلق افواہوں نے پاکستان میں سیاسی بے چینی بڑھا دی ہے۔ فوجی اثر و رسوخ، وزرائے اعظم کی برطرفی اور قتل کی تاریخ کے پس منظر میں تازہ کشیدگی مستقبل کو مزید غیر یقینی بنا رہی ہے

<div class="paragraphs"><p>عمران خان / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

سہیل انجم

جس وقت آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے ممکن ہے پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے بارے میں سرکاری طور پر وضاحت آ چکی ہو۔ اب جبکہ یہ کالم لکھا جا رہا ہے پاکستان میں یہ افواہ گشت کر رہی ہے کہ عمران خان کو قتل کر دیا گیا ہے۔ ان کی بہن نورین نیازی اور ان کے بیٹے قاسم نے ان کی خیریت کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ان کی بہنیں گزشتہ دنوں ان سے ملنے جا رہی تھیں لیکن انتظامیہ نے ان کو ملنے نہیں دیا۔ بعض نیوز ویب سائٹوں نے بھی عمران خان کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ اسی اثنا میں اڈیالہ جیل کے، جہاں عمران خان کو رکھا گیا ہے اور حکومت کے ذرائع نے بتایا ہے کہ عمران خان خیریت سے ہیں۔

راولپنڈی میں واقع اڈیالہ جیل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان جیل میں محفوظ اور صحت مند ہیں۔ جیل ذرائع کے مطابق ہفتہ میں ایک بار عمران خان سے ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ملاقات بھی کروائی جاتی ہے۔ اڈیالہ جیل میں ایک بیرک کے چھ کمرے عمران خان کے زیر استعمال ہیں۔ ان کو ٹی وی اور اخبارات کی سہولت موجود ہے۔ ان کو ہفتہ میں ایک بار باہر سے کھانا منگوانے کی اجازت ہے۔ باہر سے دیسی مرغی اور مچھلی منگوائی جاتی ہے۔ ان سے ملاقاتیں جیل مینوئیل کے مطابق کروائی جاتی ہیں۔ جیل کی حدود میں آنے والے ہر شخص کی ملاقات کروائی جاتی ہے۔ جیل کی حدود سے باہر کے معاملے کی جیل انتظامیہ ذمہ دار نہیں۔

اگر عمران خان کے بارے میں افواہیں درست ثابت ہوتی ہیں اور واقعی ان کے ساتھ کچھ ہو جاتا ہے تو پاکستان کی تاریخ میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی۔ وہاں کے حکمرانوں کی قسمت یا تو جیل رہی ہے یا قتل اور پھانسی۔ وہاں کی تاریخ کا یہ بھی ایک حصہ ہے کہ وہاں کے وزرائے اعظم اپنی مدت حکومت پوری نہیں کر پاتے۔ کسی کو آئینی ترمیم کے ذریعہ برطرف کیا جاتا ہے تو کسی کو فوجی حکمرانوں کی بغاوت کے ذریعے۔ کسی کو صدر نے برطرف کر دیا تو کسی کو کسی اور وجہ سے ہٹایا گیا۔ غرض یہ کہ وہاں کا کوئی بھی وزیر اعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکا۔

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خاں، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور جنرل ضیاء الحق کا قتل کیا گیا۔ لیاقت علی خاں کو 1951میں، بھٹو کو 1979 میں، ضیاء الحق کو 1988 میں اور بے نظیر بھٹو کو 2007 میں قتل کیا گیا۔ لیاقت علی خاں کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں ایک افغان شہری نے گولی ماری تھی۔ اس کے بعد اس باغ کا نام لیاقت باغ رکھ دیا گیا۔ 55 سال بعد بے نظیر بھٹو کو اسی باغ میں ہلاک کیا گیا لیکن لیاقت علی کے قتل کا راز ابھی تک فاش نہیں ہو سکا۔


پاکستان کی یہ بھی تاریخ رہی ہے کہ جس حکمراں نے جس افسر کو ترقی دی اسی نے اس کا کھیل ختم کیا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے صدر اور بعد میں وزیر اعظم ہوئے تو ضیاء الحق ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے۔ بعد میں بھٹو نے ان کو کئی سینئر افسران کو نظرانداز کر کے چیف آف آرمی اسٹاف بنا دیا۔ لیکن ہوا یہ کہ قتل کے ایک کیس میں ضیاء الحق نے ان کو جیل میں بند کر دیا اور پھر ان کے خلاف مقدمہ چلا اور انھیں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ اس طرح ایک محسن ہی ان کی موت کا سامان بنا۔ ایسی افواہیں تھیں کہ امریکہ کے اشارے پر بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ لیکن جب جنرل ضیاء امریکہ کے کام کے نہیں رہے تو انھیں ایک فضائی حادثے میں مار دیا گیا۔ حالانکہ اس طیارے میں پاکستان اور امریکہ کے کئی سینئر فوجی افسران بھی تھے۔

بعد میں کئی وزرائے اعظم ہوئے اور سب اپنی تھوڑی تھوڑی مدت گزار کر برطرف کر دیے گئے۔ بے نظیر بھٹو دو بار وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئیں۔ انھیں خاتون مشرق کہا جاتا تھا۔ لیکن ایک جلسے میں انھیں بھی گولی مار دی گئی۔ فوجی بغاوت سب سے پہلے فیلڈ مارشل ایوب خان نے کی۔ ان کے بعد جنرل یحیٰ خان صدر ہوئے اور انہیں کے دور میں پاکستان کی 99 ہزار نفری پر مشتمل فوج نے شکست کھانے کے بعد ہندوستان کے جنرل مانک شا کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے۔ پھر جنرل ضیاء نے فوجی بغاوت کی اور بھٹو کا تختہ پلٹا۔ آگے چل کر جنرل پرویز مشرف نے غیر خونی انقلاب کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا۔

اس درمیان میاں نواز شریف دو بار پاکستان کے وزیر اعظم ہوئے۔ لیکن دوسری مدت میں فوج سے ان کی نہیں بنی اور انھیں جلا وطن کرکے سعودی عرب بھیج دیا گیا۔ اب وہ وہاں سے آئے ہیں لیکن انھوں نے الیکشن لڑنے اور سرگرم سیاست میں آنے سے انکار دیا۔ ان کے چھوٹے بھائی اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ لیکن ان سے پہلے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔ شروع میں عمران خان کے رشتے وہاں کی فوج سے بہت اچھے رہے۔ لیکن بعد میں خراب ہو گئے اور جنرل باجوا کے زمانے میں انھیں پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک لا کر اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ عمران خان نے امریکہ پر الزام لگایا کہ چونکہ ان کی پالیسیاں امریکہ کے خلاف تھیں اس لیے امریکہ ان کا دشمن ہو گیا۔

عمران خان نے برسراقتدار آتے ہی پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ انھوں نے سعودی عرب اور دیگر ملکوں کے دورے کیے اور پاکستان کے لیے مالی تعاون اور قرضوں کا انتظام کیا۔ اقتدار میں آنے کے فوراً بعد انھوں نے ”ریاستِ مدینہ“ قائم کرنے کا اعلان کیا اور گورنر ہاوس اور پرائم منسٹر ہاوس کو فالتو اخراجات سے پاک کرنے کے عزم کا بھی اعلان کیا۔ جس کی وجہ سے عوام میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ لیکن پھر ان پر اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر کرپشن کے الزامات لگائے گئے۔ اور اس طرح انھیں برطرف کر دیا گیا۔ جب پارلیمانی الیکشن ہوا تو خبروں کے مطابق عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی کو زیادہ سیٹیں ملیں لیکن بدعنوانی کر کے ان کی پارٹی کو برسراقتدار آنے سے روک دیا گیا اور ن لیگ کے شہباز شریف کو وزیر اعظم بنایا گیا۔


شہباز شریف نے بھی پاکستانی معیشت کو بہتر بنانے کی کوشش کی اور کئی ملکوں کے دورے کرکے مالی تعاون اور قرضوں کا انتظام کیا۔ انھوں نے امریکہ کے بھی دورے کیے۔ ادھر جب جنرل باجوا کی مدت ختم ہوئی جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف بنایا گیا تو عمران خان کے خلاف کارروائیاں تیز ہو گئیں۔ عاصم منیر کو آئینی ترمیم کے ذریعے پاکستان کا فیلڈ مارشل بنا دیا گیا۔ انھوں نے اس دوران امریکہ کا کئی بار دورہ کیا اور عمران کے زمانے میں امریکہ کے ساتھ تعلقات میں جو خرابی پیدا ہوئی تھی اس کو نہ صرف دور کیا بلکہ باہمی رشتے کافی مضبوط ہو گئے۔ یہاں تک کہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جھکاؤ ایک وقت میں ہندوستان کے بجائے پاکستان کی جانب ہو گیا۔

جب عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم تھے تو عاصم منیر آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل تھے۔ ان کی عمران خان سے نہیں بنتی تھی لہٰذا عمران نے انھیں برطرف کر دیا تھا۔ ادھر جب عاصم منیر کو موقع ملا تو انھوں نے عمران کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع کر دیں۔ نوبت اب یہاں تک آپہنچی ہے کہ عمران کے بارے میں تادم تحریر کوئی خیر خبر نہیں ہے۔

دراصل پاکستان میں جمہوریت کبھی مضبوط نہیں رہی۔ وہاں اقتدار پر ہمیشہ فوج کا غلبہ رہا۔ جس کی فوج سے بنی وہ حکومت کرتا رہا جس کی نہیں بنی اس کی یا تو حکومت ختم ہو گئی یا وہ انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنا۔ ہندوستان اور پاکستان ایک ساتھ آزاد ہوئے۔ ہندوستان میں جمہوریت کی جڑیں بہت گہری ہو گئیں جس کا سہرا پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے سر جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اب اسے کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں حکومت کی باگ ڈور درپردہ فوج کے ہاتھوں میں رہی جبکہ ہندوستان میں فوج ہمیشہ غیر سیاسی رہی۔ پاکستان میں چار حکمراں ہلاک کیے گئے اور ہندوستان میں دو۔ یعنی اندرا گاندھی کو ان کے محافظوں نے گولی ماری اور ان کے بیٹے اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کو تمل دہشت گردوں سے ہلاک کیا۔

ہندوستان میں 15 وزرائے اعظم ہوئے جبکہ پاکستان میں 22 حکمراں ہوئے۔ جن میں کچھ وزرائے اعظم رہے، کچھ صدر بن کر حکومت کرتے رہے اور کچھ نے فوجی سربراہ بن کر حکومت کی۔ اس کے علاوہ کئی کیئر ٹیکر یا نگراں وزرائے اعظم بھی ہوئے۔ فی الحال عمران خان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ ان کا حشر کیا ہوگا کہا نہیں جا سکتا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔