پاکستانی فوج جمہوریت ہی نہیں ملک کے اتحاد سے بھی کھلواڑ کر رہی ہے... عبید اللہ ناصر

پاکستان کی یہ سب سے بڑی بدنصیبی رہی ہے کہ وہاں کی فوج نے وہاں کبھی جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا، اقتدار پر اس کی ہمیشہ آکٹوپس جیسی گرفت رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر&nbsp;<a href="https://twitter.com/arifaajakia">@arifaajakia</a></p></div>

تصویر@arifaajakia

user

عبیداللہ ناصر

پاکستان کی قومی اسمبلی (پارلیمنٹ) کے انتخابات کے نتائج سامنے آ گئے ہیں اور وہاں معلق پارلیمنٹ تشکیل ہوئی ہے۔ ویسے تو انتخابی میدان میں متعدد پارٹیاں زور آزمائی کر رہی تھیں لیکن اصل مقابلہ دو افراد یا دو پارٹیوں کے درمیان تھا۔ ان میں ایک پارٹی یعنی فوج ہر لحاظ سے مسلح تھی اور حسب روایت در پردہ سیاسی کھیل کھیل رہی تھی، جبکہ دوسری پارٹی یعنی عمران خان کے ہاتھ پیر باندھ کر انھیں دریا میں پیرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا۔ مگر حیرت انگیز طور پر پاکستان کے اس سابق وزیر اعظم اور پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان نے انتخابی میدان میں فوج سمیت اپنے سبھی حریفوں کو دھول چٹا دی۔

عمران خان پر عجب عجب الزامات لگا کر جیل میں بند کر دیا گیا تھا۔ ان کی پارٹی کو الیکشن کمیشن نے نامنظوری دے دی تھی اور پارٹی کے کئی سینئر لیڈران بھی جیل میں ٹھونس دیے گئے تھے۔ یہی نہیں عمران خان سمیت ان پر چناؤ لڑنے پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔ بحالت مجبوری عمران خان نے اپنے امیدواروں کو آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا اور سب نے کرکٹ کے بلے کو انتخابی نشان بنا کر قسمت آزمائی کی۔ یہی نہیں، پاکستانی میڈیا اور آزاد مشاہدین کے مطابق فوج کے دباؤ میں الیکشن کمیشن نے گنتی کے دوران بھی عمران کے امیدواروں کو ہرانے کی بھرپور کوشش کی۔ ان سب کے باوجود ان کے 101 امیدوار جیتے، جبکہ فوج کی نظر عنایت والے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پارٹی مسلم لیگ (ن ) کو 73، مرحوم ذولفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی کو 54، مہاجر قومی موومنٹ کو 17 اور دیگر کو 12 سیٹیں ملی ہیں۔ عمران خان کی پارٹی نے نہ صرف ان کی آبائی ریاست خیبر پختونخوا میں کلین سویپ کیا بلکہ پنجاب میں بھی زبردست کامیابی حاصل کر کے فوج کو ایک طرح سے منھ چڑھا دیا ہے، کیونکہ پاکستانی فوج میں پنجابیوں کی ہی اکثریت ہے اور نواز شریف خود بھی پنجابی ہیں۔


پاکستان کی یہ سب سے بڑی بدنصیبی رہی ہے کہ وہاں کی فوج نے وہاں کبھی جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا۔ اقتدار پر اس کی ہمیشہ آکٹوپس جیسی گرفت رہی ہے جس کا سلسلہ جنرل ایوب خان کے زمانہ سے شروع ہوا تھا۔ بیچ میں ذوالفقار علی بھٹو نے اس گرفت کو توڑنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ملک کو ایک آئین بھی دیا جس کے رو سے اقتدار اور وسائل پر سے فوجی جاگیرداروں اور وڈیروں کی گرفت کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہاں تک کہ منتخب حکومت کا تختہ پلٹ کرنے کی سزا پھانسی رکھی گئی، مگر وہ خود ایک غلط شخص کے انتخاب کا شکار ہو گئے۔ انہوں نے ایک یس مین (جی حضور) ٹائپ کے جنرل ضیاء الحق کو متعدد سینئر جنرلوں کو نظر انداز کر کے فوج کا سربراہ بنا دیا۔ انتخابی بدعنوانی کے نام پر جب بھٹو کے خلاف پاکستان میں شورش شروع ہوئی تو اس نے موقعہ غنیمت دیکھتے ہوئے بھٹو کی حکومت کا تختہ ہی نہیں پلٹا بلکہ قتل کے ایک مقدمہ میں ماخوذ کر کے انھیں پھانسی کے پھندہ پر بھی لٹکا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس میں امریکہ کا اشارہ بھی شامل تھا کیونکہ بھٹو نے اس کی مرضی کے خلاف دو کام کیے تھے۔ اول پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی تیاری، دوسرے اسرائیل کے خلاف مسلم ملکوں کو متحد کرنا۔

جنرل ضیاء نے دس سال تک پاکستان پر آہنی گرفت کے ساتھ حکومت کی۔ اس درمیان انہوں مذہب اور سیاست کا ایسا گھال میل تیار کیا کہ پاکستان دہشت گردوں کی آماجگاہ اور منبہ بن گیا، جس کی قیمت آج بھی نہ صرف پاکستان ادا کر رہا ہے بلکہ جو دنیا بھر میں مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کی بھی وجہ بن گیا۔ ضیاء کے ہوائی حادثہ میں انتقال کے بعد پاکستان میں جمہوریت کی کونپل پھر پھوٹی، مگر در پردہ فوج کا ہی کھیل جاری رہا۔ اس نے بے نظیر بھٹو کے مقابلہ میں نواز شریف کو بڑھانا شروع کیا۔ بہت دنوں تک نواز شریف پاکستانی فوج کے پروردہ رہے، لیکن پھر جنرل پرویز مشرف سے ان کی ٹھن گئی۔ مشرف نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور شریف کو جلا وطن کر دیا گیا۔ اس کے بعد عمران خان نے فوج کو بیرکوں میں محدود کرنے کی کوشش کی اور ان کا بھی انجام سامنے ہے۔


شرمناک بات یہ ہے کہ پاکستان کے سیاست داں اپنے سیاسی مفاد کے لیے حسب ضرورت فوج کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ جو جمہوریت انھیں ایوان اقتدار میں پہنچاتی ہے اسی کی جڑ کھودنے کے کے لیے فوج کی مدد لیتے ہیں۔ پاکستانی عوام کا بھی ایک طبقہ خاص کر پنجابی اسے ہندوستان کے خلاف اپنا محافظ مانتے ہیں۔ حالانکہ بنگلہ دیش بننے سے لے کر آج تک اس نے ان کی کتنی حفاظت کی ہے، یہ کوئی پوشیدہ بات تو ہے نہیں۔ وہ صرف اپنے ہی عوام پر بربریت کرنے میں بہت بہادر ہے جس کا تجربہ بنگالی بھی کر چکے ہیں اور بلوچ بھی۔ مگر فوج عدلیہ انتظامیہ وغیرہ کا مرکب، جسے پاکستانیوں کی زبان میں اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے، وہ سب مل کر جمہوریت کا گلا گھونٹتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، اس وقت پاکستان کی سیاست میں دو کھلاڑیوں کے بیچ مقابلہ آرائی ہے۔ ایک طرف فوج کے سربراہ جنرل عاصم وقار ہیں تو دوسری طرف معتوب اور معزول وزیر اعظم عمران خان ہیں۔ ان کے حمایت یافتہ ارکان پارلیمنٹ کی تعداد 101 ہے۔ خیال ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ بھی ان کی حمایت کر سکتا ہے جس کے کامیاب امیدواروں کی تعداد 17 ہے۔ اس طرح ان کے پاس 118 ممبران ہو جائیں گے۔ جبکہ حکومت سازی کے لیے 122 ممبروں کی ضرورت ہوگی۔ لیکن کھیل ابھی باقی ہے۔ پاکستان کے آئین کے مطابق 342 رکنی قومی اسمبلی میں 242 سیٹوں پر انتخاب ہوتا ہے اور 100 سیٹیں ریزرو ہیں، جن میں 60 سیٹیں خواتین کے لیے اور 10 سیٹیں اقلیتوں کے لیے محفوظ ہیں۔ خواتین کی مخصوص سیٹیں ریاستوں کے حساب سے پارٹیوں کے حاصل شدہ ووٹوں میں تناسب کے حساب سے دی جاتی ہیں، اور وہی پارٹی خاتوں ممبر نامزد کر سکتی ہے جسے 5 فیصد ووٹ ملے ہوں۔ چونکہ عمران خان کی کوئی پارٹی نہیں تھی، اس لیے وہ خاتون اور اقلیتی ممبر نہیں نامزد کر سکیں گے۔ اب وہ کسی پارٹی سے کوئی سمجھوتہ کرتے ہیں اور فوج سمیت اسٹبلشمنٹ انھیں کچھ کرنے دے گا یہ دیکھنے کی بات ہوگی۔ ادھر جنرل عاصم وقار نواز شریف اور بھٹو فیملی میں مفاہمت کرا کے نئی حکومت بنوانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ جب ساری خدائی ایک طرف ہو تو جیل میں بند ایک معتوب اور معزول شخص کیا کر سکتا ہے۔ اس لیے امید یہی ہے کہ پاکستان میں فوج کی چھتر چھایا میں نواز شریف کی ہی حکومت بنے گی۔


پاکستان کے سیاسی مبصرین اور سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان میں 70 کی دہائی کے واقعات دوہرائے جا رہے ہیں اور فوج وہی غلطی کر رہی ہے جو جنرل یحییٰ خان نے کی تھی۔ اس وقت ہوئے عام انتخابات میں مشرقی پاکستان میں ہی نہیں مغربی پاکستان میں بھی کئی سیٹیں جیت کر شیخ مجیب نے اکثریت حاصل کی تھی۔ انہیں حلف برداری کے لیے مدعو بھی کر لیا گیا تھا، لیکن بھٹو نے یحییٰ خان کے ساتھ مل کر عین حلف برداری سے قبل انھیں وزیر اعظم کا عہدہ دینے سے انکار کر دیا۔ اس سے وہ اور پورا مشرقی پاکستان بھڑک اٹھا جس کا انجام مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کی شکل میں سامنے آیا تھا۔ آج پھر فوج اپنا وہی گھناؤنہ کھیل کھیل رہی ہے جس سے بلوچیوں کا بھڑکنا لازمی ہے۔ ویسے بھی وہاں علاحدگی کی تحریک بھڑکتی ہی رہتی ہے۔ پاکستانی فوج ایک بار پھر ملک کے اتحاد اور علاقائی سالمیت کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔