فکر و خیالات

لوک سبھا میں کیوں کم ہوتی چلی گئی مسلم نمائندگی؟

اقتدار میں حصہ داری کی بات تو چھوڑیں انتہا پسند آج اس قدر حوصلہ مند ہو گئے ہیں کہ وہ مسلمانوں سے ’پاک‘ سیاست کی بات کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے، کیا یہ رجحان ہندوستانی آئین کے خلاف نہیں ہے؟

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

سن 1947 میں ہندوستان کو آزادی کا سورج دیکھنا نصیب ہوا لیکن اس کے بعد ملک کے معماروں نے اپنے آئین کی تخلیق شروع کی۔ ہندوستان کے ہر شہری کو برابری کا درجہ دیا گیا اور رنگ، نسل، زبان یا مذہب کسی بھی طرح کی تقریق کو غیر قانونی بنا دیا گیا۔ تمام مذاہب کے لوگوں کو ملک میں برابر کے حقوق حاصل ہیں اور سیاسی طور پر کسی بھی مذہب کا شخص تمام مذاہب کے لوگوں کی نمائندگی کر سکتا ہے۔ لیکن ایسا کیا ہوا کہ مسلمانوں کی نمائندگی لوک سبھا میں لگاتار کم ہوتی چلی گئی؟

اس تعلق سے ’دی پرنٹ‘ میں ابھے کمار کی ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سال 1958 کے بعد آج مسلمانوں کی نمائندگی لوک سبھا میں سب سے کم ہے اور جس طرح سے مسلمانوں کو سیاسی طور پر اچھوت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ آئین کی رو ح کے خلاف ہے۔

رپورٹ کے مطابق کل 543 ارکان پر مشتمل لوک سبھا میں آج مسلمانوں کی تعداد صرف 19 رہ گئی ہے جو 14 فیصد مسلم آبادی کے اعتبار سے محض 3 فیصد سے ذرا سی زیادہ ہے۔ اگر مسلمانوں کی تعداد کے تناسب سے نمائدگی کی بات کریں تو مسلمانوں کو لوک سبھا میں کل 75 سیٹیں ملنے چاہئیں۔

اقتدار میں حصہ داری کی بات تو چھوڑیں انتہا پسند آج اس قدر حوصلہ مند ہو گئے ہیں کہ وہ مسلمانوں سے ’پاک‘ سیاست کی بات کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے، کیا یہ رجحان ہندوستانی آئین کے خلاف نہیں ہے؟

اپنی رپورٹ میں ابھے کمار لکھتے ہیں کہ جس طرح سے مسلمانوں کو سیاسی اعتبار سے اچھوت بنایا جارہا ہے اس کا تعلق مسلمانوں سے نہیں ہے بلکہ ہندوستانی جمہوریت سے ہے۔ جو سوال آج اٹھ رہے ہیں وہ آئین کے ستون، سماجی انصاف، سیکولرازم اور اقلیتوں کے حقوق سے بھی وابستہ ہیں۔ ساتھ ہی سوال کثیر جہتی ثقافت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے تانہ بانہ سے بھی تعلق رکھتا ہے۔

اترپردیش میں جب گزشتہ اسمبلی انتخابات ہوئے تو ایک افسوسناک بات منظر عام پر آئی۔ صوبہ کی 4 کروڑ مسلم آبادی میں سے کسی ایک رہنما کو بھی بی جے پی نے ٹکٹ کے لائق نہیں سمجھا۔ اسی قدم کو نہ صرف جائز قرار دیا گیا بلکہ بی جے پی کے کٹر رہنماؤں نے یہاں تک کہہ دیا کہ جب مسلمان ان کی پارٹی کو ووٹ ہی نہیں دیتے تو ان کو ٹکٹ کس بات کا دیا جائے!

ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اس طرح کے سوال تمام عمر اٹھاتے رہے۔ اقلیتی طبقہ کی حق تلفی کرنے کو وہ جمہوری نظریات کے خلاف مانتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک محروم طبقہ کے لوگ پارلیمنٹ اور دیگر اداروں میں نہیں پہنچ جاتے اس وقت تک حکمران طبقہ ان کے مفادات پر ڈاکہ ڈالتے رہیں گے۔ افسوس کا مقام ہے کہ امبیڈکر کے ان خیالات کو آج فراموش کر دیا گیا ہے اور سیاسی جماعتیں مسلمانوں کی حصہ داری کے سوال کو بے ایمانی سے نظر انداز کر رہی ہیں۔

رپورٹ میں مسلمانوں کی گرتی ہوئی نمائندگی کی ایک وجہ ’فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ سسٹم‘ کو بھی بتائی گئی ہے۔ ہندوستان کے انتخابات میں یہی نظام رائج ہے جس میں فتحیاب امیدوار کو اکثریتی ووٹ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اپنے نزدیکی امیدوار سے وہ اگر ایک ووٹ بھی زیادہ حاصل کرلیتا ہے تو اسے فتحیاب قرار دے دیا جاتا ہے۔

یہ ہندوستان کے موجودہ انتخابی نظام کی خامی کا ہی نتیجہ ہے کہ 2014 کے انتخابات میں بی ایس پی نے اتر پردیش میں 19.6 فیصد ووٹ حاصل کیے لیکن اسے ایک بھی سیٹ حاصل نہیں ہو سکی۔

اس خامی کو دور کرنے کے لئے کچھ لوگوں نے صلاح دی ہے کہ پارٹیوں کو ووٹ شیئر کے مطابق سیٹیں دی جانی چاہیے۔ جبکہ کچھ لوگوں نے ایس سی، ایس ٹی کی طرح مسلمانوں کے لئے بھی سیٹیں مختص کرنے کی وکالت کی ہے۔ اس کے علاوہ مسلم اکثریتی سیٹ کو ایس سی کے لئے مختص کرنے کی بھی مخالفت کی جا رہی ہے کیوں ایسی سیٹوں پر مسلمان چناؤ لڑ ہی نہیں سکتے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمانوں میں بھی فرقے موجود ہیں اس لئے انہیں متحد کس طرح کیا جا سکتا ہے؟ لیکن اس امر کا اعتراف کر لینے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ مسلمانوں سے جو بھید بھاؤ کیا جارہا ہے اسے بھلا دیا جائے۔ انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ ان کے اندر جو تفریق موجود ہے اسے بھی مد نظر رکھا جائے اور کوٹے کے اندر کوٹہ بنا کر اس سوال کا حل نکالا جائے۔

کچھ لوگ مسلمانوں کی اپنی قیادت کی دلیل دیتے ہیں لیکن جمعیۃ علما ہند اس کے خلاف ہے۔ جمعیۃ کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو سیکولر قوتوں کے ساتھ مل کر ہی فرقہ پرست قوتوں کو ہرانا چاہیے اور خود کی پارٹی بنانے سے بچنا چاہیے۔ جمعیۃ کا خیال ہے کہ مسلم سیاست کرنے کے بعد تو فرقہ پرستوں کو اور موقع ملے گا کہ وہ ہندو سیاست کو زور شور سے آگے بڑھائیں۔

آخر میں بابا صاحت امبیڈکر کا یہ قول یادلانا ضروری ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ محروم طبقات کے مفاد کا خیال رکھے بغیر کسی بھی جمہوریت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ سماج میں محروم طبقات کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔

(یہ رپورٹ بنیادی طور پر ’دی پرنٹ‘ ویب سائٹ پر ہندی میں شائع ہو چکی ہے)