ایک خدا، ایک انسان، ایک دین... ایف اے مجیب
مذہبی تاریخ کا تنقیدی جائزہ یہ واضح کرتا ہے کہ فکری انتشار کی بڑی وجہ خود دین نہیں بلکہ انسانی تعبیرات، سیاسی مفادات اور مذہبی اجارہ داریاں رہی ہیں۔

انسانی تاریخ کے طویل سفر میں تین سوال ایسے ہیں جو ہر دور، ہر تہذیب اور ہر زبان میں بار بار اٹھتے رہے ہیں: اس کائنات کا خالق کون ہے؟ انسان کی اصل کیا ہے؟ اور زندگی گزارنے کا صحیح راستہ کون سا ہے؟ انہی سوالات نے مذہب، اخلاق اور تہذیب کی بنیاد رکھی۔ حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے مختلف مذاہب، بظاہر اختلافات کے باوجود، ان بنیادی سوالات کے جواب میں ایک گہری فکری مماثلت رکھتے ہیں۔ یہی مماثلت ’ایک خدا، ایک انسان، ایک دین‘ کے تصور کو محض مذہبی دعویٰ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ تحقیقی حقیقت بناتی ہے۔
تمام بڑے مذاہب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ کائنات کسی اندھے اتفاق کا نتیجہ نہیں۔ اسلام اللہ کی وحدانیت کو مرکزِ ایمان قرار دیتا ہے۔ یہودیت میں خدا واحد، مختارِ کُل اور حاکمِ مطلق ہے۔ عیسائیت میں اگرچہ تثلیث کا عقیدہ موجود ہے، تاہم بائبل میں خدا کی یکتائی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ہندو مذہب کو عموماً کثرتِ معبودان (Polytheism) کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، لیکن اگر اس کی فکری، فلسفیانہ اور ویدک بنیادوں کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہندو دھرم میں ایک اعلیٰ، واحد اور مطلق حقیقت کا تصور نہایت واضح اور گہرا ہے۔ اسی طرح قدیم تہذیبوں میں بھی ایک اعلیٰ اور سب سے بڑی قوت کا تصور ضرور ملتا ہے۔ نام، علامات اور تعبیرات بدلتی رہیں، مگر تصور یہی رہا کہ حاکم ایک ہے۔ نظمِ کائنات، اس کی ہم آہنگی اور قوانینِ فطرت بھی اسی وحدت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
انسان کے بارے میں مذہبی اور تاریخی بیانیے بھی غیر معمولی حد تک ہم آہنگ ہیں۔ ابراہیمی مذاہب انسان کو ایک ہی اصل (حضرت آدم) سے جوڑتے ہیں۔ قرآنِ مجید انسان کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا شدہ قرار دے کر انسانی مساوات اور مشترک نسب کی بنیاد رکھتا ہے۔ یہودیت اور عیسائیت میں بھی آدم و حوا کو پہلے انسان مانا گیا ہے، اگرچہ اخلاقی تعبیرات میں فرق نظر آتا ہے۔ غیر ابراہیمی مذاہب میں آدم کا نام نہیں ملتا، مگر منو، گیومرت یا کسی اولین انسان کا تصور ضرور موجود ہے۔ ہندو مت میں ’منو‘ کو پہلا انسان اور قانون ساز مانا جاتا ہے۔ ہندو مذہب میں پہلے انسان کے بارے میں تصور ایک ہی متن تک محدود نہیں بلکہ مختلف ویدک، برہمنک اور پورانک صحائف میں علامتی، کائناتی اور تاریخی انداز میں بیان ہوا ہے۔ ہندو مذہبی روایات کے مطابق منوؑ کو پہلا انسان اور تمام انسانوں کا جدِّ امجد مانا جاتا ہے۔ زرتشتی مذہب ’گیومرت‘ کو انسانی نسل کی بنیاد قرار دیتا ہے۔ بدھ مت انسان کی ابتدا کے سوال کو ثانوی حیثیت دیتا ہے، مگر اخلاقی ذمہ داری اور جواب دہی کو مرکزی مقام دیتا ہے۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جدید سائنسی تحقیق، بالخصوص جینیات، بھی انسانی نسل کے مشترک آغاز (Common Ancestry) کی تصدیق کرتی ہے۔ یوں مذہب اور سائنس ایک بنیادی نکتے پر آ کر ملتے ہیں: انسان رنگ، نسل، زبان اور جغرافیے کے فرق کے باوجود ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ حقیقت انسانوں کے درمیان تفریق کی فکری بنیاد کو کمزور اور مساوات کے تصور کو مضبوط کرتی ہے۔
یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے کہ اگر خدا ایک ہے اور انسان ایک ہے تو مذاہب اتنے مختلف کیوں نظر آتے ہیں؟ تحقیقی مطالعہ بتاتا ہے کہ دین اپنی اصل میں ایک ہی رہا ہے– یعنی خدا کی اطاعت، اخلاقی ذمہ داری، عدل، سچائی اور جواب دہی کا نظام۔ فرق شریعتوں، رسوم اور تاریخی حالات میں آیا، نہ کہ دین کی روح میں۔ قرآن اسی حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک دین ایک ہی ہے۔ تمام انبیاء نے بنیادی طور پر ایک ہی پیغام دیا: توحید، اخلاق اور انسانی ذمہ داری۔
مذہبی تاریخ کا تنقیدی جائزہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ فکری انتشار کی بڑی وجہ خود دین نہیں بلکہ انسانی تعبیرات، سیاسی مفادات اور مذہبی اجارہ داریاں رہی ہیں۔ جب دین کو طاقت، شناخت یا برتری کے آلے کے طور پر استعمال کیا گیا تو وحدت کا پیغام تقسیم میں بدل گیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مذہب پر اعتراضات جنم لیتے ہیں، حالانکہ مسئلہ دین نہیں بلکہ اس کا انسانی استعمال ہوتا ہے۔
اکیسویں صدی کی دنیا، جو سائنسی اور تکنیکی ترقی کے باوجود شدید اخلاقی بحران سے دو چار ہے، ایک بار پھر انہی بنیادی سوالات کی طرف لوٹ رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی جنگیں، نسلی نفرت، مذہبی تعصب اور اخلاقی خلا اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ انسان کسی ایسے مشترک اصول کی طرف رجوع کرے جو اسے جوڑ سکے۔ ’ایک خدا، ایک انسان، ایک دین‘ کا تصور اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ یہ تصور نہ صرف بین المذاہب مکالمے کو فروغ دیتا ہے بلکہ نسلی، لسانی اور تہذیبی تفریق کی اخلاقی بنیادوں کو بھی کمزور کرتا ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ خدا کی وحدت، انسان کی مشترک اصل اور دین کی بنیادی یکسانیت کوئی جذباتی نعرہ نہیں بلکہ تاریخ، مذہب، عقل اور جدید تحقیق... سب کا مشترکہ نتیجہ ہے۔ اگر انسان اس حقیقت کو سنجیدگی سے تسلیم کر لے تو مذہب تصادم کا نہیں بلکہ ہم آہنگی، اخلاق اور انسانی وقار کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ شاید فکری انتشار کے اس دور میں یہی وہ راستہ ہے جس کی آج کی منقسم دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔