یوم شہادت کے موقع پر: عظیم مجاہد آزادی شہید نواب احمد علی خاں بلوچ... شاہد صدیقی علیگ

اپنے آپ کو حقوق انسانی کے علمبردار کہنے والے سفید فام فرنگیوں نے 24 جنوری کو نواب احمد علی خاں کی نعش کو پھانسی کے پھندے سے اتار کر بغیر تدفین کی تقریب کے لال قلعہ کی خندق میں پھینک دیا۔

<div class="paragraphs"><p>شہید نواب احمد علی خاں بلوچ</p></div>
i
user

شاہد صدیقی علیگ

دہلی ایجنسی کے ماتحت جو 7 ریاستیں تھیں، ان میں فرخ نگر بھی شامل تھی۔ اس کی بنیاد دلیل خاں عرف فوجدار بلوچ نے رکھی تھی، جس کے فرما روا شہید نواب احمد علی خاں بلوچ نے حب الوطنی کے نشہ سے سرشار ہو کر پہلی ملک گیر جنگ آزادی 1857ء میں مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا ایسا ساتھ دیا، جس کی قیمت انہیں اپنی جان دے کر چکانی پڑی۔

نواب احمد علی خاں کی ولادت نواب یعقوب علی خاں فرخ نگر کے گھر 1823 میں ہوئی، جو مسند ریاست پر 1850ء میں متمکن ہوئے۔ نواب صاحب کمپنی حکام کی بہیمیت اور بربریت دیکھ کر بے چین ہو اٹھے اور جابر تاجران فرنگ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے مناسب موقع و محل کا انتظار کرنے لگے، لیکن جلد ہی وہ گھڑی آگئی جب 11 مئی کو میرٹھ کے دیسی انقلابی سپاہیوں نے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو محاربہ عظیم کی زمام سونپ کر کمپنی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اس کی خبر سنتے ہی فرخ نگر کے حکمراں کی بانچھیں کھل گئیں۔ انہوں نے 12 مئی کو بہادر شاہ کی خدمت میں پیش ہو کر اشرفی نذر کی اور انہیں ہر ممکنہ تعاون کرنے کا یقین دلایا۔ حریت پسند عوام اور سپاہیوں نے مل کر فرخ نگر سے انگریز حکام کو بھگا دیا اور ان کا خزانہ لوٹ لیا۔ نواب صاحب نے آزاد مملکت کا اعلان کر دیا۔ بہادر شاہ ظفر کی التجا پر سپاہی، سامان حرب اور کھانے کی اشیا بھیجی گئیں۔ نواب صاحب مسلسل دربار سے خط و کتابت کرتے رہے اور متعدد محاذوں پر انقلابی فوجوں کی کمان بھی سنبھالی۔ لیکن بعض وجوہات اور غداروں کے سبب جنگ میں ہندوستانی انقلابیوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔


الحاصل 20 ستمبر 1857ء کو انگریزی فوج ہندوستانی غدار ریاستوں کی بدولت دلی میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ بہادر شاہ ظفر اور ان کے فرزندان نے انگریز افسران کے سامنے جس طرح بغیر لڑے خود سپردگی کی، اس کا نواب صاحب کو بے حد رنج و ملال ہوا۔ دلّی روندنے کے بعد انگریز افسران نے انقلابیوں کی مدد گار ریاستوں ں پر یلغار کی حکمت عملی وضع کی جس میں غدار ہندوستانی ریاستوں کے سپاہی پیش پیش تھے، جنہوں نے اپنی تلوار کی پیاس بے گناہ ہندوستانیوں کے خون سے بجھانے میں کوئی عار محسوس نہ کی۔

انگریز حکام پر نواب صاحب کا اتنا رعب غالب تھا کہ وہ 6 ماہ تک فرخ نگر ریاست میں قدم رکھنے کی ہمت نہیں کر سکے تھے۔ آخرکار انگریزی فوج نے اپنے معاون ہندوستانی فوجیوں کے ساتھ فرخ نگر پر حملہ کیا، جس کا فرخ نگر کے انقلابیوں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ تاہم حالات کے پیش نظر اور فرخ نگر کے اہلیان کو بچانے کے لیے دل برداشتہ نواب صاحب نے 3 نومبر 1857ء کو ہتھیار ڈال دیے۔ انگریز حکام موصوف کو حراست میں لے کر دلی لے گئے، جنہوں نے نواب صاحب کی تضحیک کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہیں گلی کوچوں میں پیدل گھمایا گیا۔ بعد ازاں 12 جنوری 1858ء کو ملٹری کمیشن کے سربراہ بریگیڈیر شاورز کے روبرو پیش کیا گیا۔ ان پر باغیوں کا ساتھ دنیے، خط و کتابت کرنے، ان کی اسلحہ اور دیگر ضروری چیزوں سے مدد کرنے کے علاوہ ایک برطانوی علاقہ کے پرگنہ بھورا پر ناجائز قبضہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔ ان الزامات کی پاداش میں تمام جائیداد ضبط اور طے شدہ سزائے موت سنائی گئی۔ اس فیصلے پر عمل آوری کرتے ہوئے نواب صاحب کو 23 جنوری 1858ء کو شام 4 بجے بمقام چاندنی چوک دلی میں سرعام تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔


اپنے آپ کو حقوق انسانی کے علمبردار کہنے والے سفید فام فرنگیوں نے 24 جنوری کو نواب احمد علی خاں کی نعش کو پھانسی کے پھندے سے اتار کر بغیر تدفین کی تقریب کے لال قلعہ کی خندق میں پھینک دیا۔ اس وحشیانہ برتاﺅ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ مشہور و معروف شاعر مرزا غالب فرخ نگر کے بارے میں علاﺅالدین احمد خاں علائی کو لکھتے ہیں کہ ’’قصہ کوتاہ قلعہ اور جھجر اور بہادر گڑھ اور بلب گڑھ اور فرخ نگر کم و بیش 30 لاکھ روپے کی ریاستیں مٹ گئیں۔ شہر کی عمارتیں خاک میں مل گئیں۔ ہنر مند آدمی کیوں پایا جائے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔