بلاشبہ عید کی خوشیوں سے فیضیاب ہوں، ساتھ ہی اپنے بھائیوں کو بھی یاد رکھیں

قابل مبارک باد ہیں وہ لوگ جنھوں نے اپنے رمضان کو اس طرح گزارا کہ ان کے گیارہ مہینے بھی سنور گئے۔

عید الفطر
عید الفطر
user

محمد مشتاق تجاروی

عید خوشیوں کے بانٹنے کا تہوار ہے۔ عید کہتے ہی اس خوشی کو ہیں جو لوٹ لوٹ کر آتی ہو اور ہر سال آتی ہو۔ اللہ کا شکر ہے کہ امسال پھر عید آ گئی۔ عید کا موقع اگرچہ صدیوں سے خوش ہونے اور خوشی بانٹنے کا موقع رہا ہے، لیکن اس سال کی عید کچھ مخصوص ہے۔ اس لیے کہ گزشتہ دو سالوں سے لگاتار کورونا کی وبا پھیلی ہوئی تھی۔ اس وبا کے چلتے عید بھی چپکے سے آئی اور چپکے سے چلی گئی۔ کورونا کی وبا کے مہیب سائے ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئے ہیں، تاہم بڑی حد تک قابو میں ہیں۔ اس لیے یہ عہد مخصوص ہے کہ اس میں نسبتاً خوشیاں بانٹنے کا موقع زیادہ ہے۔ اگرچہ اب بھی کورونا کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے اس کی سخت ضرورت ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ جیسے سماجی فاصلے رکھنا، غیر ضروری ہاتھ ملانے سے پرہیز کرنا اور زیادہ بھیڑ جمع کرنا وغیرہ۔

کورونا کی احتیاطی تدابیر کے ساتھ عید منائیں اور اس میں خاص طور پر اپنے ان بھائیوں کا زیادہ خیال کریں جنھیں کورونا کے ایام میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جن کے عزیز رخصت ہو گئے، یا جن کے کاروبار متاثر ہوئے۔ اس لیے کہ عید تو نام ہی اس کا ہے کہ اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے اور اپنے بھائیوں کو خوشیوں میں شریک کیا جائے۔


رمضان المبارک کے تعلق سے ایک صدقہ واجب ہوتا ہے جو صدقۃ الفطر کہلاتا ہے۔ یہ صدقہ اگرچہ رمضان المبارک کے بارے میں ہے لیکن یہ واجب ہوتا ہے عید کی صبح اور عید کی نماز سے پہلے پہلے اس کا ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس صدقہ کے دو مقصد ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ اس کے ذریعے انسان کے روزے میں جو کمی رہ جاتی ہے اللہ تعالیٰ اس کو دور کر دیتا ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ مساکین و فقرا کو عید کی خوشیوں میں شریک کرنے کا ذریعہ ہے۔ اگر غائر نظر سے دیکھا جائے تو اللہ رب العزت کی حکمت و مصلحت یہ ہے کہ عید کے دن سب لوگ خوش ہوں اور سب آسودہ ہوں۔ اس لیے یہ صدقہ واجب فرمایا۔ یہ دراصل عید کی خوشیوں کو بانٹنے کا ایک طریقہ ہے۔

رمضان المبارک کا مہینہ بڑی فضیلوں اور برکتوں کا ہے۔ اس ماہ مبارک میں اللہ کی نعمتیں ایسے برستی ہیں جیسے آندھی میں پیڑ برستے ہیں۔ فرائض کا ثواب ستر گنا ہو جاتا ہے۔ نوافل کا ثواب فرائض کے برابر ہو جاتا ہے۔ شرکش شیاطین قید کر دیئے جاتے ہیں۔ اس ماہ مبارک میں ایک ایسی رات آتی ہے جس میں تقدیر کے فیصلے بیان کیے جاتے ہیں۔ وہ رات ایسی بابرکت اور سراپا خیر و سلامتی ہوتی ہے کہ وہ ایک ہی رات ایک ہزار مہینوں سے افضل ہوتی ہے۔ اس رات حضرت جبرئیل اور دوسرے فرشتے خصوصی طور پر دنیا میں تشریف لاتے ہیں۔ اسی مبارک رات میں دنیائے انسانیت پر اللہ رب العزت نے سب سے بڑا انعام فرمایا تھا۔ یعنی قرآن مجید کو نازل فرمایا تھا۔ ان فضائل کے علاوہ اس ماہ مبارک کے اور بھی بے شمار فضائل ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ یہ پورا مہینہ شہر المواساۃ یعنی غم خواری کا مہینہ کہلاتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ اس پورے مہینہ میں ہمدردی اور غم خواری میں اضافہ ہونا چاہیے۔


رمضان المبارک کے بعد جو پہلی رات آتی ہے، جسے عرف عام میں چاند رات کہا جاتا ہے، روایتوں میں اس کو ’لیلۃ الجائزہ‘ یعنی اجرت کی رات کہا جاتا ہے۔ یعنی اس رات میں اللہ رب العزت اپنے روزہ دار بندوں کو ان کی مہینہ بھر کی عبادت کا بدلہ دیتے ہیں۔ لیلۃ الجائزہ تو گزر گئی، روزہ داروں نے اپنے رب کی رحمتوں سے حسب توفیق حصہ پا لیا، اب اس کا شکرانہ یہ ہے کہ عید کے دن کی خوشیاں مزید بانٹیں، ضرورت مندوں کی ضرورت کا خیال رکھیں، محتاجوں کی حاجت روائی کریں، بلاشبہ خود بھی عید کی تمام خوشیوں سے فیض یاب ہوں، یعنی نئے کپڑے پہنیں، خوشبو میں خود کو بسا لیں، سوئیوں کے لچھے کی دعوت اور مزعفر و شیر کے خوش ذائقہ نوالوں سے فیض یاب ہوں، لیکن اپنے بھائیوں کو بھولیں نہیں۔ ان کو بھی یاد رکھیں اور چاہے خود کو کچھ قربانی بھی دینی پڑے لیکن اس کی پوری کوشش ہو کہ آپ کے گھر کی خوشی آپ کے کسی بھائی کے گھر تک ضرور پہنچے۔

عیدالفطر رمضان المبارک کی رحمتوں، برکتوں اور عبادتوں کے صلے میں آئی ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ مبارک موقع گویا نئے سال کا آغاز ہے۔ مخصوص نیکیوں کا موسم رخصت ہوا، اب دراصل اس ماہ مبارک کے دوران حاصل کی ہوئی تربیت کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہے۔ بعض بزرگوں سے سنا ہے کہ انسان کا رمضان المبارک کا مہینہ جیسا گزرتا ہے، بقیہ گیارہ مہینے بھی اس جیسے ہی گزرتے ہیں۔ یعنی اس ماہ مبارک میں اللہ رب العزت کے ساتھ جیسا تعلق استوار کر لیا ویسا ہی تعلق بقیہ گیارہ مہینوں میں باقی رہے گا۔


قابل مبارک باد ہیں وہ لوگ جنھوں نے اپنے رمضان کو اس طرح گزارا کہ ان کے گیارہ مہینے بھی سنور گئے۔ البتہ جو لوگ اس میں کسی حد تک محروم رہ گئے ان کے لیے دوسری خوش خبری ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ آج ہی یہ نیت کریں کہ ان گیارہ مہینوں کو اس طرح گزاریں گے کہ جب اللہ رب العزت اپنے فضل سے اگلا رمضان نصیب فرمائے تو وہ ایسے بسر ہو جیسے اس کے بسر کرنے کا حق ہے۔ یہ نیت رکھیں گے اور سال بھر اس کی فکر کریں گے تو ان شاء اللہ اس ماہ مبارک کی پوری نعمتوں سے بہرہ اندوز ہونے کا موقع ملے گا۔

سب سے ضروری جو کام ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ رب العزت کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنا، اور دوسرا اپنی کمیوں اور کوتاہیوں پر توبہ و استغفار کرنا۔ شکر کرنے سے اس کی نعمتوں میں اضافہ ہوگا اور استغفار کرنے سے گناہ معاف ہوں گے اور اس کے فضل کی بارش ہوگی۔ اور شکر و توبہ کا موقع جس طرح رمضان المبارک میں تھا، آج بھی ہے اور سال کے بقیہ ایام میں بھی رہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنی نعمتوں کا صحیح ادراک کرائے تاکہ دل کی گہرائی سے اس کا شکریہ ادا کریں اور رمضان المبارک اور عید الفطر کی مبارک ساعتوں سے ہم سب کو پھر مستفید فرمائے۔

مفتی محمد مشتاق تجاروی، اسسٹنٹ پروفیسر، جامعہ ملیہ اسلامیہ

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔