اب وہ پہلے سی ایودھیا کوئی مانگے تو کہاں سے لاؤں؟

ایودھیا کی ایک دکان پر وارننگ دی گئی کہ موبائل فون غائب ہو رہے ہیں اور جیبیں بھی کٹ رہی ہیں، احتیاط ضروری ہے۔ پھر دکاندار بھی ہنستے ہیں، بتایئے رام للا آ گئے، پھر بھی یہ سب ہو رہا ہے!

<div class="paragraphs"><p>ایودھیا کا منظر / Getty Images</p></div>

ایودھیا کا منظر / Getty Images

user

انیکیت آنند

ایودھیا میں تقریباً دو سال قبل میں پہلی بار آیا تھا۔ اس وقت یہ ایک روایتی شہر تھا اور یہاں زمانہ قدیم کی جھلک نظر آتی تھی۔ گلیاں خوب تھیں، سڑکیں بھی قدرے تنگ تھیں۔ گھر چھوٹے بڑے ہر طرح کے تھے، ہر رنگ کے تھے اور لوگ بھی ہر قسم کے تھے، جو بات کرنے کو تیار رہتے تھے۔ ہنومان گڑھی روڈ پر ایک مسلمان بزرگ درزی کی دکان تھی۔ ہماری بات چیت کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ کئی سالوں سے رام للا کے کپڑوں کی سلائی کر رہے ہیں۔ ان کا گھر بابری مسجد کے پیچھے کہیں تھا۔ کسی زمانہ میں ان کے والد مسجد میں نماز پڑھا کرتے تھے۔

کیا آپ رام للا کو مانتے ہیں؟ میں نے قدرے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔ انہوں نے مسکرا کر جواب دیا، اس میں ماننے کی کیا بات؟ وہ راجہ ہیں ہمارے، ہم سب کے۔ ہم سب اس کے سائے میں رہتے ہیں۔ اس جواب پر مجھے علامہ اقبال کی یاد آ گئی۔ ایک زمانے میں انہوں نے اپنی زبان میں رام کو ’امامِ ہند‘ کہا تھا۔

بہرحال، اس مرتبہ جب پران پرتشٹھا سے دو دن قبل ایودھیا کا دورہ کیا تو بزرگ ٹیلر سے ملاقات نہیں ہوئی۔ ممکن ہے کہ انہوں نے کہیں اور دکان کھول لی ہو یا پھر ان کی بینائی نے ساتھ چھوڑ دیا ہو! پھر اب رام للا درزی کے سلے کپڑے پہنیں گے بھی نہیں! اب وہ ڈیزائنر کپڑے پہنیں گے۔ ایودھیا بھی اب روایات میں گھرا قدیم شہر نہیں رہا۔ ایودھیا اب ایک ڈیزائنر شہر ہے۔ گلیاں تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔ سڑکیں فور لین ہو گئی ہیں۔ فلائی اوور تعمیر ہو گیا ہے۔ یہ سب تو ترقی ہے، تو کیا یہ غلط ہے؟ کیا ترقی نہیں ہونی چاہیے؟ آخر ایودھیا ویٹیکن سٹی بننے جا رہا ہے۔

اس بار دورہ ایودھیا کے دوران کچھ ایسا ہی محسوس ہوا۔ مثال کے طور پر سڑکیں کشادہ کرنے کی کوشش میں مکانات منہدم کر دئے گئے۔ کئی گھروں کے سامنے والے حصے اب بھی ٹوٹے پڑے ہیں۔ 60 یا 65 سالہ رام وتی نے یہ پوچھنے پر کہ ’کیا مکان گرانے کا معاوضہ حاصل ہوا‘، جواب ملا کہ مکان نزول کی زمین پر تعمیر کیا گیا تھا، لہذا معاوضہ نہیں دیا جائے گا!


تو اب گھر کیسے بنائیں گی؟ رام وتی ٹوٹی ہوئی بالکونی کی طرف دیکھتی ہے اور کہتی ہے، اسے ٹھیک نہیں کروائیں گے۔ بچے دیکھیں گے بعد میں۔ ہمارا گھر ٹوٹ گیا، کوئی فرق نہیں پڑتا، رام للا کا تو بن گیا! اس بار رام وتی مسکرا دیتی ہیں۔

اس بار ایک اور خاص چیز دیکھنے کو ملی۔ کبھی کہا جاتا تھا کہ ہندوستان ایک تنوع کا ملک ہے، جس میں مختلف ثقافتیں اور رنگ ہیں۔ لیکن کچھ لوگ مختلف اقسام کو پسند نہیں کرتے۔ اسی لیے تمام گھر اور دکانیں ایک ہی رنگ میں رنگی ہوئی ہیں۔ ہلکا زعفرانی رنگ۔ کھڑکیوں اور دروازوں کے خاکے گہرے زعفرانی ہیں۔ کچھ مکانات یا دکانیں مختلف رنگوں کی بھی نظر آتی ہیں۔ گویا ایک واضح تقسیم کی لکیر ہے کہ وہ ہم میں شامل نہیں ہیں، ہم ان میں شامل نہیں ہیں۔

لوگوں نے اپنی دکانوں اور گھروں پر علامتیں بنا رکھی ہیں۔ رام اور بجرنگ بلی کے مجسمے، ترشول اور تلک کی علامت، سبھی بڑی بڑی۔ یہ ایک نئی انسان ساختہ ایودھیا ہے جس میں ہر جگہ مذہب ہے۔ پولیس بوتھ اور پی اے سی بینڈ کے گانوں میں بھی۔ رام للا آئیں گے، ہندو راشٹر بنائیں گے جیسے گانے رپیٹ موڈ پر چل رہے تھے۔ شاید اب بھی بج رہے ہوں گے۔ ان کی تیز آواز میں مسجد کی اذان دب گئی تھی، مندر کی گھنٹیاں بھی!

دریائے سریو کے کنارے ایک فوٹو جرنلسٹ سے ملاقات ہوئی۔ کولکاتا سے آیا تھا اور ماگھ کے مہینے میں مقدس ندیوں کے کنارے ہونے والے اشنان اور رسومات کی تصویر کشی کر رہے تھے۔ پہلے وہ پریاگ راج میں تھے، اب ایودھیا میں ہیں۔

میں نے پوچھا تو پھر کیا کھینچا؟ انہوں نے جواب دیا، کیا کھینچنا ہے؟ کئی پرانی عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ گنبد تمام ہوٹلوں کے پیچھے چھپ گئے۔ تمام مندر ایک ہی رنگ میں ہیں۔ پوری اسکائی لائن غائب ہے۔

اوہ۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ایودھیا نہ صرف زمین بلکہ آسمان سے بھی غائب ہے۔ ظاہر ہے جب ہوٹل بنائے گئے تو پرانی عمارتیں جو ایودھیا کی شان ہوا کرتی تھیں، پیچھے چھپ گئیں۔ کئی گر گئیں اور کئی کو گرا دیا گیا۔ فوٹوگرافر نے مزید کہا، کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھایا، ابھی یہاں سب کچھ بند ہے!‘

بند یعنی گوشت اور مچھلی بند! یہاں تک کہ انڈوں کے ٹھیلے بھی نظر نہیں آ رہے۔ شاید یہ سب کچھ پہلے بھی فروخت نہ ہوتا ہو یا پران پرتشٹھا کے پیش نظر بند کر دیا گیا ہوا لیکن ایک نئے بنے ہوئے فور اسٹار ہوٹل میں بٹر چکن دستیاب تھا اور لوگ کھا بھی رہے تھے۔ پھر سڑک پر کیا مسئلہ ہے؟ یہ سوال کسی سے پوچھ نہیں سکتے تھے تو خود ہی جواب تلاش کر لیا۔ دیکھئے، راجو، بلو یا اسماعیل اگر ٹھیلے پر انڈے بیچتے ہیں تو اسے غیر اخلاقی کہا جائے گا۔ فور اسٹار ہوٹل والے چکن بیچیں گے تو کاروبار کہلائے گا!


ایک مذہبی سیاح سے گفتگو ہوئی۔ انہوں نے بڑی دلچسپی سے پوچھا لکھنؤ کتنی دور ہے؟ وہ جنوبی ہندوستان سے آئے تھے اور ٹندے کباب کھانا چاہتا تھے۔ میں نے کہا، شاید اگلی بار آپ آئیں تو آپ کو ٹنڈے یہیں ایودھیا میں مل جائیں! سیاح نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے، ایودھیا میں کباب کیسے بیچ سکتے ہیں؟ میں نے کہا، دیکھئے، ڈومینوز کھلا ہے، یہ چکن پیزا بیچ رہا ہے، تو ٹنڈے کباب کیوں نہیں بیچ سکتا؟

ایک اور فوٹوگرافر سے ملاقات ہوئی۔ وہ اخبار کے فوٹوگرافر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 6 دسمبر کو بھی ایودھیا میں تھے۔ اس دن کا منظر بیان کرنا مشکل ہے۔ کسی طرح جان بچ گئی تھی۔ کارسیوک کیمرے توڑ رہے تھے۔ ہمیں لگا سر ٹوٹ جائے لیکن کیمرہ نہ ٹوٹے! کیمرہ ٹوٹ جاتا تو مرمت کیسے کراتے؟

پھر، سر ٹوٹا آپ کا یا بچا؟ انہوں نے کہا ٹوٹا نہیں، ہمارا بچ گیا۔ ایک دوست کا ٹوٹ گیا تھا۔ اسے ایک اینٹ اٹھانی تھی اور کہہ رہا تھا کہ وہ اسے اماں کو دے گا، جو اسے مندر میں رکھیں گی۔ پھر ہم نے خود ہی اس کے لیے اینٹ اٹھا لی۔ مرہم پٹی بھی کرائی۔ وہ فوٹوگرافر مسلمان تھا!

میں نے اگلا سوال کیا کہ 32 سال پرانی ایودھیا اور موجودہ ایودھیا میں کیا فرق ہے؟ انہوں نے کہا بہت مختلف ہے۔ تمام مندر تباہ ہو چکے ہیں۔ پچھلی بار ہم آئے تھے، چھوٹے مندروں کی قطار تھی، اس بار ہم نے بہت تلاش کیا لیکن نہ ملے۔ میں نے پھر پوچھا، آپ نے مسجد کو گراتے دیکھا تھا، اب مندر بنتے دیکھا ہے؟ آپ کو کیا فرق محسوس ہوا؟ انہوں نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ گھر چلانا اس وقت بھی مشکل تھا اور آج بھی مشکل ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ ایودھیا میں کچھ پان کی دکانیں بچ گئی ہیں۔ اگر آپ پان کی دکان پر تھوڑی دیر ٹھہر جائیں تو شہر کا حال معلوم ہوجاتا ہے۔ اس دکان پر بھی ایسا ہی ہوا! بہت کچھ سننے اور سمجھنے کو مل گیا۔

ایودھیا میں بازاروں میں خوشحالی آئی ہے۔ بڑے بڑے برینڈز آ گئے ہیں۔ ریٹیل انڈسٹری، فوڈ انڈسٹری نے ترقی کی ہے۔ مقامی لوگوں کو بھی کام مل گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ لوگ اس سے خوش ہیں۔ لوگوں نے روایت بھی برقرار رکھی ہے اور وہ ابھی تک آپ کو بیٹھنے دے رہے ہیں۔ موبائل چارج کرنے کی اجازت ہے۔ وہ وارننگ بھی دے رہے ہیں، ایک دکاندار کا کہنا ہے کہ بہت سے موبائل فون غائب ہو رہے ہیں اور جیبیں بھی کٹ رہی ہیں۔ احتیاط ضروری ہے۔ پھر وہ بھی ہنستے ہیں، بتایئے رام للا آ گئے، پھر بھی یہ سب ہو رہا ہے!


لوگوں میں ہچکچاہٹ کا احساس ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ ترقی ہو رہی ہے، نظر بھی آ رہی ہے لیکن کیا یہ قائم رہے گی؟ ایک بڑے ہوٹل کے منیجر کا کہنا ہے کہ سن رہے ہیں کہ تاج بنے گا۔ اوبرائے نے بھی زمین لے لی ہے لیکن اب اوبرائے والے ہوٹل بنانے سے انکار کر رہے ہیں۔ کیوں؟ منیجر صاحب نے بتایا کہ دیکھو، ابھی وی آئی پیز کا جلسہ ہے، مشہور شخصیات آ رہی ہیں، یہ سب کچھ کچھ دیر تک جاری رہے گا لیکن اس کے بعد ایودھیا معمول کے دنوں میں واپس آ جائے گی۔ لوگ درشن کے لیے آئیں گے لیکن ان میں متوسط ​​طبقے کے لوگ زیادہ ہوں گے۔ متوسط ​​طبقہ اوبرائے یا تاج میں نہیں رہے گا۔ وہ دھرم شالوں یا سستے ہوٹلوں کی تلاش کریں گے۔

کچھ الجھن بھی ہوئی کہ ایودھیا کی ترقی مذہبی شہر کی طرح ہو رہی ہے یا کاروباری شہر کی طرح؟ پھر یاد آیا کہ ارے ایودھیا تو ویٹیکن سٹی بن رہا ہے!

لیکن یہ اور بھی الجھانے والی بات ہے کیونکہ ویٹیکن سٹی ایک شہر نہیں بلکہ ایک ملک ہے۔ شاید سب سے چھوٹا ملک۔ ایک ایسا ملک جس کی اپنی حکومت اور انتظامیہ ہو۔ کیا ایودھیا میں بھی ایسا ہوگا؟ ویٹیکن سٹی کا اپنا آئین ہے، وہاں بین الاقوامی قوانین پر عمل کیا جاتا ہے۔ جبکہ ایودھیا میں؟ ویٹیکن سٹی کی کل آبادی 700 یا 800 کے درمیان ہے اور ایودھیا کی؟ عیسائیت کی اعلیٰ ترین شخصیت پوپ خود ویٹیکن سٹی میں رہتے ہیں۔ جبکہ ہندو مذہب کی اعلیٰ ترین شخصیت شنکراچاریہ ایودھیا کی پران پرتشٹھا تقریب میں تشریف بھی نہیں لائی!

کیا ہم ویٹیکن سٹی میں رہ سکتے ہیں؟ نہیں۔ صرف وہی لوگ رہ سکتے ہیں جو کسی نہ کسی طرح وہاں کام یا سیکورٹی کا حصہ ہیں۔ کیا ہم ایودھیا میں رہ سکتے ہیں، بالکل رہ سکتے ہیں۔ کیا ہم ویٹیکن سٹی میں بطور سیاح رہ سکتے ہیں۔ نہیں، وہاں کوئی ہوٹل یا گیسٹ ہاؤس نہیں ہیں۔ آپ وہاں رات نہیں گزار سکتے لیکن ایودھیا میں دن رات ہوٹل کھل رہے ہیں۔ آپ ویٹیکن سٹی میں شراب نہیں پی سکتے۔ ایودھیا میں شراب کی دکانیں ہیں، ہوٹل میں بار بھی ہے، بس ابھی تک لائسنس نہیں ملا ہے۔

شاید ایودھیا معیشت کی سطح پر ویٹیکن سٹی جیسا بن جائے؟ لیکن ویٹیکن سٹی میں کوئی معیشت نہیں ہے۔ وہاں کے اخراجات سرکاری طور پر ٹکٹوں، ڈاک ٹکٹوں اور علامات کی فروخت سے ادا کیے جاتے ہیں لیکن کئی جگہوں سے رقم غیر اعلانیہ طور پر آتی ہے۔ وہاں کاروبار نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

اس طرح کے کئی سوال ہیں لیکن ایودھیا فی الحال سوچ نہیں رہی ہے۔ ایودھیا میں کوئی تھنک ٹینک نہیں ہے۔ ایودھیا صرف محسوس کر رہی ہے۔ جوش، خوشی اور جم غفیر۔


شام ڈھل چکی تھی۔ سریو کے کنارے کچھ چراغ جل رہے تھے۔ میں نے ایک جوڑے سے پوچھا جو مہاراشٹر سے آیا تھا کہ انہیں رام للا کیسا لگا؟ اس نے کہا ساوتھ انڈین لگ رہا ہے، شمالی ہند جھلک کم نظر آتی ہے۔ یوپی میں رہنے والے ایک جنوبی ہندوستانی پروفیسر سے ملاقات ہوئی۔ وہ بہت خوش تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اب ہندو محفوظ ہیں۔ جب میں نے پوچھا کہ کون محفوظ ہے تو کہنے لگے مسلمانوں سے۔ میں ان سے پوچھنا چاہتا تھا کہ جس سیاستدان نے 90 کی دہائی میں ممبئی میں آپ کے جنوبی ہندوستانیوں کی زندگی اجیرن کر دی تھی کیا وہ مسلمان تھا؟

دانستہ یا نادانستہ ایک احساس پورے ایودھیا میں تیر رہا تھا۔ عقیدت اور احترام سے بڑا احساس۔ یہ احساس کہ ہندوستان ایک ہندو راشٹر بنتا جا رہا ہے۔ ہندو ایک ہندو راشٹر میں امن سے رہیں گے۔ کہاں کے ہندو؟ جواب تھا، ایودھیا کے۔ شمالی ہندوستان کے۔ پورے ملک کے۔

منی پور سے بھی؟ ایودھیا میں رام مندر بن چکا ہے لیکن کیا ایودھیا اور منی پور کے درمیان کوئی رام سیتو بنے گا؟

مجھے فیض احمد فیض صاحب کی وہ سطریں یاد آ رہی ہیں جہاں انہوں نے کہا تھا ’’مجھ سے پہلے سی محبت میری محبوب نہ مانگ۔‘‘ میں سوچ رہا ہوں، اب اگر کوئی پہلے جیسی ایودھیا بھی مانگے تو کہاں سے لاؤں؟

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔